آہ ، اسلام الحق (معروف خطاط)
26 اپریل 2018



انسان کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے بھی رونما ہو تے ہیں کہ جن کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا ۔ماں باپ کی وفات کے بعد قریبی عزیزو اقارب ہی زندگی بھر کا اصل سرمایہ تصور کئے جاتے ہیں۔اور خاص کر وہ رشتہ دار جن کے ہاتھوں میں ہم نے پروش پائی ہو ، اپنا بچپن گزارا ہو ، ہمارے ناز نخرے انہوں نے اٹھائے ہوں ، جن کے غصے میں بھی اصلاح اور محبت کا عنصر غالب رہا ہو ۔ان کا اچانک چھوڑ جانا ناقابل برداشت صدمہ ہوتا ہے ۔بلاشبہ انکا خلا پھر کبھی دوبارہ پر نہیں ہوتا اور زندگی میں کمی کا احساس ہمیشہ خلش بن کر درد کو کم نہیں ہونے دیتا۔میرے چچا جان اسلام الحق ( معروف خطاط )12اپریل کی صبح 6.30بجے انتقال کر گئے (اناللہ و انا الیہ راجعون )۔ والد محترم جناب اکرام الحق 2003میں دنیا فانی سے رخصت ہوگئے تھے انکی وفات کے بعد چچا جان کے ساتھ میرا تعلق مزید گہرا ہوا اور والدہ کی وفات کے بعد تو یہ تعلق اور بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ۔ میرا معمول بن گیا تھا کہ جمعتہ المبارک کے دن والدین کی قبروں پر فاتح خوانی کے بعد چچا جان کی خدمت میں حاضر
ہوتا اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارتا ۔ماضی کے واقعات سنتا ، تازہ ترین سیاسی صورت حال پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ۔بیشتر معاملات میں وہ رہنما ئی بھی کیا کرتے تھے ۔ خطاط ہونے کے ناتے دوست احباب کا ایک وسیع حلقہ رکھتے تھے ۔ لوگوں کو قائل کرنے کا فن ان کو بخوبی آتا تھا ۔ اسلام صاحب شوگر کے ساتھ ساتھ ہارٹ کے مریض بھی تھے مگر کبھی ہم نے ان کو اپنے اوپر بیماری کو سوار کرتے نہیں دیکھا ۔ انتہائی صابر و شاکر طبیعت کے مالک تھے ۔ مسجد سے جنون کی حد تک لگاؤ ہونے کی وجہ سے شدید بیماری کی حالت میں جب ڈاکٹروں نے حرکت کرنے پر بھی پابندی لگا دی تو مسجد ضرور جایا کرتے ۔تہجد گزارہونے کے ساتھ ساتھ ذکر و اذکار ان کی زبان پر ہمیشہ رہا ۔ روحانیت کی طرف بھی مائل تھے ۔ جو سخت مزاجی جوانی میں تھی وہ وقت کے ساتھ ساتھ چلتی بنی ۔ خاص کر اس وقت جب ان کا 18سالہ جوان بیٹا’’ گلریز اسلام ‘‘ بجلی کے تاروں سے آنکھوں کے سامنے جاں بحق ہو گیا ۔بہت بڑا صدمہ تھا ۔اللہ صبر دینے وا لا ہے اور اس نے صبر دیا ۔
4دسمبرکو میں ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ اچانک تقریباً ساڑھے سات بجے شب، مجھے پھوپھو زاد بھائی حبیب احمد کا فون آیا کہ ماموں کی طبیعت خراب ہے فوری ہسپتال پہنچو ۔ میں نے گھر سے نکلتے ہوئے جلدی سے اپنے چھوٹے بھائی عرفان الحق کو فون کیا کہ چچا جان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے جلدی سے جناح ہسپتال پہنچے اور خود بھی جلدی سے ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا ۔کچھ ہی دیر میں جناح ہسپتال پہنچا تو وہاں پہلے ہی کزنز وغیرہ ان کے پاس موجود تھے اور چچا اسلام بیڈ پر بیٹھے حبیب بھائی کے ساتھ باتیں کر رہے تھے ۔ جناح ہسپتال کی ایمرجنسی سے انہیں وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔ڈاکٹرز نے کچھ ٹیسٹ وغیرہ کروانے کا کہا تھا ۔ باتوں سے چچا بڑے ہشاش بشاش لگ رہے تھے اور چہرے سے بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ بیمار ہیں ۔ لیکن HBکا ٹیسٹ کرنے کے لئے جیسے ہی نرس نے خون کا سیمپل نکالا تو ان کی طبیعت اچانک شدید خراب ہو گئی ۔سانس پھول گئی ۔ ا ن کو ہارٹ کا مسئلہ تھا اور یہ مسئلہ چونکہ میری والدہ مرحومہ کو بھی تھا اس لئے میں فوری سمجھ گیا کہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔اس لئے میں نے حبیب بھائی کو بولا کہ وارڈ کی بجائے ان کو فوری طور پر ایمرجنسی لے کر چلیں ۔ جناح ہسپتال کی تیسری منزل سے ہم ان کو سٹریچر پر لٹاکر نیچے ایمرجنسی میں لے آئے ۔ پہلے تو ڈاکٹروں نے روایتی انداز میں یہ کہتے ہوئے ٹریٹمنٹ کرنے سے صاف انکار کر دیا کہ آپ وارڈ میں دوبارہ لے کر جائیں ہم ان کا علاج نہیں کریں گے۔یہ جنرل وارڈ کے مریض ہیں آپ انہیں ایمرجنسی میں کیوں لے کر آ گئے ہیں۔؟ چچا جان کی حالت مزید سیریس ہو چکی تھی ۔بہرکیف وارڈ سے ان کا ڈاکٹر انعام اللہ بھی پہنچ گیا اور اس نے ہنگامی طور پر ٹریٹمنٹ شروع کر دی ۔ان کے ساتھ دیگر ڈاکٹرز بھی آگے۔ چچا جان کی حالت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی یہاں تک کے ان کی HBکا لیول3فیصد تک پہنچ گیااور ڈاکٹرز نے ہمیں جواب دیتے ہوئے دعا کرنے کی تلقین کر دی ۔وہ رات بہت تکلیف دہ رہی ۔ خدا کی قدرت دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے جان بخشی اور چند دنوں بعد چچا جان گھر آگئے ۔مگر 18دسمبر کو ملنے والی رپورٹس میں یہ انکشاف ہوا کہ ان کو کینسر ہے اور اس بیماری کو Aplastic anemiaکہتے ہیں۔ اس بیماری میں جسم خون پیدا کرنا بند کر دیتا ہے۔ لہٰذا ان کو ہر ہفتے فریش خون لگایا جانے لگا ۔بون میرو ٹرانسپلانٹ نہ صرف مہنگا علاج ہے بلکہ ایسے وقت میں جب عمر 71برس ہو چکی ہو تو ڈاکٹرز آپریشن کا رسک نہیں لیتے ۔ اب جب تک انہیں اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تھی خون اور وائٹ بلڈ سیل لگتے رہنا تھے ۔
جب سے چچا جان کی طبیعت سیریس قسم کی ہو گئی تھی میں نے ان کے بیٹے جمشید اسلام کا نمبر ’’ موسٹ امپورٹنٹ ‘‘ بنا لیا تھا ۔ جب بھی اس کی کال آتی تو میری کوشش ہوتی کہ پہلی بل پر ہی اٹھا لوں تاکہ اگر کوئی ایمرجنسی ہے تو فوری رسپانس دیا جا سکے ۔12اپریل کی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا جب جمشید کی کال آئی(اس بار خلاف توقع جمشید خود بات کر رہا تھا جبکہ پہلے وہ فرحان یا جنید کو فون پکڑا دیا کرتا تھا)ابو کی طبیعت خراب ہے فوری ہسپتال پہنچو ، دوسری جانب سے جمشید کی آواز آئی ۔ نماز کے لئے گھر کے باقی افراد پہلے سے جاگ رہے تھے۔ میں نے کزن احد کو اپنے ساتھ لیا اور ہسپتال پہنچ گیا ، راستے میں حبیب بھائی اور ماموں زاد منیر احمدکو بھی فون کر دیا کہ وہ بھی جلدی آجائیں ۔جب ہسپتال پہنچا تو معلوم ہوا کہ خون reactionکر گیا ہے ۔ ان کے جسم پر خون کے چھوٹے چھوٹے دھبے بن چکے تھے ، ڈرپ لگی ہوئی تھی اور سانس اکھڑ رہی تھی ۔ہوش میں نہیں تھے ۔ایمرجنسی میں ہسپتال کے بلڈ بینک میں جا کر احد کا کراس میچ کروایا اور بلڈ کٹ لگا دی ۔ابھی بوتل آدھی بھی نہیں ہو ئی تھی کہ فرحان بھاگتا ہوا آیا اور بتایا کہ ابو کو سانس نہیں �آرہی ، میں فوری طور پر بھگتا ہوا ان کے پاس پہنچا ۔ ہارٹ کام کر رہا تھا جبکہ سانس کو جاری کرنے لئے ڈاکٹرز اپنی کو شش کرنے میں مصروف تھے ۔آدھا پونا گھنٹہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی مگر وہ جاں بر نہیں ہو سکے اور صبح ساڑھے چھ بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ نماز جنازہ میں لوگوں کی خطیر تعداد نے شرکت کی ۔ان کی قبر دادی جان کی قبر کے ساتھ بنی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میرے چچا کو جنت الفردوس میں بلند مرتبہ عطا کرے اور ان کی نیکیوں کو قبول کرے ۔بلاشبہ ہم سب نے اس دنیا سے اس دنیا جانا ہے جہاں پھر کسی کو موت نہیں آئے گی اور ہمیشہ کی زندگی ہے ۔


ای پیپر