Source : Yahoo

بھارت سے دو شکستوں کے بعد مکی آرتھر کا بڑا اعلان
25 ستمبر 2018 (17:44) 2018-09-25

دبئی: قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاہے کہ پاکستان ٹیم اب بھی ایشیا کپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ٹیم بھارت سے بدترین شکست کے بعد بنگلہ دیش کو ہرا کر دباﺅ سے نکلنا چاہتی ہے۔

کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی بیٹنگ میں ناکامی کی بڑی وجہ ہے،پاکستان کی بیٹنگ میں اعتماد کا شدید بحران ہے، اور ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑیوں کو اپنی ناکامی کا ڈر رہتا ہے،کھلاڑی بنگلادیش کے خلاف سپر فور مرحلے کا آخری میچ جیت کر فائنل میں بھارت کو ہرانا چاہتے ہیں تاکہ دو بڑی شکستوں کا حساب برابر کر سکیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ کھلاڑی بدھ کو بنگلادیش کے خلاف سپر فور مرحلے کا آخری میچ جیت کر فائنل میں بھارت کو ہرانا چاہتے ہیں تاکہ دو بڑی شکستوں کا حساب برابر ہو۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ نے تھوڑی سی ہچکچاھٹ کے بعد تسلیم کیا کہ بھارت کے ہاتھوں دبئی میں نو وکٹوں سے شرم ناک شکست ان کے کوچنگ دور میں گرین شرٹس کی بدترین کارکردگی تھی۔ مکی آرتھر نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ بھارت کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم کا سوئچ آف تھا انہوں نے کہا سوئچ آف کہنا سخت جملہ ہے، بیٹنگ کے دوران ہم بھارتی بولنگ کو دباﺅ میں نہیں لاسکے، بولنگ میں بھارت کے خلاف جلدی وکٹ لینے کی ضرورت تھی لیکن فیلڈنگ نے مواقع گنوا دیئے۔

کوچ نے کہا کہ اگر ہم بھارت کی جلد وکٹ لے لیتے تو صورتحال مختلف ہوتی، ہمیں حقائق دیکھنے چاہیں کہ بھارت نے ہمیں مکمل آﺅٹ کلاس کردیا، بھارت کی اچھی ٹیم نے ہمیں اچھا کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ مکی آرتھر نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم نوجوان ہے جس میں شعیب ملک نے سب سے زیادہ 270 ون ڈے کھیلے ہیں، سرفراز احمد نے 94 اور محمد عامر نے 46 ون ڈے کھیلے ہیں، ان کے علاوہ اکثریت نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ یہ ٹیم تشکیل نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے اس بڑی ہار نے ان کھلاڑیوں کے اعتماد میں یقینا کمی کی ہوگی، ہمیں ڈریسنگ روم میں کچھ حقائق دیکھنے ہوں گے،کھلاڑیوں میں اعتماد کی کمی کو بیٹنگ میں ناکامی کی بڑی وجہ قرار دی جاسکتی ہے۔ مکی آرتھر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیٹنگ میں اعتماد کا شدید بحران ہے، اور ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑیوں کو اپنی ناکامی کا ڈر رہتا ہے، تاہم یہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم بطور ٹیم کہاں کھڑے ہیں۔

کھلاڑیوں میں اعتماد میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فخر زمان کی مثال دی اور کہا کہ جب بھارتی باولنگ نے ان پر دباو بڑھانے کی کوشش کی تو وہ جارحانہ آغاز دینے میں ناکام ہوگئے اور یہی وجہ ہے کہ پاور پلے کے اختتام پر 31 گیندوں پر ان کا اسکور صرف 12 تھا۔کوچ مکی آرتھر کے لیے دوسری تشویش بولنگ ڈپارٹمنٹ ہے جو، ان کے مطابق، اپنے منصوبوں سے ہی ہٹ رہا ہے، ہماری بولنگ میں تحمل نہیں تھا، یہ بہت مایوس کن تھی اور اسی وجہ سے ہم گھبراہٹ کا شکار ہوگئے۔


ای پیپر