” میر ے فرش پر نہ رینگ۔۔“
25 ستمبر 2020 2020-09-25

اس آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد اپوزیشن جماعتوں کے لئے ایک بڑی کامیابی تھی جس کے لئے مولانافضل الرحمان ایک طویل عرصے سے کوشاں تھے۔ ہمارے بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت نوابزادہ نصراللہ خان کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں نواب صاحب ایک دوسرے کی سخت مخالف جماعتوں کو بھی کچھ ایسے نکات پر متفق کرکے اتحاد بنا لیتے تھے کہ ہم صحافی مشترکات بارے سوال ہی پوچھتے رہ جاتے تھے مگر میرا خیال ہے کہ مولانا ابھی اس جگہہ نہیں پہنچے کہ نوابزادہ کسی غصے او ر انتقام میں نہیں بلکہ ایک نظرئیے کے تحت اپوزیشن میں ہوا کرتے تھے۔ ان کی فطرت اور مزاج ہی کچھ ایسا تھا کہ ان جیسا کوئی شخص بحری جہاز تباہ ہونے کے بعد ایک تختے پر بے یارومددگار تیرتا ہوا کسی ویران اور بے آباد جزیرے پر پہنچا اور ساحل پر اترتے ہی اس نے دونوں ہاتھوں سے بھونپو بنایا اور زور، زور سے اعلان کرنے لگا ، سن لو، سن لو، اگر اس جزیرے پر کسی کی حکومت ہے تو سن لے میں اس کی اپوزیشن ہوں۔مولانا فضل الرحمان ابھی تک اس غم اور غصے کی حالت میں ہیں جو اغم اور غصہ انہیں پارلیمنٹ سے باہر رکھ کر پہنچایا گیا اور ااب اس کے دو ہی حل ہیں، پہلا یہ کہ وہ پارلیمنٹ میں پہنچا دئیے جائیں اور دوسرا یہ کہ ان کے بغیر جانے والے سارے کے سارے پارلیمنٹ سے نکال دئیے جائیں، بالکل اس طالب علم کی طرح، جو اپنے چار دوستوں کے ہمراہ فلم دیکھنے پہنچا تھا اور ٹکٹ ان میں سے ایک کے پاس بھی نہیں تھا، باقی دوست تو ٹکٹ چیکر کو چکمہ دے کر اندر جانے میں کامیاب ہو گئے مگر وہ جیسے ہی پکڑا گیا تو اس نے دوستوں کے نام لے کر آواز لگائی، اوئے سارے باہر آجاو¿، اسی پھڑے گئے آں۔

اے پی سی میں ایک دھواں دار تقریر کرنے کے بعد نواز شریف بھی آرام سے لندن میں مقیم ہیں اور مریم نواز بھی ماشااللہ اپنی سیاست کر رہی ہیں اور انقلابی قسم کے بیان دے کر سوشل میڈیا پراپنے کارکنوں سے مسلسل تعریفیں کرواتی چلی جا رہی ہیں مگر اصل مشکل تو ہمارے دووست شہباز شریف کے لئے ہے جنہیں اندر کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر نیب سرگر م ہو گیا ہے۔ اللہ بھلا کرے عدالت کا جس نے شہباز شریف کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے اور وہ سوموار تک کے لئے بال بال بچے ہیں، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف بھی سوا برس سے جیل میں ہیں، بیوی اور بیٹیوں کی طلبیوں کے نوٹس بھی جا ری ہو رہے ہیں،دوسرا بیٹا اور داماد مفرور ہیں۔ کہتے ہیں کہ بھگت داس ، بھگوان کے جتنے سچے اور پکے پیروکار تھے ان کے بھائی اتنے ہی بڑے منکر اور گستاخ، کبھی لفظی توہین کرتے اور کبھی عملی۔ جب بھائی کی گستاخیاں حد سے بڑھیں تو بھگوان نے اپنے فرمانبردار بھگت داس کے خواب میں آنا اور اسے دھمکانا شروع کر دیا کہ اگر تمہارے بھائی نے اپنی حرکتیں نہ چھوڑیں تو وہ بھگت داس کو سخت سزا دیں گے، اس کے گھر اور دکان کو آگ لگا دیں گے، اس کو بھی بھسم کر دیں گے، بھگت سنگھ کچھ روز تو خواب میں یہ دھمکیاں سن کر منمناتا اور بھائی کی گستاخیوں پر معافیاں مانگتا رہا مگر ایک روز اس نے ہمت کر کے بھگوان سے کہہ دیا کہ بھائی کی بدتمیزیوں سے اس کا کیا تعلق،وہ بھگوان کا ایک سچا اور پکا بھگت ہے، اگر بھگوان نے کوئی سزا دینی ہے تو اس کے بھائی کو دے۔ بھگوان نے یہ الفاظ سنے تو چہرے پر بے بسی اور لجاجت آ گئی، آہستہ سے بولے، پیارے بھگت داس، اسے کیا کہوں، وہ مجھے مانتا ہی نہیں ہے۔ شہباز شریف کا حال اسی میمنے جیسا ہے جس نے بتایا بھی تھا کہ جس نے پانی گدلا کیا وہ اس کا بڑا بھائی تھا جو یہاں سے جا چکا ہے، وہ تو ندی کی نچلی سمت میں ہے اورپانی گدلا نہیں کر سکتا ۔باقی اس کہانی میں کیا ہوا تھا وہ آپ چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ گذشتہ برس حکومت کی طرف سے نیب کے قانون میں ترامیم کے حوالے سے دوسرا بل پیش کیا گیا تھا جسے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اب تک دئیے جانے والے تمام این آر اوز کا باپ قرار دیا گیا تھا مگر اب اچانک سٹینڈنگ کمیٹی میں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ قانون جیسا بھی ہے اسے ویسا ہی منظور کروانے کے لئے تیار ہیں جس پر مجھے وہ ادب اور تہذیب والے لکھنوی بزرگ یاد آ گئے جو یہ کہتے تھے کہ اب کے مار کے دیکھ اور اس کے بعد اگلی پڑبھی جاتی تھی۔جناب محمد زبیر نے دو مرتبہ ملاقات کی، جناب شہبازشریف بھی خواجہ آصف کے ہمراہ مل آئے اور اس کے بعد میاں نواز شریف نے ایک تقریر کر دی جس میں انہوں نے پوچھا ’میںفیر ناں ای سمجھاں‘۔ مذاق ایک طرف رکھئے مگر حقیقت یہی ہے کہ اے پی سی کے بعد بریک ہونے والی خبروں نے اے پی سی کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ میرے ایک دانا دوست کا تبصرہ ہے کہ مسلم لیگیوں نے کوئی غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت نہیں کی بلکہ انہوں نے اے پی سی سے پہلے حالات کو سدھارنے کی سنجیدہ کوششیں کیں اور جب ان میں ناکام رہے تو ردعمل کااظہار کیا یعنی مسلم لیگیوں کی نظر میں یہ غلطی نہیں بلکہ حکمت عملی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس پوری سیاسی صورتھال پر حکومت کا ردعمل اتنا ہی ٹھنڈا ہے جتنا اس بچے کا تھا جو گھر کے ایک کونے میں دہی کے ساتھ نان کھا رہا تھا، کسی کو کچھ بھی نہیں کہہ رہا تھا۔ اے پی سی سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کی خبریں اے پی سی کے بعد سامنے آئیں اور اس کا کریڈٹ بھی شیخ رشید کو جاتا ہے اور بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آڑ نے سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی ملاقاتوں کی بھی تصدیق کی جبکہ عمران خان کو لانے والوں سے لڑنے کا اعلان کرنے والوں نے ان ملاقاتوں کی ہوا تک نہ لگنے دی۔ راانا ثنا ¾ اللہ خان نے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو بدنام کرنے پر شیخ رشید کے خلا ف غداری کا مقدمہ درج کیا جائے (نوٹ:درج کیا گیا یہ فقرہ نہ لطیفہ ہے اور نہ ہی کوئی مذاق بلک مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر کی لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کی گئی گفتگو ہے)۔

اے پی سی کے بعد سامنے آنے والی خبروں میں ایک شہ سرخی یہ تھی کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے اور اگر میں کسی اخبار کا ایڈیٹر ہوتا تواسی خبر میں موجود اس فقرے کو شہ سرخی بناتا کہ فساد کی اجازت نہیں کہ یہی فقرہ آگے آنے والے دنوں کی تصویر پیش کر رہا ہے لہذا اصل سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اپنے اعلان کر دہ احتجاجی روڈ میپ پر عمل کر پائے گی ۔کہتے ہیں کہ اپوزیشن کا ایک رہنما کسی جوتشی کے پاس گیا اور بولا کہ دو، تین برس سے اس سخت وقت کی وجہ سے وہ تکلیف میں ہے، یہ حالت کب تک رہے گی۔ جوتشی نے بتایا کہ ابھی مزید اڑھائی برس اسی طرح گزریںگے۔ وہ رہنما خوش ہو کر بولا کہ اس کے بعدیہ حالات بدل جائین گے، جواب ملا، نہیں، اس کے بعد تم عادی ہوجاو گے ۔چلیں چھوڑیں لمبی چوڑی باتوں کو، حکیم الامت، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ظریفانہ کلا م کے دو شعر آپ کی نذر ہیں۔

 ’ میرا یہ حال بوٹ کی ٹو چاٹتا ہوں میں،

 اُن کا یہ حکم ، دیکھ، میرے فرش پر نہ رینگ

کہتے ہیں اونٹ ہے بھدا سا جانور

اچھی ہے گائے رکھتی ہے کیا نوکدار سینگ


ای پیپر