بھارتی حکومت ہٹلر کے نظریے کی حامی ہے : وزیر اعظم
25 ستمبر 2020 (21:56) 2020-09-25

اسلام آباد: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے ویڈٰیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے  کہا کہ  شہریوں کو حقوق دینے کیلئےامن کی ضرورت ہے  اور   ہم خطے میں امن چاہتے ہیں اس کے علاوہ ہم کثیر الجہتی اشتراک سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہم نے عوام کی بہتری کیلیے کوششیں کیں۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان میں ہم نےسخت لاک ڈاؤن نہیں کیا اور پاکستان نےاسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی کیونکہ کورونانےدنیا بھر میں غریب اور نادار افراد کو سخت متاثر کیا اور دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ہماری خارجہ پالیسی کامقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات،مسائل کابات چیت سےحل ہے اور ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں جبکہ اسی صورت ہم عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو بھی پورا کر سکتے ہیں ، لیکن نئی مخالف طاقتوں کے درمیان اسلحے کی نئی دوڑ چل رہی ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں اڑائیں جا رہی ہیں جبکہ فوجی قبضے اور غیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے حق خودارادیت کو دبایا جا رہا ہے۔ 

 اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کشمیر کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور یہ میرا اہم مقصد ہے لیکن پہلے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں جنگ کے خلاف ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت دیگر ممالک نے کی جن میں خاص کر امریکا شامل تھا اور ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکا افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور فوج نے مجاہدین کی مدد کی جس کی معاونت دیگر ممالک نے کی جن میں خاص کر امریکا شامل تھا اور ان مجاہدین کو روس نے دہشت گرد کہا لیکن ہمارے لیے وہ فریڈم فائٹر تھے اور جب امریکا افغانستان میں آیا تو ہم اس کے اتحادی تھے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس جنگ میں ہمارے 70 ہزار افراد جاں بحق ہوئے اور معاشی حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ اپنے خطاب میں بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ باہمی مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار تھے اور میں نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستان میں کوئی شدت پسند تنظیم نہیں لیکن بھارت ہم پر الزام لگایا، ہم نے حکومت میں آنے کے بعد ان گروپس کے خلاف کارروائی کی اور اب وہاں اس طرح کے کوئی گروپس نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر گروپ کو دعوت دی تھی، یہ دہشت گرد گروپس کسی کے حق میں نہیں کیونکہ اس سے ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ اور کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ مبقوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو محصور کر دیا گیا۔  بھارت میں آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نظریے کی حامی ہے اور مودی کی وزارت اعلیٰ کے نیچے گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور مودی آر ایس ایس کے تاحیات رکن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو ہٹا لیا جائے گا اور لوگ باہر آئیں گے جہاں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں اس صورت میں خون ریزی کا خطرہ ہے۔

ان کا  مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں سیکڑوں سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے حتیٰ کہ جو بھارت نواز کشمیری رہنما تھے انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا گیا ، کشمیریوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا  اور پتہ نہیں انہیں کہا رکھا گیا ہے، کشمیری عوام کیا کریں گے؟ جب کرفیو ختم کیا جائے گا تو وہ باہر نکلیں گے اور ان پر قابض بھارتی فوجی گولیاں برسائیں گے، پہلے بھی ان کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال کیا جاتا رہا۔ 

انہوں نے مزید کہا تھا کہ کرفیو اٹھاتے ہی کشمیر میں قتل عام شروع ہونے کا خدشہ ہے اور وہاں پھر سے ایک پلواما جیسا واقعہ رونما ہوگا اور اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع نے ہم پر الزام لگایا ہے کہ 500 دہشت گرد بھارت میں داخلے کے لیے تیار ہیں، پاکستان ایسا کیوں کرے گا، جب ہم جانتے ہیں کہ اگر بھارت میں کچھ ہوا تو اس کے نتیجے میں کشمیری عوام پر ظلم بڑھے گا، کیا ہم کشمیر میں قابض 9 لاکھ فوجیوں کو یہ موقع فراہم کریں گے کہ وہ کشمیریوں کو مزید دبائیں۔


ای پیپر