دو قومی نظریہ بارے علامہ اقبالؒ اور سید مودودیؒ کا یکساں موقف
25 ستمبر 2020 (12:12) 2020-09-25

مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ دو قومی نظریے کے بانیوں میں سے تھے۔ وہ افراد جو ہندوستان میں دو قوموں (ہندو اور مسلمان) کی بنیاد پر الگ شناخت پر زور دیتے تھے ان کے نزدیک مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں۔ ان کی تہذیب و تمدن، بول چال، رہن سہن ہر چیز جدا ہے بلکہ ایک کے ہیرو دوسرے کے ولن ہیں۔ اسی  کو دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے۔یہی نظریاتی یگانگت ان افراد میں تھی جس کے سرخیل علامہ اقبالؒ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سید مودودی کی تحریرات سے بے حد متاثر تھے۔ بقول میاں محمد شفیع (مدیر ہفت روزہ اقدام)، علامہ موصوف ”ترجمان القرآن“ کے اْن مضامین کو پڑھوا کر سنتے تھے۔ اْن (مضامین) ہی سے متاثر ہوکر علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو حیدرآباد دکن چھوڑ کر پنجاب آنے کی دعوت دی اور اسی دعوت پر مولانا 1938ء میں پنجاب آئے۔ میاں محمد شفیع صاحب اپنے ہفت روزہ اقدام میں لکھتے ہیں کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی تو درحقیقت نیشنلسٹ مسلمانوں کی ضد تھے اور میں یہاں پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ میں نے حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ کی زبان سے کم و بیش اس قسم کے الفاظ سنے تھے کہ ”مودودی ان کانگریسی مسلمانوں کی خبر لیں گے“۔ جہاں علامہ اقبال بالکل واضح طور سے آزاد (مولانا آزاد) اور مدنی (مولانا حسین احمد مدنی) کے نقاد تھے وہاں وہ مولانا کا ”ترجمان القرآن“ جستہ جستہ مقامات سے پڑھواکر سننے کے عادی تھے۔ اور اس امر کے متعلق تو میں سو فیصدی ذمہ داری سے بات کہہ سکتا ہوں علامہ نے مولانا مودودی کو ایک خط کے ذریعے حیدرآباد دکن کے بجائے پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کی دعوت دی تھی۔ بلکہ وہ خط انہوں نے مجھ سے ہی لکھوایا تھا۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی  25 ستمبر 1903ء بمطابق 1321ھ میں اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے۔آپ کا گھرانہ ایک مکمل مذہبی گھرانہ تھا۔ سید مودودی نے ابتدائی دور کے پورے گیارہ برس اپنے والد کی نگرانی میں رہے اور گھر پر تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہیں مدرسہ فرقانیہ اورنگ آباد کی آٹھویں جماعت میں براہِ راست داخل کیا گیا۔1914ء میں انہوں نے مولوی کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ اس وقت ان کے والدین اورنگ آباد سے حیدرآباد منتقل ہو گئے جہاں سید مودودی کو مولوی عالم کی جماعت میں داخل کرایا گیا۔اس زمانے میں دارالعلوم کے صدر مولانا حمید الدین فراہی تھے جو مولانا امین احسن اصلاحی کے بھی استاد تھے۔ 

 ایک صحافی کی حیثیت سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور متعدد اخبارات میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا جن میں اخبار "مدینہ" بجنور (اترپردیش)، "تاج" جبل پور اور جمعیت علمائے ہند کا روزنامہ "الجمعیت" دہلی صوصی طور پر شامل ہیں۔ 1925ء میں جب جمعیت علمائے ہند نے کانگریس کے ساتھ اشتراک کا فیصلہ کیا تو سید مودودی نے بطور احتجاج اخبار"الجمعی" کی ادارت چھوڑ دی۔ جس زمانے میں سید مودودی"الجمعی" کے مدیر تھے۔ ایک شخص سوامی شردھانند نے شدھی کی تحریک شروع کی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔  ہندو دین اسلام پر حملے کرنے لگے اور علانیہ یہ کہا جانے لگا کہ اسلام تلوار اور تشدد کا مذہب ہے۔ اس پر سید مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس وقت سید مودودی کی عمر صرف 24 برس تھی۔اس کتاب کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ”اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانونِ صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے“

"الجمعی" کی ادارت اور اخبار نویسی چھوڑکر سید مودودی حیدرآباد دکن چلے گئے۔ جہاں اپنے قیام کے زمانے میں انہوں نے مختلف کتابیں لکھیں اور 1932ء میں حیدرآباد سے رسالہ"ترجمان القرآن" جاری کیا۔1935ء میں آپ نے "پردہ" کے نام سے اسلامی پردے کی حمایت میں ایک کتاب تحریر کی جس کا مقصد یورپ سے مرعوب ہوکر اسلامی پردے پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دینا تھا۔1938ء میں کانگریس کی سیاسی تحریک اس قدر زور پکڑ گئی کہ بہت سے مسلمان اور خود علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد بھی ان کے ساتھ مل گئی۔ کانگریس کے اس نظریہ کو "متحدہ قومیت" یا "ایک قومی نظریہ" کانام دیا جاتا تھا۔ سید مودودی نے اس نظریے کے خلاف بہت سے مضامین لکھے جو کتابوں کی صورت میں "مسئلہ قومیت" اور ”مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول و دوم کے ناموں سے شائع ہوئی۔

سید مودودی نے ترجمان القرآن کے ذریعے ایک پابندِ اسلام جماعت کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں ترجمان القرآن میں مضامین بھی شائع کیے۔ جو لوگ اس تجویز سے اتفاق رکھتے تھے وہ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں جمع ہوئے اور "جماعت اسلامی" قائم کی گئی۔ جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی تو اس میں پورے ہندوستان میں سے صرف 75 آدمی شامل ہوئے تھے۔ اس اجتماع میں سید مودودی کو جماعت کا سربراہ منتخب کیا گیا۔تقسیم ہند کے بعد سید مودودی پاکستان آ گئے۔ پاکستان میں قائد اعظم کے انتقال کے اگلے ہی ماہ یعنی اکتوبر 1948ء میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے پر آپ گرفتار ہو گئے۔ گرفتاری سے قبل جماعت کے اخبارات "کوثر"، جہان نو اور روزنامہ "تسنیم" بھی بند کردیے گئے۔

سید مودودی کو اسلامی نظام کا مطالبہ اٹھانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ قرارداد مقاصد کی منظوری سے قبل اس کا متن بھی مودودی کو ملتان جیل میں دکھایا گیا تھا۔ انہیں 20 ماہ بعد 1950ء میں رہائی ملی۔ اپنی پہلی قید و بند کے دوران میں انہوں نے "مسئلہ ملکیت زمین" مرتب کی، "تفہیم القرآن" کامقدمہ لکھا، حدیث کی کتاب "ابو داؤد" کا انڈکس تیارکیا، کتاب "سود" اور "اسلام اور جدید معاشی نظریات" مکمل کیں۔

1953ء میں سید مودودی نے "قادیانی مسئلہ" کے نام سے ایک چھوٹی سی کتاب تحریر کی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور پھرفوجی عدالت کے ذریعے انہیں یہ کتابچہ لکھنے کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنادیا۔ سزائے موت سنانے کے خلاف ملک کے علاوہ عالم اسلام میں بھی شدید رد عمل ہوا۔بین الاقوامی  علما نے حکومت پاکستان سے رابطہ کرکے سید مودودی کی سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔بالآخر حکومت نے سزائے موت کو 14 سال سزائے قید میں تبدیل کر دیا۔ تاہم وہ مزید دوسال اور گیارہ ماہ تک زندان میں رہے اور بالآخر عدالت عالیہ کے ایک حکم کے تحت رہا ہوئے۔

1958ء میں مارشل لا کے نفاذ کی سخت مخالفت کرنے کے بعد اس وقت کے صدر ایوب خان نے سید مودودی کی کتاب "ضبط ولادت" کو ضبط کر لیا۔ مارشل لا اٹھنے کے بعد اکتوبر 1963ء میں سید مودودی نے جماعت اسلامی کا سالانہ جلسہ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایوب خاں کی حکومت نے اس کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی اور منٹو پارک کی بجائے بھاٹی دروازے کے باہر تنگ جگہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دی۔ بعد ازاں لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔ 25 اکتوبر کو جلسہ شروع ہوا۔ سید مودودی نے تقریر شروع ہی کی تھی جلسہ گاہ میں موجود نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کی جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن جاں بحق ہو گیا تاہم مودودی بچ گئے۔

ایوب خاں نے 6 جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ سید مودودی اور جماعت اسلامی کے 65 رہنماؤں کو گرفتار کر کے قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس قید کا دورانیہ 9 ماہ رہا جس کے بعد انہیں عدالیہ عظمیٰ کے فیصلے پر رہا کر دیا گیا۔1970سے1979تک آپ کی صحت کمزور ہوگئی آپ اکثر فرماتے تھے کہ میں نے اپنے جسم کو اتنی مشقت میں ڈالا ہے کہ اب ایک ایک عضو مجھ سے انتقام لے رہا ہے۔ اس عشرہ میں آپ نے جماعت کی قیادت سے صحت کی کمزوری کی وجہ سے معذرت کرلی جماعت اسلامی کی قیادت میاں طفیل محمد کے سپرد کی۔

جماعت اسلامی پاکستان،بھارت،بنگلہ دیش،سری لنکا،آزاد کشمیر،مقبوضہ کشمیرمیں سید مودود ی کے دیئے گئے نظریئے کے مطابق اپنے حالات کے مطابق احیائے دین کا کام کررہی ہے۔ دنیا کے دیگر ملکوں ترکی، مصر، الجزائر، مراکش،سوڈان، قطر، انڈونیشیا،ملائیشیا میں بھی اسلامی تحریکیں سید مودودی کی فکر سے رہنمائی لے رہی ہیں۔ قاضی حسین احمد مرحوم نے جماعت کو سیاسی میدان میں بہت کامیابیاں دلوائی موجودہ امیر سراج الحق بھی بانی جماعت کے راستے کا انتخاب کر کے جماعت کو آگے لے کر جا رہے ہیں۔

چھبیس ستمبر 1979کو سید مودودی کا جنازہ ان کی رہائش گاہ سے قذافی اسٹیڈیم کی طرف روانہ ہوا۔ ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔جنازے میں بین الاقوامی و مقامی علمائے کرام اور راقم الحروف سمیت لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ سید مودودی کو ان کے اپنے گھر کے ایک گوشہ میں دفن کیا گیا۔اپنی تحریروں اور گفتگو سے لاکھوں انسانوں کی زندگیا ں بدلنے والا دیا  زمین کی  گہرائیوں میں رکھ دیا گیا۔


ای پیپر