ایمنسٹی سکیم میں کالا دھن سفید کرنے والے ٹیکس نادہندہ
25 ستمبر 2018 (16:56) 2018-09-25

اسلام آباد:ملک بھرمیں ساڑھے 3ہزارسے زائدلوگوں کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی سکیم2018 کے تحت300 ارب روپے سے زائدمالیت کاکالادھن سفیدکرانے کے لیے ڈکلیریشن کے مسودے تیار کروانے کے باوجودٹیکس ادا نہ کرنے کاانکشاف ہوا ہے جس پروفاقی حکومت نے ان کیخلاف کارروائی کے لئے غورشروع کردیا۔

میڈیاکودستیاب دستاویزکے مطابق ایف بی آر کو موصول ہونیوالی رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ سابق حکومت کی متعارف کرائی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت 3ہزار661 افراد نے300 ارب روپے سے زائدمالیت کے ملکی وغیر ملکی اثاثہ جات کو قانونی حیثیت دلوانے کیلیے ڈرافٹ ڈکلیئریشن تیار کرائے اورٹیکس کی ادائیگی کرکے ان اثاثوں کوقانونی حیثیت دلوانے کیلیے 2ارب 82 کروڑ 70لاکھ روپے کے ٹیکس واجبات پر مبنی پیمنٹ سلپ آئی ڈی(پی ایس آئی ڈیز) بھی جنریٹ کی گئیں مگراس کے باوجودٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی معیاد ختم ہونیکی آخری تاریخ (31جولائی 2018) تک ٹیکس کی رقم ادانہیں کی گئی۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت اربوں روپے مالیت کے ملکی وغیر ملکی اثاثہ جات کوقانونی حیثیت دلوانے کیلئے ڈرافٹ ڈکلیئریشن تیارکراکرپیمنٹ سلپ آئی ڈیزجنریٹ کرانیوالے تین ہزار661 افراد میں سے ایک ہزار60افراد غیر ملکی اثاثہ جات جبکہ2 ہزار601 افراد ملکی اثاثہ جات کو قانونی حیثئیت دلوانا چاہتے تھے۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک ہزار 60 افراد نے 160ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے غیرملکی اثاثہ جات کورعایتی ٹیکس ادائیگی پرقانونی حیثیت دلوانے کیلیے مجموعی طورپرایک ارب70کروڑ 60لاکھ روپے کاٹیکس جمع کرانے کیلیے پیمنٹ سلیپ آئی ڈیزجنریٹ کرائی گئیں اوران پیمنٹ سلپ آئی ڈیزکی بنیاد پرکالے دھن واثاثہ جات کو سفید کرنے کیلیے ڈکلیئریشن کے مسودے بھی تیارکروائے گئے مگر ان پیمنٹ سلپ آئی ڈیزکی بنیاد پر 31جولائی 2018 تک ایک ارب 70کروڑ60 لاکھ روپے پرمبنی ٹیکس کی رقم ادا نہیں کی گئی۔اسی طرح 2ہزار601 افرادکیجانب سے بھی 150 ارب روپے سے زائد مالیت کے غیر قانونی اثاثہ جات کو قانونی حیثیت دلوانے کیلیے ایک ارب12 کروڑ10لاکھ روپے کی پیمنٹ سلپ آئی ڈیزجنریٹ کروائی گئیں اور ڈکلیئریشن ڈرافٹس بھی تیارکروائے گئے مگران کی جانب سے بھی ایک ارب 12کروڑ 10لاکھ روپے ٹیکس کی رقم ادانہیں کی گئی۔


ای پیپر