’’یملے سے کملے تک....؟‘‘
25 ستمبر 2019 2019-09-25

میں واپس گاڑی کے پاس آیا تو وہ وہاں موجود نہ تھا ۔میں نے ادھر اُدھر دیکھا مگر کہیں دکھائی نہ دیا۔میں نے سوچا شاید وہ گاڑی صاف کیئے بغیر کہیں چلا گیا ہے مگر ایسا نہ تھا۔گاڑی کے پیہے بتا رہے تھے کہ انہیں ابھی پانی سے دھوکر اچھی طرح صاف کیا گیا ہے ۔میں حیرت سے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔وہ خاموش طبع نہایت شرمیلا بچہ تھا۔جب آدھہ گھنٹہ قبل میں نے پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی تو وہ شرماتا ہوا میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔میں نے خود پوچھا کہ بیٹا کیوں کھڑے ہو تو وہ بولا ’’ سر.... میں گاڑی دھو دوں صرف تیس روپے دے دینا ‘‘۔میں نے جلدی سے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا’’ ہاں ہاں دھو دو لیکن ذرا جلدی.... اور اچھی طرح صاف کرنا‘‘۔اس دن میں چونکہ گائوں گیا تھا اس لئے گاڑی پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔جو اس نے واقعی بڑی محنت سے صاف کی ہوگی۔گاڑی تو اس نے صاف کر دی مگر خود اب کہیں دکھا ئی نہیں دے رہا تھا اور میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔

اس دوران ایک اور بچہ وہاں سے گزرا... اس نے بھی ہاتھ میں صفائی والا جھاڑن پکڑ رکھا تھا ’’ بیٹا یہاں ایک اور لڑکا گاڑیا ں صاف کرتا ہے لمبے سے قد والا... شرمیلا سا؟‘‘۔

’’جی.... ہاں ..... بائوجی.... وہ جلدی چلا گیا ہے۔آپ یملے کی بات کر رہے ہیں ناں ۔اس کی ماں شدید بیمار ہے‘‘۔میرے ذہن میں اس کا خاکہ ابھرا... مجھے اس بچے کی بات اچھی نہ لگی کیونکہ وہ یملا نہیں تھا کملا ہے۔ان لوگوں کو یملے اور کملے کا فرق ہی معلوم نہ تھا .. میں حیران تھا...محلوں ،گلیوں میں عام طور پر ایسے ہی نام رکھ دیئے جاتے ہیں۔کچھ بچوں کو محلوں میں ( شاید ان کی مائوں کی شدید خواہش پر ) جج کہا جانے لگتا ہے اور چھوٹے بڑے سب انہیں جج کہہ کرپکارنے لگتے ہیں مگر وہ جج نہیں مجرم بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ایسے ہی ہمارے ایک دوست کا نام والدین نے عاقل رکھ دیا۔میٹرک تک عاقل میرے ساتھ پڑھتا رہا مگر میں نے ایسا جاہل ساری زندگی نہیں دیکھا... سکھ لوگ ہر بچے کے نام کے ساتھ سنگھ لگا دیتے ہیں... میں نے سنا ہے سنگھ کے معنی شیر کے ہوتے ہیں مگر ہم نے بڑے بڑے گیدڑبھی سکھوں میں دیکھے ہیں۔

وہ تو آپ نے پڑھا ،سنا ہو گا جو شیر خان ایک جگہ تھر تھر کانپ رہا تھا ۔جس کے باپ کا نام بہادر خان تھا .. کانپنے کی وجہ پوچھی تو بولا ... ’’ذرا اس کتے کو بھگا دیں میں نے گلی میں سے گزرنا ہے‘‘۔

میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی طرف چل پڑا... مجھے دکھ ہو رہا تھا کہ میں نے یملے کے تیس روپے اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا نہیں کیئے مگر اس میں میرا بظاہر قصور بھی نہ تھا۔خیر میں دیر تک یملے کے بارے میں سوچتا رہا اور غور بھی کرتا رہا... اگلی شام میں پھر وہیں پارکنگ ایریا میں پہنچا اور میری نظریں یملے کو تلاش کر رہی تھیں... میں نے آہستہ آہستہ پیدل چلنا شروع کیا مگر مجھے وہ دور دور تک دکھائی نہ دیا۔ایسے ہی میری نظرپھر دوسرے لڑکے پر پڑی... وہ میری طرف بھاگا آیا...

’’ بائوجی .... وہ آیا تھا.... ایک ہی گاڑی اس نے دھوئی تھی کہ اس کا ایک محلے دار اسے سائیکل پر بیٹھا کر لے گیاکیونکہ اس کی والدہ کی طبیعت بے حد خراب تھی‘‘۔

ویسے بائوجی ....وہ رو رہا تھا اس کے پاس والدہ کی دوائی کیلئے پیسے نہ تھے۔میں نے آپ والے تیس روپے اسے دے دیئے تھے... میں نے فوراََ جیب سے تیس روپے نکال کر یملے کے ساتھی کو دیئے اور سوچنے لگا کہ کیا کیا جائے۔

’’ بیٹا تم مجھے یملے کے گھر کا پتہ دے سکتے ہو؟‘‘میرے سوال پر وہ بچہ کچھ سوچنے لگا پھر بولا... بائوجی وہ نئے پلازے کے ساتھ رہتا ہے۔مگر وہ تو بہت غریب لوگ ہیں آپ کہاں جائیں گے‘‘۔

میں نے ضد کی تو بچہ مان گیا ... آٹھ منزلہ نیا پلازہ بڑی شان سے کھڑا تھا اور لوگوں کی گہما گہمی تھی مگر اس پلازے کے با لکل پیچھے ایک نہایت بدبودار آدھے مرلے کے کمرے میں یملا ،اپنی بیمار و لاچار ماں کے ساتھ زندگی نہایت اذیت ناک طریقے سے بسر کر رہا تھا ۔وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا... بائوجی میں نے تیس روپے ظفری سے لے لئے تھے ... آپ نے خوامخواہ تکلیف کی... والدہ کا کیا حال ہے.. میرے سوال پر اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے .. ہم دونوں ایک غار نما کمرے میں داخل ہوئے جہاں ماں لیٹی ہوئی تھی اور اس کی سانسیںاکھڑ ی ہوئی تھیں... زرد رنگ کا بلب جل رہا تھا جس کی لو بڑھی ہی مدھم لگ رہی تھی ... ماں بول رہی تھی... میں نے اپنا کان اس کے قریب کیا.. بیٹا ’’ نیا ‘‘ پلازہ میرے ایک بیٹے کی لاش پر کھڑا ہے۔میرا خاوند واپڈا میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا ... یہ زمین ہماری تھی اس قبضہ گروپ نے میرا بیٹا قتل کر دیا ۔ یملے کو بھی مار مار کر ادھ موا کر گئے مگر وہ بچ گیا اور ہم اس چھونپڑی میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔

میرے پائوں تلے سے زمین نکل گئی ... میری آنکھیں ماں کا حلیہ اور کانپتی آواز سن کر تھرا گئیں... میں کیا بول سکتا ہوں ...

مجھے پندرہ سال پہلے کا واقعہ یاد ہو گیا... جب مجھے ایک چیف ایڈیٹر صاحب نے حکم دیا ، مظفر بیٹا یہ جوان لڑکیاں آئی ہیں کوئی ان کے سروں سے دوپٹے چھین رہا ہے جائو پتہ کرو... ہم کل رپورٹ اخبار میں چلائیں گے‘‘میں نے ایک سینئر دوست جو کہ آج کل ملتان کے ایک اخبار میں ریذیڈینٹ ایڈیٹر ہیں... ساتھ لیا اور معاملہ کی چھا ن بین کی ... ایک تاجر جو بظاہر غنڈہ بھی تھا وہ ان غریب لوگوں کے مکان گرا کر وہاں ایک پلازہ تعمیر کرنا چاہ رہا تھا اور ان غریب پرانے رہائشی لوگوں کو وہاں سے نکال دینا چاہتا تھا... اور ہماری تصاویر نہ اتاریں ہم اس تاجر سے ملے جس نے کہا کہ ہم ان گھروں کو شفٹ کرنے کے ان لوگوں کوکچھ پیسے بھی دیں گے اور آپ کو خوش بھی کریں گے... آپ رپورٹ وغیرہ نہ شائع کریں۔بہت سی تصاویر کے ساتھ...

شام کو تاجرمیرے گھر آیا... اس نے ایک لفافہ مجھے تھمایاجس میں بہت سے نوٹ تھے میں نے اس کے ساتھ جائز سی بد تمیزی کی اور اگلے دن اخبار میں وہ ساری تفصیل پھر شائع کر دی ...

وقت گزرتا گیا... ایک دوپہر چیف ایڈیٹر صاحب نے مجھے بلایا اور بولے ’’ مظفر اگر ہم لوگ اس دن بک جاتے تو ان غریب عورتوں اور مظلوم مردوں کے چہروں پر یہ خوشی نہ ہوتی... وہاں بیٹھے لوگ ہمیں دعائیں دے رہے تھے کیونکہ اس تاجر نے ان چھوٹے چھوٹے بارہ گھروں کے مکینوں کو 48 لاکھ روپے ادا کئے ... فی کس چار لاکھ روپے... اس وقت مجھے پریس کے کردار کا اندازہ ہوا۔مجھے لگتا ہے ان غریب بہنوں کی دعائیں آج بھی میرے ساتھ ہیں۔

یملا اور بوڑھی ماں ،میرے سامنے تھے... میں ’’ نیا پلازہ‘‘کے سائیے میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہ قبضہ گروپ والے بھی تو کل کسی آفت کا شکار ہو سکتے ہیں.. یہ قبضہ گروپ والے بھی تو کل کسی آفت کا شکار ہو سکتے ہیں۔یہ بڑے بڑے سمندری طوفان ، یہ لاکھوں انسانوں کو کھا جانے والے زلزلے، کیا ہم اپنے انجام سے پھر بھی بے خبر ہیں... میں نے یملے اور اس کی بوڑھی ماں کے سر پر ہاتھ رکھا کیوں کہ موبائل پر میری لاہور کے ایک پرنٹنگ پریس کے مالک حاجی یونس صاحب سے بات ہو چکی تھی ۔انہوں نے کہا ’’ میں اس بوڑھی عورت کا ہر طرح سے علاج کرائوں گا‘‘... میں مطمئن تھا کیوں کہ حاجی یونس ایسے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہتا ہے۔وہ ان پڑھ ہے مگر پڑھے لکھوں سے زیادہ سمجھدارہے... میں نے موڑ مڑتے ہوئے دیکھا ... ’’ نیا پلازہ‘‘ کے سایے میں کھڑا یملا ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے خدا حافظ کہہ رہا تھا۔


ای پیپر