سردار عثمان بزدار پنجاب کے مثالی وارث
25 اکتوبر 2020 (12:20) 2020-10-25

جب آپ خود کو دوسروں کی خدمت کے لیئے وقف کرتے ہیں اور ایسی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔جس سے عام آدمی کی زندگی میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔یعنی جب آپ دوسروں لوگوں کی زندگی میں بہتری اور آسانی پیدا کررہے ہیں۔مقصدیہ کہ آپ انسانیت کی خدمت کرکے نیکیوں کی صورت بہت کچھ کمارہے ہوتے ہیں۔عوام کی خدمت کے یہ کام وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی پوری تندہی، مستعدی اور جانفشانی سے کررہے ہیں۔ان کا مشن صوبے کے عوام کی بے لوث خدمت کرنا ہے۔لوگوں کی فلاح کے کام ہی ان کی اصل کمائی اور نصب العین ہے۔اس سلسلے میں پنجاب میں عوام کو ریلیف دینے کے لیئے احسن اقدامات کیئے جارہے ہیں۔سستا سہولت بازار لگائے جارہے ہیں۔اس طرز پر لاہور میں 6سہولت بازار قائم کیئے گئے ہیں۔اسی طرح بہاول پور ڈویژن کے تنیوں اضلاع بہاول پور، رحیم یار خان اور بہاول نگر میں بھی 30سستا سہولت بازار قائم کیئے گئے ہیں۔اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی 

بنائے جارہے ہیں۔ ان سستا سہولت بازارمیں آٹا، چینی، سبزیا ں پھل کم قیمت پر فروخت کیئے جارہے ہیں۔سہولت بازار میں سیب 70روپے کلو سے 120روپے کلو تک دستیاب ہیں۔جبکہ چینی 85روپے اور پانچ کلو چینی پر 75روپے کی بچت عام آدمی کو دی جارہی ہے۔آٹا 10 کلو تھیلا 420 روپے اور20کلو 840روپے میں دستیاب ہیں۔ان سہولت بازاروں کا مقصدعوام کو مہنگائی سے ریلیف دینا ہے۔

پنجاب میں ان ڈھائی سالوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیئے کئی موثر اقدامات دیکھے جاسکتے ہیں۔اور  مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔صحت کے شعبے میں پنجاب کے 36اضلاع میں ساڑھے تین کروڑ افراد کے لیئے صحت انصاف کارڈ کا اجرا کیا گیا ہے۔صحت کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال سے ساڑھے سات لاکھ روپے کے اخراجات کا علاج کرایا جاسکتا ہے۔اسی طرح پنجاب میں صحت کے حوالے سے یہ امر بھی نہایت قابل تحسین ہے کہ کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی پنجاب میں بہترین کارکردگی رہی ہے۔ 

صوبے میں 16لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیئے گئے ہیں۔ صحت کے انفراسٹریکچر کو بہتر بنایا گیا ہے۔ڈاکٹرز اور عملہ صحت کے کارکنان کی 25ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کی گئی ہے۔جبکہ  9ہزار سے زائد بیڈز کا اضافہ اقتدار کے پہلے سال میں ہی کردیا گیا تھا۔اسی طرح 5مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں سمیت 9نئے ہسپتالوں بنائے گئے ہیں۔اسی طرح دیہات میں 129طبی مراکز صحت میں 24گھنٹے طبی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی ہے۔اسی طرح لاہور سمیت دیگر ڈویڑنوں میں پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ معذروں کیلئے احساس پروگرام، بزرگوں کے لیئے ہمقدم منصوبہ،باہمت بزرگ فنکاروں کیلئے پروگرام صلہ فن،خوابہ سراؤں کے حوالے سے مساوات کا پروگرام،تیزاب گردی کا شکار افراد کیلئے نئی زندگی،بیواؤں اور یتیموں کیلئے پروگرام سرپرست، شہدا کیلئے خراج شہدا پروگرام جیسے منصوبے جاری ہیں۔ پنجاب میں شعبہ ہائے زندگی کے افراد کیلئے شروع کیئے گئے فلاح منصوبوں سے ثابت ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو ریاست مدینہ بنارہی ہے۔

سیروسیاحت کے فروغ کے لیئے عوام کو سرکاری ریسٹ ہاؤس میں قیام و طعام کی سہولت دی جارہی ہے۔ہنر مندنوجوان پروگرا م کا آغاز کیا گیا ہے۔ جس کے لیئے پہلے مرحلے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوجوانوں کوٹریننگ دی گئی ہے۔نیا پاکستان منزلیں آسان منصوبے کے تحت دیہات کی 2200کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر و توسیع کی گئی ہے۔جس کی بدولت دیہی علاقے کے لوگوں کے لیئے شہر کی جانب آمدو رفت میں آسانی ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی کا ورژن ہے۔ پنجاب کا ہر شہری تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ اس کے ذریعے پاکستان کی ترقی ممکن ہے۔جس کے لیئے انصاف آفٹر نون اسکولوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 10800 اسکولوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا گیا ہے۔جو ایک کارنامہ ہے۔ پنجاب کے ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔جبکہ 7نئی یونیورسٹیوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔4انسٹی ٹیوٹ اور 4ٹیکنیکل یونیورسٹیوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔میرٹ پر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی تعیناتی کی گئی ہے۔اور 43نئے کالجز بنائے گئے ہیں۔میرٹ پر 5ہزار سی ٹی آئی کالج انٹرٹرینی اساتذہ کی بھرتی کی گئی ہے۔اسی طرح نئی ایجوکیشن پالیسی نیوڈیل کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔اساتذہ کے تبادلوں کے لیئے ای ٹرانسفر سسٹم متعارف کرایا گیا۔ جس سے 5ارب کی کرپشن کا خاتمہ کیا گیا ہے۔جبکہ صوبہ بھر میں 2800سے زائد کلاس رومز کی تعمیر کا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔اور اسپیشل ایجوکیشن کے اداروں کے لیئے 14نئی بسو ں کی فراہمی ممکن بنائی گئی ہے۔

پنجاب میں کوہ سلیمان سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں 4چھوٹے ڈیمز تعمیر کیئے گئے ہیں۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ نہری نظام پر جوجہ دی گئی ہے۔10سال تک نہروں کی ٹیل تک پانی کی فراہمی کا ہدف مکمل کیاگیا ہے۔وزیر اعلی نے 117کلومیٹر طویل جلال پور کینال کا سنگ بنیاد رکھا۔ جو 32ارب روپے سے مکمل ہوئی ہے۔4لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے۔صوبے میں 13اسٹیل اکنامک زون بنائے جارہے ہیں۔ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد سے مجموعی طور پر 10لاکھ روزگار اسکیم سے 30ارب روپے کے منصوبے سے 16لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہوگا۔چینی کمپنیاں قائم کرنے کے لیئے 22ہزار ایکڑ سے زائد اراضی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ پنجاب گروتھ اسٹریٹجی (strategy) 2023کااجراکیا گیا ہے۔جو اس حقیقت کی دلیل ہے کہ پنجاب لاوارث نہیں ہے۔ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صوبے کے مثالی وارث اور سربراہ ہیں۔جنہوں نے پنجاب کے مختلف محکموں میں کئی اقدامات کیئے ہیں۔جن میں انٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ کی پنجاب کرپشن کمپلینٹ ایپ کا اجرا کیا گیا ہے۔ٹیکس وصولیوں اور آن لائن ٹیکسز میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔سرکاری سطع پر خریداری کے عمل میں شفافیت کے لیئے ای ٹینڈرنگ ای آکشن اور  ای پریکیورمنٹ شروع کی گئی ہے۔پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیئے فرنٹ ڈیسک کا  قیام عمل میں لایا گیا ہے۔پولیس موبائل خدمت مراکز کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اور جیلوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔   

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں صوبہ پنجاب تسلسل کے ساتھ پھلتا اور پھولتا آگے بڑھ رہا ہے۔یہ وہ خدمات ہیں۔ جن کی بدولت صوبے کے عوام یہی کہتے ہیں۔ ویل ڈن سردار عثمان بزدار۔


ای پیپر