Source : Yahoo

سٹے بازوں کا 5کپتانوں سے رابطہ ,آئی سی سی کے سنسنی خیز انکشافات
25 ستمبر 2018 (17:53) 2018-09-25

دبئی:انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں کے چار کپتانوں سمیت مجموعی طور پانچ کپتانوں سے سٹے بازوں نے رابطہ کیا ہے۔

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے جنرل منیجر ایلکس مارشل کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران بک میکرز نے پانچ کپتانوں سے رابطہ کیا جنھوں نے اس بارے میں آئی سی سی کو فورا رپورٹ کر دی، ان پانچ کپتانوں میں چار آئی سی سی کے مکمل رکن ممالک کے کپتان شامل ہیں۔ سٹے باز زیادہ تر کپتانوں سے اس لئے رابطہ کرتے ہیں کیوں کہ گراﺅنڈ میں پورے میچ کو کپتان کنٹرول کرتا ہے اگر کپتان ان سے مل جائے تو وہ اسے پورا کر دیتے ہیں،آٹھ کھلاڑی ان واقعات میں ملوث پائے گئے جن میں چار سابق کھلاڑی اور پانچ کرکٹ ایڈمنسٹریٹرز بھی شامل ہیں۔

ایلکس مارشل کا کہنا ہے کہ کرکٹ میں کرپشن کے سلسلے میں بھارتی بک میکرز سب سے نمایاں ہیں، بھارتی سٹے باز دنیا بھر میں کھیل کے لئے شدید رسک ہیں، وہ ٹی ٹوئنٹی کے پرائیویٹ لیگز کو ہدف بناکر اپنے مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں۔آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے جنرل منیجر ایلکس نے کہا کہ بک میکرز کے لیے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ٹی 20 لیگز ہیں، درحقیقت یہ لوگ ٹی 20 کو پسند کرتے ہیں اور اسے اپنا ہدف بناتے ہیں، بک میکرز کے لیے پورا میچ فکس کرنا ممکن نہیں ہیں لہذا وہ یا تو سپاٹ فکسنگ کرتے ہیں یا میچ کے کسی ایک خاص سیشن پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

آئی سی سی نے حکام انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سٹے بازی کے 32 واقعات پر تحقیقات ہوئیں جبکہ آئی سی سی کو 23 واقعات رپورٹ ہوئے۔پاکستان کے کپتان سرفراز احمد سمیت ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کی چار ٹیموں کے کپتانوں نے اسپاٹ فکسنگ واقعات رپورٹ کئے جبکہ ایک کپتان کا تعلق ٹیسٹ کھیلنے والے ملک سے نہیں تھا۔میڈیا کے کیمرے بند کر کے انہیں سٹے بازوں کے بارے میں ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر اعتراف کررہے ہیں کہ انہیں کس طرح اپروچ کیا گیا، ایک سٹے باز جس کا نام انیل منور بتایا گیا اس کی تصویر دکھائی گئی اور صحافیوں سے کہا گیا کہ اگر آپ اسے جانتے ہیں یا اس کی اصل شہریت اور نام کا علم ہے تو ہمیں بتایا جائے۔ایلکس مارشل نے بتایا کہ پچھلے 12 ماہ کے دوران آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ نے 32 تحقیقات کیں جن میں سے 23 ایسی ہیں جن کے بارے میں آئی سی سی کو مطلع کیا گیا، اس عرصے میں آٹھ کرکٹر کرپشن میں ملوث پائے گئے جن میں چار سابق کرکٹرز شامل ہیں۔


ای پیپر