نواز شریف کی بیماری۔ آزادی مارچ کے لیے جھٹکا
25 اکتوبر 2019 2019-10-25

ہر عروج کو زوال کارخانۂ قدرت کا اصول ہے۔اسی طرح سیاست کے جہانِ فانی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن اس کی زندہ مثال ہیں ۔ ان کی قیادت میں پارٹی نے سیاست اور حکمرانی میں نئی چوٹیاں سر کیں ۔ انہوں نے اقتدار کی دنیا میں اپنے والد مرحوم مفتی محمود کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ۔ پاکستان میں 70 اور 80 کی دہائیوں میں اٹھنے والی سیاسی شخصیات میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن کا دورہی اس وقت شروع ہوتا ہے۔ پاور پالیٹکس میں مولانا کا ثانی ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ ان کے اقوال زریں کا نقطۂ معراج یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بغیر کوئی حکومت بن نہیں سکتی اور اگر بن بھی جائے تو چل نہیں سکتی۔ پاکستان سیاست کے طالبعلم کی حیثیت سے میں 70 ء کی دہائی سے شروع ہونے والے طرز سیاست کو (Indigeneus colonial Era ) یا دیسی نو آبادیاتی عہد پر موجود ہیں جس میں اقتدار ایک میوزیکل چیئر بن گیا اور مولانا فضل الرحمن نے دونوں اطراف کے خوب مزے لوٹے۔ وہ بر سر اقتدار رہنے کا ہُنر جانتے تھے ۔ پہلے تو انہوں نے اپنے والد محترم کے دیرینہ ساتھی مولانا سمیع الحق کو پارٹی سے الگ کیا جو جے یو آئی سمیع الحق گروپ بنانے پر مجبور ہوئے اور مولانا فضل الرحمن نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعتوں کی طرح اپنی دینی پارٹی میں بھی موروثی خلافت کی بنیاد ڈالی۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں انہوں نے عورت کی حکمرانی کے خلاف پہلے فتویٰ دیا مگر بعد میں ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جب انہیں ان کا فتویٰ یاد دلایا گیا تو انہوں نے کہا کہ فاسق کی حکمرانی جائز نہیں میں نے اس لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ اس دفعہ ان کا روئے سخن نواز شریف کی جانب تھا مولانا سمجھتے تھے اگر عورت کی حکمرانی جائز نہیں تو فاسق کی حکمرانی بھی اتنی ہی نا پسندیدیہ ہے۔ بعد میںا نہوں نے فتوے کی درمیانی راہ نکالی اور فرمایا کہ پاکستان کا آئینی حکمران اور سربراہ مملکت چونکہ صدر پاکستان ہے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم ہیں ۔ صدر نہیں اس لیے ان پر یہ فتویٰ لاگو نہں ہوتا۔

مولانا کی سیاست کا کرشمہ یہ تھا کہ ان کی پارٹی نے ملک کے طول و عرض میں 22 ہزار مدرسے بنائے جہاں غریب اور بے سہارا خاندانوں کے بچے پڑھتے تھے یہ سکول ان کو اقامت گاہ یا ہوسٹل کی مفت سہولت دیتے تھے۔ جیسے جیسے ملک میں غربت بڑھتی جاتی تھی مولانا صاحب کی مدرسوں کی رونقیں اور بڑھتی جاتی تھی۔ گویا ملک میں دیسی نو آبادیات کا جو نظام تھا وہ ہر طرح سے مولانا کے لیے فوائد کا باعث تھا۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ ہو جاتا تو یہ مدرسے ویران ہو جاتے یہی مولانا کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ ان کے جلسوں میں کسی بھی دینی پارٹی سے زیادہ مجمع اکٹھا کرنے کی صلاحیت تھی جو آج بھی قائم ہے۔ ان پر ڈیزل کی غیر قانونی امپورٹ یا اسمگلنگ کے الزامات بھی تواتر کے ساتھ لگتے رہے ہیں۔ مگر وہ اس کو سیاسی الزام تراشی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

مولانا ٹیبل ٹاک کے جادوگر ہیں اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہمیشہ ایک پُل کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ان کی جماعت دینی جماعتوں میں ووٹ بینک کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے ۔ وہ اپنی حکمت عملی سے ہر اقتدار یافتہ جماعت سے سمجھوتہ کرتے وقت منہ مانگی شرائط پر معاہدہ کرتے ہیں جس طرح پاکستان میں معیشت کے میدان میں مڈل مین کی موجودگی صارفین کے استحصال اور مہنگائی کی بنیادی وجہ ہے اسی طرح سیاست میں چھوٹی پارٹیوں جن میں دینی اور علاقائی اور لسانی پارٹیاں سر فہرست ہیں انہوں نے قومی سیاست میں ہمیشہ مڈل مین کا کردار ادا کیا۔ اگر گزشتہ 40 سالوں میں بڑی پارٹیوں نے کرپشن کے ذریعے ملک کو لوٹا ہے تو اس میں چھوٹی پارٹیوں نے اپنا حصہ وصول کیا ہے ۔ ایک طرف تو یہ بڑی پارٹیوں کے لیے اقتدار کی راہداری میں سہولت کار بنے اور جمہوریت کے منافی سودے بازیاں کیں جبکہ دوسری طرف اقتدار کی بہتی گنگا میں انہوں نے صرف ہاتھ نہیں دھوئے بلکہ باربار اثنان کیا ہے۔ اور ہر الیکشن میں نئے حکمرانوں کے ساتھ شامل ہو کر پرانے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی خاطر نئے گناہوں کا ارتکاب کیا۔

2018ء کا الیکشن اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں جہاں ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار سے باہر ہوئیں ۔ مولانا فضل الرحمن سیاسی زندگی میں پہلی بار اپنی سیٹ ہار گئے جسے وہ دھاندلی کہتے ہیں۔ حکومت سازی کے مرحلے پر مولانا نے دونوں بڑی پارتیوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے اور قومی اسمبلی میں حلف برادری کا بائیکاٹ کیا جائے مگر مولانا کو کامیابی نہ مل سکی اور تحریک انصاف کی حکومت قائم ہو گئی مولانا کی بائیکاٹ تجویز اس لیے بھی رد ہوئی کہ شکست کی وجہ سے ان کے سیاسی قد کاٹھ میں کمی آ چکی تھی یہ پہلا موقع تھا کہ مولانا کی جماعت اقتدار سے باہر بیٹھنے پر مجبور ہوئی۔

مولانا نے اپنی سیاسی بقاء کے لیے آزادی مارچ کا اعلان کر دیا جو اس وقت موضوع بحث ہے۔ اس مارچ پر مولانا نے اپنی عمر بھر کی سیاسی کمائی دائو پر لگا رکھی ہے یونکہ یہ مارچ اگر ناکام ہو گیا تو مولانا کے لیے اپنا سیاسی وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت شروع میں تو ان کے مارچ کا مذاق اڑاتی رہی انہیں کہا گیا کہ ہم آپ کو کنٹینر فراہم کریں گے مگر جب مولانا کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے حمایت کا یقین دلایا گیا تو حکومتی صفوں میں بو کھلاہٹ کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ خاص طور پر نواز شریف کے حمایتی بیان کے بعد حکومت نے مولانا کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔

تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت مولانا کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہے مگر شرط یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبہ سے دست بردار ہو جائیں مولانا بھی کبھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں اور دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی طرف بھی دیکھنا پڑتا ہے۔مولانا نے اب حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دے دیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد ضرور آئیں گے خواہ ہمیں 2 ماہ لگ جائیں اس بیان سے ان کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے حکومت دو ٹوک کہتے ہے کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہو گا۔

کچھ دن پہلے تک مولانا کی پوزیشن مضبوط نظر آتی تھی مگر شو مئی قسمت کہ جس طرح کرکٹ میچ میں جب کوئی ٹیم جیتنے والی ہو اور بارش شروع ہو جائے اور میچ ختم کرنا پڑے تو جو کیفیت غالب ٹیم کی ہوتی ہے اس وقت مولانا کی ہے جس کی وجہ میاں نواز شریف کی اچانک بیماری ہے۔ اب پوری سیاست کا رخ بدل گیا ہے میاں صاحب کی بیماری سے فوری طور پر قومی میڈیا میں آزادی مارچ کی جگہ میاں نواز شریف نے لے لی ہے اور اگر وہ صحت کی بناء پر جیل سے رہا ہوتے ہیں یا ان کی ضمانت ہوتی ہے یا انہیں بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت ملتی ہے تو مولانا کا آزادی مارچ ضمنی حیثیت اختیار کر لے گا۔ اس وقت آزادی مارچ سے زیادہ میاں نواز شریف لائیم لائٹ میں ہیں جس کی وجہ سے مولانا مذاکرات کی شکل میں انہیں فیس سیونگ ڈھونڈ لی ہے۔ مولانا کو چاہیے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی طرح 4 حلقے کھولنے والا دائو استعمال کریں اور حکومت کو پریشر میں لا کر اپنی سیٹ پر دوبارہ الیکشن کی شرط منوالیں۔ کیونکہ ان کا Titanic مارچ میاں نواز شریف کی بھاری بھر کم شخصیت کے برفانی تودے سے نا گہانی طور پر ٹکرا چکا ہے۔


ای پیپر