اقوام متحدہ اجلاس۔ سفارتکاری اور شرمساری
25 ستمبر 2019 2019-09-25

دنیا میں کسی ریاست کے مقام کا تعین سربراہ مملکت کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریروں سے نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا حقیقی معیار اس ملک کی معاشی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر کیا جاتا ہے ۔ اگر تقریر کے زور پر اہمیت کا اصول طے کیا جائے تو اقوام متحدہ کے 74 ویں سالانہ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا پہلا نمبر ہوتا کیونکہ انہوں نے تاریخ میں پہلی بار امریکی سر زمین پر کھڑے ہو کر کہا کہ 9/11 کے بعد امریکہ کا اتحادی بننا پاکستان کی غلطی تھی جس میں ہم نے 70 ہزار جانیں دیں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں 200 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ آج سے پہلے کیا اس کا تصور بھی کیا جا سکتا تھا ۔ اس وقت دنیا کے نقشے پر جو سب سے بڑی تشویشناک پیش رفت سامنے آ رہی ہیں اس زلزلے کا مرکز پاکستان ہے۔ آپ کشمیر کو دیکھ لیں جہاں کا محاصرہ 50 دن عبور کر چکا ہے ۔ افغانستان دیکھ لیں جن کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات آخری سیڑھی پر جا کر ریورس ہو گئے بقول شاعر دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا ۔ تیسری خطرناک پیش رفت کا تعلق بھی پاکستان کے پہلو میں واقعہ ایران سے ہے جہاں سعودی عرب اور امریکہ مل کر اسے سبق سکھانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ امریکہ اور چین کی جنگ تجارتی جنگ میں بھی سی پیک کی وجہ سے پاکستان ایک بالواسطہ فریق بن چکا ہے۔ پاکستان کی اہمیت کو کسی طرح سے بھی نظر انداز کرنا امریکہ چائنا یا کسی بھی طاقت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ پاکستان جب بھی کسی بحران کا شکار ہوتا ہے تو حالات ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ اس کی اہمیت کم ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ بھارت اور امریکہ جتنا مرضی زور لگالیں پاکستان کی اہمیت بر قرار رہے گی ۔ تاش کے کھیل میں رنگ کا پتہ ٹرمپ کارڈ کہلاتا ہے یہ اتفاق کی بات ہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ ہے مگر سائوتھ ایشیا میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ٹرمپ کارڈ پاکستان کے پاس ہے ۔

اس ہفتے افغان طالبان وفد امریکہ کے ساتھ معاملات معطل ہونے کے بعد اپنی اہمیت بر قرار رکھنے کے لیے چین کی دعوت پر بیجنگ گیا تو امریکی دفتر خارجہ میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ ملا عبد الغنی برادر کی سر براہی میں ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات عالمی میڈیا کا حصہ ہیں مگر اصل بات کسی اخبار میں شائع نہیں ہو رہی وہ ابھی تک آف دی ریکارڈ ہے۔ چین نے سی پیک میں افغانستان کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو پشاور اور کابل کو آپس میں ملائے گی اور یہاں سے یہ روسی ریاستوں تک جا سکتی ہے ۔ افغانستان سائوتھ ایسٹ ایشیا کا Gateway ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین اندر سے سمجھ چکا ہے کہ طالبان افغانستان کے مستقبل قریب کے حکمران ہیں اس لیے انہوں نے امریکہ کے کٹھ پتلی افغان صدر اشرف غنی کی بجائے طالبان سے مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔جو بڑی معنی خیز ہے۔

بات اقوام متحدہ کے سالانہ جنرل اسمبلی اجلاس کی ہو رہی تھی جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی شرکت کی۔ اس وقت انڈیا کی ساری خارجہ پالیسی Pakistan Specific ہے۔ انڈین بے چینی تمام حدوں کو چھو چکی ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ جوں ہی سری لنکا کے کھلاڑیوں نے کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا۔ سری لنکن حکومت نے انہیں ٹیم سے خارج کر دیا مگر دورہ ملتوی نہیں کیا۔ مودی کی ساری توانائیاں اس وقت پاکستان کو نیچا دکھانے میں خرچ ہو رہی ہیں۔ انڈیا والے عمران خان کے گزشتہ سرکاری دورہ امریکہ اور کیپٹل ایرینا میں جلسہ عام سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ مودی نے فیصلہ کیا کہ وہ Huston میں اسی طرح کا جلسہ ری پلے کریں گے جو عمران خان نے کیا تھا۔ اس جلسے میں ٹرمپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر مودی نے تمام سفارتی آداب اور پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا نام لیے بغیر زہر فشانی کی اور Redical Islamic Terorrism کی اصطلاح استعمال کی جس پر پاکستان کو سفارتی سطح پر احتجاج کرنا چاہیے تھا۔

ٹرمپ نے اپنا پرانا مؤقف دہرایا کہ اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو امریکہ ثالثی کے لیے تیار ہے ۔ ٹرمپ کی یہ بات ویسے ہی مضحکہ خیز ہے۔ اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو پھر ثالثی کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں عمران خان کا موقف زیادہ Convincing ہے جو یہ کہتے ہیں کہ 50 دن سے زیادہ عرصے سے کشمیریوں کا محاصرہ جاری ہے۔ 80 لاکھ افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں تو مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ ایک طرف مودی اور دوسری طرف عمران خان دونوں کو ایک ہی سانس میں عظیم لیڈر اور عظیم دوست قرار دیتے ہیں جو محض لفاظی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سفارتکاری اور شرمساری دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ جن کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اقوام متحدہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر عمران خان کی دیگر سر براہان مملکت سے ملاقاتیں تو سفارتی معمول کا حصہ ہیں جن میں کشمیر پر سفارتی حمایت کے حصول کی کوشش جاری ہے البتہ اطلاعات یہ ہیں کہ عمران خان کی امریکی King Maker اور Lobbist مشہور امریکی شخصیت George Soro سے ملاقات ہوئی ہے ۔ جو ارب پتی ہے اور اپنی دولت کا بڑا حصہ خیرات کر چکا ہے مگر اس کی اصل شہرت یہ ہے کہ وہ لیڈر پیدا کرتا ہے باراک اوبامہ اور بل کلنٹن کو ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار بنوانے آگے لانے اور صدر بنوانے میں جارج کا ہاتھ تھا وہ اپنی سیاسی انویسٹمنٹ میں بہت آگے ہے۔ اب یہ دیکھنے میں ٹائم لگے گا کہ جارج اور عمراں خان ملاقات کا پس منظر کیا اور ان دونوں میں کون کس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اسی دوران عالمی منڈی میں Brent خام تیل کی قیمت جو 60 ڈالر فی بیرل سے 68 تک جا پہنچی تھی وہ امریکہ کے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے فوج بھیجنے کے اعلان کے بعد 5 ڈالر گراوٹ سے 63 ڈالر پر ہے۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو پر میزائل حملوں کا اعتراف یمن کے حوثی باغیوں نے کیا مگر امریکہ کہتا ہے کہ یہ میزائل ایران سے داغے گئے ہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ میزائل ایران ساختہ ہیں اگر اس الزام کی تشریح کی جائے تو پھر ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ 2016 میں یمن میں سکول بس پر جو سعودی فوج نے ڈرون مارا تھا جس میں 40 بچے جاں بحق ہوئے تھے وہ ڈرون امریکا میں بنا تھا تو کیا اس پر امریکہ کو الزام دینا چاہیے۔

کشمیر کا مسئلہ آہستہ آہستہ افغانستان کے ساتھ منسلک ہوتا نظر آتا ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ڈیمو کریٹ پارٹی نہیں بلکہ افغان طالبان ہیں۔ انڈیا کی اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ جو افغانستان میں ہوئی ہے وہ ڈوب رہی ہے۔ آج اگر امریکہ افغانستان سے نکلتا ہے تو اشرف غنی 24 گھنٹے بھی Survive نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے لیے یہی ایک موقع ہے کہ وہ اس شطرنج کی بازی میں احتیاط کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت گرائونڈ صورت حال یہ ہے کہ انڈیا کشمیر اور جموں کو طویل عرصے تک نہ اگل سکے گا نہ نگل سکے گا۔


ای پیپر