چین و عرب ہمارا، ـ
25 اکتوبر 2019 2019-10-25

حکیم الامت، شاعر مشرق و مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کے پہلے شعری مجموعے "بانگِ درا" میں" ملی ترانہ" کے عنوان سے شامل نظم کا پہلا مصرع کچھ تصرف اور تبدیلی کے ساتھ آج کے کالم کا عنوان ہے۔ اصل مصرع بلکہ پورا شعر اس طرح ہے۔ ؎ چین و عرب ہمارا ، ہندوستان ہمارا ۔۔مسلم ہیں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

پہلے مصرعے میں "ہندوستان "کے لفظ کی جگہ" ایران " کے لفظ کی تبدیلی یا تصرف کیا گیا ہے۔ اس تصرف یا تبدیلی کا تعلق وقت موجود کے کچھ حالات و واقعات سے جڑتا ہے ۔ہمارے لیے چین اور عرب ( عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب )اہم ہیں تو ایران بھی اہم ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے قدیم ثقافتی ، مذہبی اور جغرافیائی رشتے اور سب سے بڑھ کر ہمسائیگی کا رشتہ پایا جاتا ہے ۔ ہمارے وزیر اعظم جناب عمران خان نے حالیہ دنوں میں چین کا دورہ کیا ہے تو سعودی عرب جانے سے قبل ایران میں بھی قدم رنجا فرمایا ہے ۔ چین میں جناب وزیر اعظم نے ملک میں بدعنوانی اور کرپشن کے ہونے اور بدعنوان افراد کی پکڑ دھکڑ اور پانچ سوافراد کو پھانسی پر لٹکانے کی بات کی ہے تو ایران کے دورے کا مقصد ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا قرار دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت تک ہم ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کو حل کروانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی بجائے" سہولت کار " کا کردار ادا کرنے پر راضی ہو چکے ہیں۔ اگلے کچھ دنوں میں ہو سکتا ہے ہمارا کردارثالث اور سہولت کار سے مزید محدود ہو کر کسی نچلے درجے میں پہنچ جائے۔ خیر جو کچھ بھی ہوگا سامنے آجائے گا تاہم اتنا کہنا شاہد غلط نہ ہو کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا ایسا بھاری پتھر ہے جسے چوما تو جا سکتا ہے لیکن اس کو اُٹھانا کسی کی کم از کم ہمارے بس کی بات نہیں ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کے اسی کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان "شط العرب" کے مسئلے پر جنگ چھڑی جو کئی برسوں تک جاری رہی۔ اس جنگ کو رکوانے اور ختم کروانے کے لیے اسلامی کانفرنس تنظیم نے اپنے سربراہی اجلاس میں اسلامی ممالک کے کچھ سربراہان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں پاکستان کے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے ایران اور عراق خاص طور پر ایران کے کتنے ہی دورے کیے تاکہ دو اسلامی ممالک کے درمیان جنگ کو روکا جا سکے ۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ، اور مسلم اُمہ ایران اور عراق میں جنگ رکوانے میں کامیابی حاصل نہ کرسکی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے ساتھ ہمارے قدیم تاریخی رشتے اور روابط چلے آرہے ہیں ہم ایران اور وہاں کے ماضی کے اکابرین کوکیا سمجھتے ہیں اور کیا سمجھتے چلے آرہے ہیں اور ایرانی بالخصوص موجودہ دور کے ایرانی ہمیں کیا سمجھتے ہیں یہ کوئی ایسا ڈھکا چھپا معاملہ نہیں۔ دور کیوں جائیں بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے کو ہی لے لیجئے ۔ ایرانی بندرگاہ چاہ بہار میں مقیم یہ بھارتی جاسوس ایران سے ویزہ لے کر کئی بار پاکستان (بلوچستان) میں داخل ہوا اور یہاں تخریبی اور دہشت گردی کی کاروائیوں کو منظم کرنے میں ملوث رہا اور ایرانی سہولت کاروں کی مدد سے واپس ایران (چاہ بہار) جانے میں کامیاب ہوتا رہا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات میں بھی ماضی کے مقابلے میں کچھ فرق ضرور پڑا ہے۔ سعودی عرب بلاشبہ ہمارے لیے ہمیشہ بہت محترم ، عزیز اور مقدس رہا ہے اور اب بھی ہے ۔ مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اور حرمین شریفین (حرم کعبہ مکہ اور حرم نبویؐمدینہ ) وہیں موجودہیں۔اور ہم مسلمان پانچ وقت کی نماز خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے ادا کرتے ہیں ۔ سعودی عرب اور پاکستان ایک دوسرے کے ہر آزمائش میں پورے اترنے والے ساتھی رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع اور حرمین شریفین کی حرمت اور تقدس کو اپنی سلامتی اور دفاع سے بڑھ کر عزیز جانا ہے۔ سعودی عرب بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا رہا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کو کم کرنے اور اس کو ادھار یا آسان قسطوں پر خام تیل مہیا کرنے میں سعودی عرب نے کبھی بُخل سے کام نہیں لیا لیکن سچی بات ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا شکار ہی نہیں ہو چکے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بھی سچائی اور گہرائی کا وہ عنصر موجود نہیں رہا جو کسی زمانے میں ان تعلقات کا خاصہ تھا۔شاید سعودی عرب کی کاروباری مجبوریاںاور بھارت سے ہر روز بڑھتے ہوئے اقتصادی ، تجارتی اور سرمایہ کاری کے روابط اس کی بڑی وجہ ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اگر ایک قدم پاکستان کی طرف اُٹھاتے ہیں تو دو قدم بھارت کی طرف اُٹھاتے ہیں کہ ان کے اقتصادی مفادات کا تقاضا یہی ہے ۔ خیر چین ہو ، ایران ہو، یا سعودی عرب ، بہر کیف یہ ہمارے قریبی دوست ممالک ہیں اور ہم ان کی دوستی کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

جناب عمران خان ایران کے دورے پر گئے تو پتہ نہیں کس ترنگ میں آکرانہوں نے یہ ارشاد فرمایا کہ ماضی میں پاکستان کی سر زمین ایران میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی سرزمین کب اور کیسے ایران میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوئی اس کی اگر وہ وضاحت بھی کر دیتے تو بہتر ہوتا۔ یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان کے ساتھ ایران کی قریبی دوستی اس وقت بھی موجود ہے لیکن اس میں ایک" غیریت " یا کچھ کچھ دوری کا پہلوجو ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔اب اس میں کچھ اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ ایران میں شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی حکومت قائم تھی تو ایران جہاں امریکہ کا بہت قریبی دوست تھا وہاں وہ اپنے آپ کو علاقے کا چوہدری بھی سمجھتا تھا۔ پاکستان کے ساتھ ایران بالخصوص شہنشاہ ایران کا رویہ کسی حد تک تحکمانہ ہوتا تھا لیکن سادہ لوح پاکستانی ایران کو اپنا محسن ، مربی، اور پتہ نہیں کیا کیا سمجھا کرتے تھے۔ 1979میں ایران میں محترم آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب آیا تو پاکستان میں اس کا زبردست خیر مقدم کیا گیا۔ لیکن ایرانی سپریم لیڈر جناب آیت اللہ خمینی اور ان کے قریبی رفقاء وپاسداران انقلاب پاکستان کو امریکہ کا پٹھو قرار دیکر اس پر بھرپور اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ اب بھی صورت حال اس سے کچھ ملتی جلتی ہے ۔

جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے اس کی پاکستان کے برادراسلامی ملک کی حیثیت شروع سے مسلم چلی آرہی ہے۔ گزشتہ صدی کی ستر کی دھائی میں جب جلالۃ الملک خادم حرمین شریفین شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے حکمران تھے تو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات انتہائی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ 1975میں ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی شاہ خالد مرحوم سعودی عرب کے حکمران بنے تو یہ صورت حال ایسے ہی قائم رہی۔ شاہ خالد کی رحلت کے بعد شاہ فہد اور شاہ عبداللہ سعودی عرب کے یکے بعد دیگرے فرماں روا بنے تو ان کے ادوار میں بھی سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ بعد کے سالوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کچھ اتار چڑھائوبھی آیا۔ تین چار سال قبل جب پاکستان میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت قائم تھی تو سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ سعودی عرب چاہتا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجوائے لیکن پاکستان نے سعودی عرب اور یمن کی حکومت اور حوثی باغیوں جنھیں ایران کی حمایت حاصل تھی (اب بھی حاصل ہے )کے درمیان فریق بننے سے معذرت کرلی جس کی وجہ سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان قریبی تعلقات میں سرد مہری در آئی جو اب بھی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ ضرور موجود ہے۔تاہم اس سب کے باوجود یہ کہنے میں کوئی عار نہیں

چین و عرب ہمارا ، ’’ایراں‘‘ ہمارا

مسلم ہیں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا


ای پیپر