سوشل میڈیا، قصور کا واقعہ اور ہم
25 ستمبر 2019 2019-09-25

میڈیا بلکہ سوشل میڈیا کاایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب کوئی بات خاص طورپر ”جرم“ یا کوتاہی کبھی کسی سے پوشیدہ نہیں رکھی جاسکتی، کوئی نہ کوئی موبائل کیمرہ حالات واقعات فلمبند کرلیتا ہے۔

ان دنوں پولیس کی درندگی، بے رحمی اور غیر شائستگی کے ویڈیو کلپ عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔

دین ہمیں صلہ رحمی، ہمدردی اور شائستگی سکھاتا ہے مگر ہم شاید دین سے دورہوگئے ہیں، ہمارا رہن سہن ، کھانا پینا ریت رواج ایسا ہوگیا ہے کہ ہمارے پاس دین کے لیے وقت نہیں۔ بھائی دین تو انسان کو انسان بناتا ہے، اس کے اصولوں اور ضابطوں پر عمل پیرا ہونے سے خود انسان کا فائدہ ہے، ہماری خوراک غیر فطری ہوتی جارہی ہے پھر اس میں ملاوٹ سے مزید خرابیاں جنم لے رہی ہیں۔ بدقسمتی سے اکیسویں صدی کے انسان کو خالص غذا نصیب نہیں۔ یہی نہیں پانی اور ہوا بھی ناخالص ہے۔ پانی کی قلت کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ آج جیسے ہر شخص کے پاس ”پانی کی بوتل“ موجود ہوتی ہے لگتا یہی ہے کہ آئندہ عشرے تک اگر دنیا ایٹمی جنگ سے محفوظ رہی تو انسانوں کو آکسیجن یعنی خالص ہوا کے بھی چھوٹے چھوٹے سلنڈر اپنے کاندھوں پر رکھنا پڑیں گے، بالکل پانی کی بوتل جس طرح ہمارے ہاتھ میں بیگ میں ساتھ رہتی ہے تازہ اور خالص آکسیجن بھی اسی طرح ہمیں ساتھ رکھنی پڑے گی۔

بات قدرے طویل ہوگئی ہم یہ کہہ رہے تھے کہ اب ہمارے ہرلمحے کی فلم ہمارے موبائلوں میں موجود رہتی ہے ہمیں اپنے روزوشب کا خیال رکھنا پڑے گا، اپنی حرکات وسکنات کو لگام دینی پڑے گی، ہوش میں رہنا پڑے گا اپنی زبان تک قابو میں رکھنی ہوگی ورنہ تماشا سرعام ہوگا۔ کوئی نہ کوئی شخص آپ کے ہرعمل کی فلم سوشل میڈیا پر ”اپ لوڈ“ کردے گا۔ آپ لوگوں سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کوئی عمل، کوئی ایسی بات ہی نہ کی جائے کہ آپ کو لوگوں سے منہ چھپانا پڑے، شرمندگی برداشت کرنی پڑے۔

بندہ تو وہ ہے جو ہمیشہ سراٹھا کے جیے، اسے کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہیے جس سے سرجھکانا پڑ جائے، بچپن سے ہم دین کی باتیں سنتے آئے ہیں پڑھ بھی رکھی ہیں۔ کراماً کاتبین بھی ہمارے پل پل کی خبر اور حساب رکھ رہے ہیں۔ قیامت کے روز ہمارا سارا کچا چٹھا، اعمال نامہ ہمارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ ہمارے ہاتھ پیر بھی گواہوں میں ہوں گے۔ میں تو سمجھتا ہوں آج کا موبائل بھی ہمارے ہرپل کا گواہ ہے۔ کیوں نہ ” ہم بندے“ بن جائیں اپنے ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ سرخرو رہیں۔ ایسا کرنے سے آپ طمانیت محسوس کریں گے۔ بات سوشل میڈیا کے فائدے سے شروع ہوئی تھی۔

ایک اچھا کلپ ہمیں علیم خان کا ملا ہے۔ جس میں لاہور شہر کی گندگی سے پاک کرنے کا پلان بتاتے ہوئے اپنے ماتحتوں اور ذمہ دارلوگوں کو کھل کر کہہ رہے ہیں۔ کہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کریں ورنہ مستعفی ہوکر گھر جائیں تاکہ ان ملازمتوں کے متلاشی لوگ آکر اپنے فرائض ادا کریں۔ “

علیم خان نے بڑے تیقن اور اعتماد سے دبنگ لہجے میں، اداروں میں کام نہ کرنے والوں کو تنبیہ کی کہ کام نہ کرنے اور غفلت کے مرتکب افراد کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔“

اس ویڈیو کلپ پر سوشل میڈیا، خاص طورپر فیس بک پر بھی تبصرے ہورہے ہیں، کتنا اچھا ہوتا اگر ایسا شخص وزیراعلیٰ پنجاب ہوتا۔

ہمارے خیال میں شخصیت بھی کرنسی کی طرح ہوتی ہے۔

باطنی کے ساتھ اگر ظاہری شخصیت پراثر ہو جس میں اعتماد یقین علم وآگہی کے رنگ بھی ہواکرتے ہیں تو اس شخصیت کا ایک ”سحر“ ہوتا ہے جو دوسروں پر طاری ہوجاتا ہے۔ ہمارے موجودہ وزیراعلیٰ بہت خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ شریف النفس اور حلیم الطبع ہیں مگر اپنی ظاہری شخصیت، لب ولہجے آواز اور اعتماد کے فقدان سے وہ اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں ابھی مشاق نہیں ہوئے۔ ہماری بیوروکریسی کو اجمل نیازی صاحب، ”بُراکریسی“ لکھتے ہیں۔ یہ بیوروکریسی کسی دھیمے، شریف النفس انسان کی باتوں پر زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے پنجاب پولیس تو بالکل بے لگام ہوچکی ہے پولیس کی کارکردگی تو سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سربراہ دبنگ اور تگڑاہو اس کی باتیں دوٹوک فیصلہ کن اور اعتماد میں گندھی ہوں تو نیچے تک اس کی شخصیت کا رعب طاری رہتا ہے۔ پنجاب میں ایک بارعب اور باصلاحیت وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔ ورنہ پنجاب کوجرائم کا گڑھ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اگلے روز چونیاں میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کی خبروں پر وزیراعلیٰ وہاں والدین کو پرسہ دینے گئے۔ اس کا ویڈیو کلپ بھی وائرل ہوچکا ہے۔ فرمارہے تھے ہم ایسے واقعات کے لیے سخت قانون بنائیں گے، ماشاءاللہ بہت اچھابیان ہے۔

قانون بنے گا پاس ہوگا پھر اس پر عمل ہوگا۔ اور یہی پولیس اس پر عمل کرائے گی۔ واہ

اس وقت تک ہمیں اس طرح کے سانحات برداشت کرنے پڑیں گے۔


ای پیپر