قرضوں پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ تیار
25 ستمبر 2020 (12:06) 2020-09-25

گزشتہ حکومت کے دور میں ہر سال ایک ہزار روپے کے لگ بھگ بجٹ خسارہ تھا اور اس کے علاوہ اربوں ڈالر کے قرضے تھے جو کبھی کسی حیلے تو کبھی کسی بہانے لئے گئے۔ یوں یہ ملک کے ذمے 100 ارب ڈالر کے قرضے آ گئے۔ 2013ء میں پاکستان کے بیرونی قرضے ایکسپورٹ کے تناسب سے 193 فیصد تھے اور 2018ء میں یہ بڑھ کر 411 فیصد ہو گئے۔ اپنے دورِ اقتدار میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت عوام کو یہ بتاتی رہی کہ ہمارے درآمد بل بڑھنے کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا اور یہ اضافہ سی پیک کی مد میں مہنگی مشینری منگوانے سے ہوا  جس سے ہماری مجموعی پیداوار بڑھے گی، ایسے بیرونی قرضوں سے کی گئی درآمد معیشت کے لئے بہتر ثابت ہو گی۔ لیکن وزیرِ اعظم عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کا خیال تھا کہ اس امپورٹ کے ملکی معیشت میں بہتری کی صورت میں اثرات کیوں مرتب نہیں ہوئے؟ عمراں خان جب وزیرِ اعظم نہیں تھے اور اپوزیشن کی سیاست کر رہے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آ گئے تو وہ کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑیں گے جو ملکی وسائل کی لوٹ میں ملوث تھا یا جس کی لاپرواہی سے ملکی خزانے کو نقصان ہوا۔ بادی النظر میں خیال یہی تھا کہ اسی طرح کے وعدے کر کے تمام پارٹیاں اقتدار میں آ جاتی ہیں لیکن بعد میں انہیں اپنے وعدوں کا پاس نہیں ہوتا۔ مگر عمران آج تک اپنی اسی بات پر قائم ہیں اور اگر ہم گزشتہ دو سال کے ان کے دورِ اقتدار کا مشاہدہ کریں تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ انہوں نے اپنے اس وژن میں اپنے بڑے ہی قریبی ساتھیوں کو بھی حائل نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے 2008ء سے لے کر 2018ء تک کے عرصہ میں لئے گئے 24000 ارب کے قرضوں کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنایا جو 

دیکھے کہ یہ قرضے کیوں لئے گئے؟ ان کا کہاں استعمال ہوا؟ اور کیا یہ درست طریقے سے استعمال ہوئے؟ اس کمیشن میں آئی ایس آئی، ایف بی آر، ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور آئی بی کے نمائندے شامل تھے۔ دونوں پارٹیوں نے چاہتے ہوئے بھی نیب میں اس لئے اصلاحات نہیں کیں کہ نیب کے اختیارات سے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی سوچ میں تھیں۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ کوئی تیسری پارٹی وجود میں آ کر دونوں کے لئے مشکلات کھڑی کر دے گی اور وہی نیب کا ادارہ انہیں جیل پہنچا دے گا۔ 

عمران خان کی جانب سے بنائے گئے قرضہ کمیشن نے 2008ء تا 2018ء تک 24000 ارب روپے قرضے کی رپورٹ تیار کر لی ہے، 9 ماہ میں تیار ہونے والی رپورٹ میں کمیشن نے سنگین بے ضابطگیوں اور کرپشن کا انکشاف کیا۔ رپورٹ میں 21 اداروں سے وابستہ 300 افراد کے کردار کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جنہوں نے اربوں روپے کے غیر ملکی قرضوں کا غلط استعمال کیا، رپورٹ میں کئی ترقیاتی منصوبوں میں کک بیکس، اختیارات کا ناجائز استعمال، بڑے پیمانے پر خورد برد اور چوری کی نشاندہی کی ہے۔ انکوائری کمیشن نے انکوائری ایکٹ کے تحت حاصل اختیارات کی بنیاد پر حکومت کے 420  غیر ملکی قرضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا،2008ء سے 2018ء تک 1020 منصوبوں کی تفصیلات حاصل کیں۔ جن میں اورنج لائن ٹرین، بی آر ٹی منصوبہ، پشاور کول پاور پلانٹس، نیلم جہلم منصوبے، رحیم یار خان،چشتیاں، وہاڑی، گجرات، شالیمار کے وی ٹی لائن، دیا مر بھاشا ڈیم، گومل زام ڈیم، پٹ فیڈر کنال کی توسیع، شادی کور ڈیم کی تعمیر اور ضلع گوادر کے 60 ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال کی۔ انکوائری کمیشن نے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے 25، لواری ٹنل سمیت مواصلات کے 85 منصوبوں کی تفصیلات بھی حاصل کیں، پورٹس اینڈ شپنگ اور ریلوے کے 56، ایچ ای سی 285، صحت سے متعلق 78، آئی ٹی کے 203 اور دیگر محکموں اور وزارتوں کے منصوبے شامل ہیں۔ بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ کی لاگت 30 ارب روپے سے بڑھ کر 75 ارب روپے اور نیلم، جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی لاگت 84 ارب روپے سے بڑھ کر 500 ارب روپے کیوں ہو گئی ہے اس کا بھی جائزہ لیا۔ کمیشن نے مشکوک انداز میں سرکاری افسران، پرائیویٹ کنٹریکٹرز، سیاست دانوں اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن) کے ادوار کے وزراء کے نجی اکاؤنٹس میں منتقل ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ انکوائری کمیشن نے 23 اداروں  سے وابستہ 200 اہم شخصیات کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے 220 نجی اکاؤنٹس کے ذریعے 150 منصوبوں سے 450 ارب روپے کی خطیر منتقلیاں کیں۔ کمیشن نے سرکاری قرضوں اور واجبات میں اضافے کا بھی جائزہ لیا۔ اس حوالے سے گزشتہ ماہ وفاقی وزیر مراد سعید نے قرضہ انکوائری کمیشن کے چیئر مین کو ایک خط بھی لکھا ہے کہ اس انکوائری کی رپورٹ بھجوائی جائے۔  

کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کیا ا س کی سفارشات پر عملدرآمد کر کے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی؟کیونکہ اس سے قبل تو جرم ثابت ہونے پر بھی ملک کے سابق حکمرانوں اور ان کے ساتھیوں سے اب تک ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جا سکا جس سے اس وژن کی تکمیل نہ ہو سکی جو عمران خان نے قوم کے سامنے پیش کیا تھا کہ ملک کی لوٹی دولت جب واپس آئے گی تو عوام خوشحال ہوں گے۔ کمیشن کی رپورٹ کے آنے کے بعد شائد ان کی جد و جہد سے کوئی ایسی صورتحال بن جائے کہ جس سے ملک میں تبدیلی خواب پوارا ہو جائے، ملک کے غریب عوام کو کچھ راحت میسر آ سکے۔   


ای پیپر