مولانا اور ان کا دھرنا
25 ستمبر 2019 2019-09-25

اگلے روز دفتر نئی بات میں اداریے کے بعض نکات پر بحث کرتے ہوئے ایک رفیق کار نے سوال کیا مولانا فضل الرحمن اتنے بپھرے ہوئے کیوں ہیں کہ اگر کسی بھی دوسری جماعت نے ساتھ نہ دیا وہ اپنا آزادی مارچ ہر صورت میں نکالیں گے، دھرنا دیں گے اور حکومت کو گھر کی راہ لینے پر مجبور کر دیں گے… میں نے جواب دیا آپ کو معلوم ہے گاندھی کیوں بپھر گیا تھا اس لیے کہ عین عالم جوانی میں جب وہ روزگار کی خاطر جنوبی افریقہ میں مقیم تھا تو گاڑی میں سفر کی خاطر فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لیا اور ڈبے میں سوار ہو گیا… ایک انگریز نے دیکھا کہ کالا اس کا ہم مرتبہ بن کر گوروں کے لیے مخصوص ڈبے کی نشست پر براجمان ہے تو اس نے حقارت کے ساتھ اسے نیچے اتر جانے کے لیے کہا… موہن داس کرم چند گاندھی نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ اس نے اس ڈبے کے لیے ٹکٹ خریدا ہے اور قانونی طور پر اس میں بیٹھ کر سفر کرنے کا استحقاق رکھتا ہے… انگریز کو غصہ آیا اس نے ایک ساتھی سے مل کر مہاتما جی کو اٹھا کر چلتی گاڑی سے نیچے پلیٹ فارم پر پھینک دیا… گاندھی جی ردعمل کا شکار ہوئے ہندوستان آ کر آزادی کی وہ تحریک چلائی کہ انگریزوں کو نکال کر دم لیا… مولانا فضل الرحمن کا بھی کم و بیش یہی حال ہے… انتخابات 2018ء میں انہیں اپنی ذات کے لیے پارلیمنٹ کی ایک نشست بھی حاصل نہ ہوئی گویا چلتی گاڑی سے اُٹھا پھینک دیئے گئے… اب انہوں نے ٹھان لی ہے کہ اس حکومت کو ہی نہیں چلنے دینا جس کے قدوم میمنت لزوم کی وجہ سے وہ پارلیمانی ٹرین کی فرسٹ کلاس میں نشست حاصل نہ کر سکے… میرے ساتھی کا اگلا سوال تھا کیا مولانا اس پوزیشن میں ہیں اگر کسی بھی بڑی جماعت نے ان کا ساتھ دینے کی حامی نہ بھری تو پھر بھی ایوان اقتدار سے حکومت والوں کی دوڑ لگوا دیں گے… میں نے جواب دیا ایسا ہو پائے گا یا نہیں لیکن مولانا میں اتنا دم خم ضرور ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دیو بندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دینی مدارس کے طلباء اور اساتذہ اور عوام کے اندر ان کے حامیوں کو مذہبی سیاست اور نعروں کی انگیخت دے کر سڑکوں پر لے آئیں اور ایک بڑے ہجوم کے ساتھ اسلام آباد پر یلغار کر دیں… اور اگر کوئی ساتھی نہ بھی ملا اوراکیلے جیل میں بیٹھے نواز شریف نے ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تو یہ مارچ ایک بڑی سیاسی قوت بن سکتا ہے… مولانا اس سے قبل مختلف شہروں میں پندرہ مارچ کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے ہیں… اب جو اپنے مجمعے کو ساتھ لے کر اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہوں گے اور نواز شریف کی اپیل ان کا ساتھ دے رہی ہو گی تو حکومت جائے یا نہ جائے ایک زلزلہ تو پیدا ہو گا… سوال اٹھا کہ مولانا دو دہائیوں تک پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں، اس دوران انہوں نے کونسا کارنامہ کر دکھایا ؟ جو اب وہ احتجاجی سیاست کی صورت میں کریں گے…من چلے نے پخ لگائی کہ جب تک مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے بھارتی حکومت وہ کام نہ کر سکی جو اس نے مولانا کی غیرحاضری میں کیا ہے… اسی سے سوال پیدا ہوا اگر موصوف کی موجودگی میں نریندر مودی یہ حرکت کر لیتا تو مولانا اس کا کیا بگاڑ سکتے تھے… بات آگے چلی تو جائزہ لیا گیا کہ کون کس بنیاد پر مولانا کے آزادی مارچ کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں یا ان کی کھل کر یا پس پردہ مخالفت کر رہا ہے… سب سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کا نام سامنے آیا… اس خیال پر شرکائے محفل کا اتفاق تھا کہ ملک کی اس فیصلہ کن قوت نے عمران خان کی سرپرستی کر کے آمریت اور جمہوریت کا امتزاج پیش کرنے کا جو تجربہ کیا ہے، وہ اسے اتنی جلد ناکام نہیں ہونے دے گی… خان بہادر سے لوگ مایوس ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کی ناکامی اس حد تک واشگاف نہیں ہوئی کہ سال بھر کے اندر جان چھڑا لی جائے جبکہ کوئی متبادل بھی سامنے نہیں… لہٰذا درون مہ خانہ لوگ سر دست عمرانی گاڑی کو رواں رکھنا چاہتے ہیں… تآنکہ اس کی ناکامی ہر کہ و مے پر واشگاف ہو جائے اور متبادل گھوڑا بھی کاٹھی سمیت تیار کھڑا ہو… ظاہر ہے وہ مرحلہ ابھی نہیں آیا… اس لیے کار پردازان ریاست مولانا کے مارچ کو قبل از وقت سمجھتے ہوئے اسے کامیاب ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے…

مولانا کو اپنے دیرینہ دوست آصف علی زرداری سے توقع تھی کہ جتنے مقدمات میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گھیر لیا گیا ہے، ان کے ردعمل میں اس مرتبہ تو وہ ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے لیکن زرداری صاحب بڑے کائیاں آدمی ہیں آسانی سے دام میں آنے والے نہیں… ان کی جماعت کو سندھ اسمبلی میں جو اکثریت حاصل ہے اور خدا جھوٹ نہ بلوائے 11 سالوں سے اسے اپنی جیب میں رکھے ہوئے ہے…اسے کسی صورت گنوانا نہیں چاہتے… اسی خاطر انہوں نے گزشتہ انتخابات کے بعد وزیراعظم اور صدر کے چناؤ کے موقع پر ہاتھ کی صفائی دکھائی، اپوزیشن کے نعرے بھی بلند کرتے رہے اور حکومت کو بھی اپنے امیدوار کامیاب کرانے میں سہولت فراہم کر دی… پھر کوئی اڑھائی ماہ قبل سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منظور کرانے کا موقع آیا تو اسی سندھ اسمبلی اور صوبائی حکومت کو بچانے کی خاطر موصوف نے واضح اور قطعی اکثریت کو آن واحد میں اقلیت میں بدل دینے میں حکومت والوں کی پس پردہ ایسی مدد کی کہ دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ گئے… وہی آصف علی زرداری صاحب اب بھی اپنے بیٹے سمیت زعم حزب اختلاف بھی بن کر رہنا چاہتے ہیں اور اپنی سندھ حکومت پر بھی آنچ نہیں آنے دینا پسند نہیں کرتے… مبادا سندھ جیسے اہم اور اپنے آبائی صوبے کے جو ان کی جماعت کا گڑھ بھی ہے اقتدار پر ان دسترس چھین لی جائے…حضرت مولانا البتہ سب سے زیادہ امیدیں مسلم لیگ (ن) سے وابستہ کیے ہوئے ہیں… یہ جماعت کسمپرسی کی حالت میں بھی پنجاب میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہے… اس کے قائد نواز شریف گرتی صحت کے ساتھ ناتواں حالت میں جیل میں بند بیٹھے مزاحمت کی سب سے بڑی علامت بنتے جا رہے ہیں… مولانا کو ان کی تھپکی حاصل ہے لیکن مقتدر قتوں کے ساتھ معاملہ پیش ہو تو جماعت کے قائد ثانی شہباز شریف کی ترجیحات ہمیشہ سے مختلف رہی ہیں… وہ بڑے بھائی کا مطیع بن کر بھی رہنا چاہتے ہیں لیکن جب اور جس موڑ پر دیکھتے ہیں تو ان کا وزیراعظم بننے کا ہدف پورا ہو سکتا ہے… اپنی راہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتے… اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لینا کبھی ان کا مطمع نظر نہیں رہا کہ یہ امر ان کے وزیراعظم بننے میں رکاوٹ بن سکتا ہے… اس لیے نواز شریف کی واضح ہدایات کے علی الرغم شہباز صاحب مولانا کا کھل کر ساتھ دینے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں… یہ ہے وہ موڑ جس پر مولانا فضل الرحمن کی دھرنا سیاست آن کھڑی ہوئی ہے… اکیلے آگے کی جانب بڑھنا قرین مصلحت نہیں سمجھتے… پیچھے ہٹتے ہیں تو ساری زندگی کی سیاسی کمائی رائیگاں جا سکتی ہے… 30 ستمبر کو مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اس میں مولانا کے مارچ اور دھرنے کے پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا… اگر نواز شریف کے دباؤ کی وجہ سے مارچ اور دھرنے میں شرکت پر اتفاق کر بھی لیا جاتا ہے تو شہباز شریف صاحب نے اگلی شرط یہ لگا رکھی ہے کہ اکتوبر کے اوائل میں اپوزیشن کی راہبر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو گا… جہاں تمام اپوزیشن پارٹیوں کی نمائندہ قیادت مولانا کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی… اس کمیٹی میں پیپلزپارٹی بھی ہے اور دوسری وہ جماعتیں بھی جو حکومت کو مشکل وقت تو دینا چاہتی ہیں لیکن کسی انجانے خوف کی بنا پر سر دست اسے اکھاڑ پھینکے کا ارادہ نہیں رکھتیں… ان پارٹیوں کو خدشہ ہے اگر دھرنا کامیاب ہو گیا اور اس کے نتیجے میں حکومت چلی گئی تو خلا پورا کرنے کے لیے غیر آئینی راج اس کی جگہ لے لے گا… مولانا اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ دھرنے کی کامیابی کی صورت میں ہمارا مطالبہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا ہو گا جن کی کوکھ سے صحیح معنوں میں عوام کی حکومت برآمد ہو گی اور کسی غیر نمائندہ قوت کو موقع نہیں ملے گا جبکہ دوسرے لوگوں کی رائے ہے کہ یار لوگ ’موقع‘ حاصل کرنے میں دیر نہیں لگاتے فوراً جمپ لگاتے ہیں اور اس کے بعد جتنی بھی یقین دہانیاں کرائیں راج انہی کا ہوتا ہے… مولانا فضل الرحمن اس سب کا سدباب کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائیں گے ،اپنا بھی سکیں گے یا نہیں … اسی میں ان کی آزمائش اور کامیابی یا ناکامی کا دارو مدار ہے…


ای پیپر