حز بِ اختلا ف کی کل جما عتی کا نفر نس اور ردِ عمل
25 ستمبر 2020 (12:26) 2020-09-25

آیئے پہلے تو حز بِ اختلا ف کی کل جما عتی کا نفر نس کے ان نکا ت کا بلا تبصر ہ ذ کر کر لیتے ہیں جو ملک بھر کے سیا سی حلقوں میں بے چینی کا سبب بنے۔ان میں سرِ فہر ست سا بق وزیرِا عظم میاں نو ا ز شریف کا نا م آ تا ہے۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ ہما را مقا بلہ عمرا ن خان سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ ان کا مز ید کہنا تھا کہ ملک کی معیشت تبا ہ ہوچکی ہے،ریکا رڈ قر ضے لیئے گئے اور نا لا ئق حکو مت نے ہر مو قع پر یو ٹر ن لیا ہے۔ دھا ند لی کا حسا ب دینا ہو گا۔ میں وطن سے دور ہو تے ہو ئے بھی جا نتا ہو ں کہ ملک کن حا لا ت سے گذر رہا ہے او ر عوا م کن مشکلا ت کا شکا ر ہیں۔ پا کستان کو صحیح جمہو ری ریا ست بنا نے کے لیئے ضر ور ی ہے کہ ہم اپنی تا ریخ پرنظر ڈا لیں اور بے با ک فیصلے کر یں۔میں مو لا نا فضل الر حمٰا ن کی سو چ سے پو ری طر ح متفق ہو ں کہ ہمیں رسمی اور روا ئتی طر یقوں سے ہٹ کر اس کا نفر نس کو با مقصد بنا نا ہو گا ورنہ قو م کو ما یو سی ہو گی۔ قا رئین کرا م اس کا نفر نس کا احا طہ کر نے کے لیئے کا لم نہیں بلکہ صفحا ت در کا ر ہیں۔ لہذا یہا ں کا نفر نس کے اعلا میہ کے اس حصے کا ذ کر کر تے ہو ئے جس کا اعلا ن مو لا نا فضل الر حٰما ن نے اپنی تقر یر میں کیا، با ت کو آ گے بڑھا تا ہوں۔ تو اعلا میہ کے مطا بق اجلا س نے قرار دیا کہ مو جو دہ سلیکٹیڈ حکو مت کو مصنو عی استحکا م اسٹیبلشمنٹ نے بخشا ہے جس نے دھا ند لی کے ذ ر یعے عوا م پر مسلط کیا ہے۔

 قا رئین کرا م حز بِ اختلا ف کی کا نفر نس کے اگلے ہی روز وفا قی وزرا نے پر یس کا نفر نس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے سے اجتناب لازم ہے۔ حزب اختلاف کی کانفرس میں بعض رہنماؤں کی تقاریر میں جس طرح کے تاثرات کا اظہار کیا گیا اس کے بعد قومی اداروں کی تشویش قدرتی امر ہے اور حکومتی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے ریاست کانقطہ نظر سیاسی حلقوں اور عوام تک پہنچائیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی اختلافِ رائے فطری ہے، مگر مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب نظریاتی اختلاف ذاتی عناد میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں جمہوریت اور اصولِ سیاست کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور مدمقابل جماعتیں اور شخصیات اپنے حساب برابر کرنے میں جُت جاتی ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو اس تناظر میں اپنے طرزِ عمل پر غور کی ضرورت ہے۔ جمہوری حدود و قیود میں اختلافِ رائے ضرور کریں، ایک دوسرے کی کارکردگی پر تنقیدی نظر بھی رکھیں مگر اس صورتحال میں بہر صورت قومی اداروں کو سیاسی الزام تراشیوں سے معاف رکھیں، باہمی معاملات میں اصولی موقف اپنائیں اور ذاتیات کو زیر بحث لانے سے اجتناب کریں۔ سیاسی حلقے قومی اداروں پر الزام تراشی کرکے نہ سیاست کی کوئی خدمت کرتے ہیں اور نہ ملک و قوم کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا بیانیہ عالمی سطح پر ملک و قوم کے مفادات کے برعکس استعمال کیا جاسکتا ہے اور سیاسی رہنما ان حقائق کو بخوبی جانتے بھی ہیں، اگر باوجود اس کے کوئی الزام تراشی کی روش اختیار کرے تو یہ باعثِ افسوس ہے۔ بالفرض اگر کسی پارلیمانی جماعت کا کوئی نکتہ اعتراض ہے بھی تو اس کو زیربحث لانے کے لیے ان کے پاس پارلیمان کا فورم موجود ہے، اپنے اختلافی نکات یا شکایات کو وہاں زیر بحث لائیں اور اپنی شکایات کا ازالہ کریں، عوامی فورمز اس قسم کے بحث مباحثے کے لیے ہرگز مناسب مقام نہیں ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پارلیمان میں ہمارے سیاسی رہنما ملک و قوم کے مفاد یا اپنے سیاسی اختلافِ رائے کے نکات کو اکثر زیربحث نہیں لاتے، نہ ہی شکایات ترسیل کے لیے مناسب طریقہ کار کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال قومی اداروں کے کارِ منصبی، نیک نامی اور قابلیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے؛ چنانچہ اس روش کو ختم ہونا چاہیے۔ ہم بڑی تڑپ کے ساتھ مضبوط اداروں کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر تو دیکھیں، کیا یہ روش 

اداروں کی مضبوطی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہے؟ کیا بے محل فورمز پر قومی اداروں کے کردار اور عمل پر شکوک و شبہات کا شور مچا کر آپ اداروں کے لیے مشکلات نہیں پیدا کرتے؟ یہ پہلو سوچنے کے ہیں اور سیاسی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ ان پہلوؤں پر غور و فکر کریں۔ یہ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنے کا دور ہے، کیونکہ صرف ملکی سیاست کے حوالے سے نہیں علاقائی اور عالمی سیاسی تناظر میں بھی یہ بے حد اہم دور ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی جانب پیش رفت، اُدھر چین اور بھارت کے تنازعات، پاک چین اقتصادی راہداری، یہ ان تازہ سیاسی مظاہر کی چیدہ چیدہ مثالیں ہیں اور اس بحر کی تہ سے جو بھی اچھلتا ہے، خطے کی ایک اہم ریاست ہونے کے ناتے پاکستان کے لیے بے حد اہم ہوگا؛ چنانچہ اس نازک صورتحال میں گڑے مردے اکھاڑنے اور بے وقت کی راگنی گانے کا کیا مطلب ہے؟ جہاں تک انتخابی اعتراضات کا معاملہ ہے تو ملک میں ہونے والے کون سے انتخابات پر اعتراضات وارد نہیں ہوئے، مگر ان مقدمات کو اٹھانے کے لیے کیا مناسب فورمز موجود نہیں، اور کیا وہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق شکایات کا ازالہ نہیں کرتے؟ جب ہر معاملے کے لیے آئینی طریقہ کار موجود ہے تو پھر مناسب طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے بے جا شکایات کا طوفان اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔ سیاسی رہنما اس حقیقت کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے عوام قومی اداروں کے حوالے سے اس قسم کا لب و لہجہ اور الزام تراشیاں پسند نہیں کرتے اور قومی اداروں کو ہمیشہ عوام کا بھرپور اعتماد حاصل رہا ہے؛ چنانچہ سیاسی رہنماؤں پر لازم ہے کہ وہ سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے وہی بیانیہ اور وہی طرزِ عمل اختیار کریں جو ملکی اور قومی مفاد سے لگاؤ رکھتا ہے۔ پاکستان کو سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے اور ہم آہنگی سے مراد یہ ہے کہ ریاست کے تمام کلیدی شراکت داروں کو ایک دوسرے کا اعتماد حاصل ہو۔ سیاسی اختلاف ایک فطری امر ہے اور حدود و قیود میں اس کا ہونا ایک لحاظ سے باعثِ خیر ہے کہ حکمران طبقے یا ریاست کے سٹیک ہولڈرز کے طرزِ عمل کا محاسبہ کیاجاسکتا ہے، مگر صحت مند جمہوری نظام اس سے آگے بڑھنے کی اجازت کسی کو نہیں دیتا۔ اور جہاں تک شکایات کا تعلق ہے اس کے لیے ادارے اور نظام موجود ہے۔ اگر حزبِ اختلاف کو حکومت سے شکایت ہے تو وہ اس کے لیے طے شدہ راستہ اختیار کرسکتی ہے، اس سلسلے میں ریاستی اداروں کو زیر بحث لانا کسی لحاظ سے روا نہیں اور جمہوری نظام کسی صورت میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ مضبوط جمہوری نظام کے محاسن گنوانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی کا انحصار بھی ریاستی اداروں کی مضبوطی کے ساتھ وابستہ ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ ریاست کے بعض اداروں کے لیے تو آپ کمزوری کا سبب بن رہے ہوں اور بعض کی مضبوطی کی خواہش کریں۔


ای پیپر