کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے!
25 ستمبر 2018 2018-09-25

سابق وزیراعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم شریف اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر شریف کو جیل سے رہائی مل گئی، اب اس رہائی کی مدت کتنی ہوتی ہے ؟ یہ ہماری عدلیہ ہی بہتر جانتی ہے ۔ عدلیہ کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوتاجارہا ہے سب کچھ صرف عدلیہ ہی بہتر جانتی ہے ۔ گزشتہ دو روز سے میرا گلا سخت خراب ہے ، کھانس کھانس کر بُرا حال ہوگیا ہے ۔ میری بیگم مسلسل مجھے ڈاکٹر کے پاس جانے کے مشورے دے رہی ہے ، مگر میں سوچ رہا ہوں کسی جج کے پاس جاﺅں جو میری بیماری کے بارے میں نہ صرف بہتر جانتا ہوگا بلکہ اپنی طرف سے اس کا علاج بھی بہتر کرسکے گا کیونکہ ہمارے محترم چیف جسٹس آف پاکستان پچھلے کتنے ہی دنوں سے ہمیں یہ یقین دلارہے ہیں اس ملک کی ہر بیماری کا علاج صرف انہی کے پاس ہے ، ان کا علاج کس کے پاس ہے ؟ یہ سوچنے کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے آج کل ان کی ساری توجہ ڈیم بنانے کے لیے فنڈز یا چندہ وغیرہ اکٹھا کرنے پر ہے ورنہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے انہیں جو رہائی ملی ہے اس سے وہ محروم رہ جاتے۔ وہ شکر کریں عارضی طورپر سہی انہیں رہائی مل گئی جس کے نتیجے میں اب انہیں ایک بار پھر کھل کر آلو گوشت وغیرہ کھانے کا موقع مل جائے گا۔ ممکن ہے عدالت نے بھی یہی سوچ کر کچھ دن کے لیے انہیں رہا کردیا ہو۔ 1999ءکی ”بارہویں شریف“ کو جب انہیں جیل ہوئی تب بھی ان کی یہی حالت تھی، حالانکہ تب آتش جوان تھا۔ تب بھی وہ یہی تاثر دے رہے تھے ہم ڈیل نہیں کریں گے۔ پھر دنیا نے دیکھا وہ ڈیل کرکے سعودی عرب چلے گئے، وہاں جاکر کتنا ہی عرصہ ان کی زبان بند رہی۔ پھر اک روز اچانک انہوں نے بیان داغا” ہم خوش قسمت ہیں ہمیں مدینے والے نے اپنے پاس بلا لیا “۔ان کی یہ بات درست تھی، وہ واقعی خوش قسمت تھے اُنہیں مدینے والے نے اپنے پاس بلا لیا تھا ورنہ وہ چاردن اور جیل میں رہتے انہیں ” مکے والے“ نے اپنے پاس بلا لینا تھا .... سنا ہے اس بار وہ کوئی ڈیل نہ کرنے کے موڈ میں ہیں جس کی وجہ سے ان کا موڈ اکثر خراب رہتا ہے ، ویسے اس بار انہوں نے کوئی ڈیل کی تو امید ہے وہ سعودی عرب نہیں جائیں گے، کیونکہ سعودی عرب سے ابھی عمران خان ہوکر آئے ہیں اور انہیں جتنی عزت وہاں ملی ہے وہ اصل میں شریف برادران کی ”بے عزتی“ ہے ۔ سعودی حکمرانوں نے شریف برادران کی جتنی عزت کرنی تھی کرلی، ویسے بھی اب وہاں کرپشن کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے ، ان حالات میں وہ کسی کرپٹ دوست کی حمایت یا مدد کیسے کرسکتے ہیں ؟۔اُمید ہے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد عدلیہ سے ان کا مکمل طورپر اٹھا ہوا اعتماد کچھ دنوں کے لیے ایک بار پھر بحال ہو جائے گا۔مگر مجھے حیرانی یہ ہورہی تھی اس فیصلے کے بعد انہوں نے عدلیہ کے اس طرح گن وغیرہ نہیں گائے جس طرح انہیں گانے چاہئیں تھے، ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی ہے وہ کہیں منظور ہی نہ ہوجائے جس کے نتیجے میں انہیں دوبارہ جیل جانا پڑ جائے۔ اور عدلیہ کے حق میں گائے جانے والے گُن ایک بار پھر واپس نہ لینے پڑ جائیں۔ لہٰذا اس ضمن میں ان کا محتاط رویہ سمجھ سے بالاتر ہے ، ہاں اگر سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ایسی صورت میں وہ عدلیہ کے تھوڑے بہت گُن دوبارہ گانے شروع کردیں گے۔ اور اگر عدلیہ یہ چاہتی ہے وہ مستقل طورپر ان کے گُن گانے شروع کردیں اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے عدلیہ گزشتہ الیکشن کو مشکوک قرار دے کر دوبارہ الیکشن کروانے کے نہ صرف احکامات جاری کرے بلکہ عوام کو ہدایت بھی دے اس بار وہ صرف اور صرف نون لیگ کو ووٹ دیں، جوکہ بیگم کلثوم نواز کی موت کے بعد ان کا حق بنتا ہے ....جیل سے رہائی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اتنے خوش دکھائی نہیں دیئے جتنی ہم توقع کررہے تھے، ممکن ہے اس ضمن میں انہیں اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف اور بھتیجے حمزہ شہباز شریف کی ”سوگواری “ زیادہ عزیز ہو، سنا ہے بیگم کلثوم نواز کی وفات پر انہوں نے پیرول پر رہا ہونے سے انکار کردیا تھا۔ وہ پی ٹی آئی یا عمران خان کی حکومت کی جانب سے بخشی جانے والی اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا ناچاہتے تھے ،....شکر ہے انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اپنی رہائی کے فیصلے کو چیف جسٹس آف پاکستان کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرنے سے انکار نہیں کردیا ورنہ اس بار ممکن ہے شہباز شریف بھی انہیں نہ مناتے، .... ویسے ذاتی طورپر ہم ان کی رہائی سے بڑے خوش ہیں۔ پچھلے دنوں جب وہ اپنی بیگم کی وفات پر تین چار روز کے لیے پیرول پر رہا ہوکر آئے تھے ان کی حالت دیکھ کر کچھ دیر کے لیے ہمیں بھی ان پر بڑا ترس آیا تھا، ہمیں چونکہ فی الحال عمران خان کی حکومت بڑی عزیز ہے تو ہم سوچ رہے تھے ان کے غم کی شدت بڑھنے سے کوئی ایسا ”طبعی واقعہ“ نہ ہو جائے جس سے عوام کی ہمدردیاں نون لیگ کے ساتھ مزید بڑھ جائیں اور عمران خان کی حکومت خوامخواہ کسی مشکل میں پڑ جائے۔ ....دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی ٹیم اور ان کی حکومت کے کچھ ابتدائی اقدامات دیکھ کر ہم اس یقین کی کیفیت سے تقریباً نکل آئے ہیں کہ شریف خاندان سے لُوٹ مار کا پیسہ واپس لیا جائے گا۔ چنانچہ اگر لُوٹ مار کا پیسہ واپس نہیں آنا تو ایک سیاستدان کو صرف جیل میں بند رکھنے کا کوئی فائدہ ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان ہی ہوگا۔ ویسے بھی انہیں سزا کوئی کرپشن وغیرہ کی تو نہیں ملی تھی، حالانکہ اصولی طورپر ملنی کرپشن وغیرہ پر چاہیے تھی، جس ”جرم“ کی انہیں سزا ملی اس کی اتنی سزا ہی ان کے لیے کافی ہے کہ اب وہ اقتدار سے نہ صرف باہر ہیں بلکہ دوبارہ واپس آنے کی فی الحال کوئی امید بھی نہیں، جس کی واحد وجہ یہ ہے وہ مسلسل اس ناسمجھی کا شکار ہیں کہ جو اقتدار میں لے کر آتے ہیں وہ اقتدار چھین نہیں سکتے، .... جہاں تک اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بننے والے دورکنی بنچ کا تعلق ہے تو یہ اس حوالے سے بڑا شاندار فیصلہ ہے کہ دوران سماعت مسٹر جسٹس اطہر من اللہ کے جو ”فرمودات“ مسلسل سامنے آرہے تھے ان کے مطابق ہم اس یقین میں مبتلا ہوگئے تھے کہ نیب کے ان ملزمان کو کہیں ”باعزت بری“ ہی نہ کردیا جائے ، بلکہ ہم تو یہ بھی سوچ رہے تھے کہیں نیب کو ہی بند نہ کردیا جائے جو بے شمار حوالوں سے یہ ثابت بھی کررہی ہے وہ اس قابل ہے ، نیب نے اب سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مسترد کرنے کی اپیل کی ہے ، ممکن ہے ہمارے محترم چیف جسٹس آف پاکستان اس موقع پر نیب سے پوچھ لیں آپ نے ڈیم کی تعمیر کے لیے چند ہ کتنا دیا ہے ؟ ۔ نیب کو پوری تیاری کے ساتھ جانا چاہیے، کیونکہ اب انصاف وغیرہ اتنا نہیں جتنا ڈیم وغیرہ ہے !


ای پیپر