مغربی معاشرے میں بچے بوجھ بنتے جا رہے ہیں
25 اکتوبر 2019 2019-10-25

بچے انسانی معاشرے کا سب سے خوبصورت حصہ ہوتے ہیں ۔ انہی کے ذریعے انسانی نسل حضرت آدمؑ سے یہاں تک پہنچی ہے اور دنیا کے آخری دن تک چلتی جائے گی لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ معاشروں میں بچوں کی پرورش ایک بوجھ سمجھی جانے لگی ہے اور اسی لیے زیادہ آسان اور پُرآسائش زندگی گزارنے کے لیے بچوں کی پیدائش سے اجتناب کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے امریکہ میں کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ مرتب کی گئی جس کے مطابق اب بہت سی امریکی خواتین اپنے ہاں بچوں کی پیدائش پسند نہیں کرتیں۔ ایسی خواتین کی تعداد میں گزشتہ تیس برسوں سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ’’پیو ریسرچ سنٹر‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 20فیصد بوڑھی خواتین مائیں نہیں بنیں جبکہ 1970کی دہائی میں یہ شرح 10فیصد تھی۔ رپورٹ کی شریک مرتب ’’ڈویرا کون‘‘ کے مطابق ’’موجودہ دور میں خواتین جس طرح سوسائٹی میں اپنی ذمہ داریاں بڑھاتی جارہی ہیں اور انہیں سماجی طور پر زیادہ آپشنز مل رہی ہیں ، اس کے باعث وہ ماں بننے کو کم اہمیت دیتی ہیں ۔ ماضی کے مقابلے میں ماڈرن خاتون کے پاس بچے پیدا کرنے سے زیادہ دوسرے دلکش راستے موجود ہیں جن پر چل کر وہ اپنے لیے مضبوط مستقبل (سٹرانگ کیریئر) حاصل کرسکتی ہے‘‘۔ رپورٹ کے نتائج کی بنیاد مردم شماری کے بیورو کی آبادی کے بارے میں سروے کا ڈیٹا ہے۔ ڈویرا کون کے مطابق کامیاب شادی شدہ زندگی میں بچوں کی کم اہمیت رہ گئی ہے۔ 2007ء کے ’’پیو سروے‘‘ کے مطابق 41 فیصد شادی شدہ خواتین کے نزدیک بچے ازدواجی زندگی میں اہم ہوتے ہیں ۔ یہ شرح 1990ء کے مقابلے میں 65فیصد کم ہے۔ 2008ء میں 40سے 44سال تک کی عمر کی پانچ میں سے ایک سفید فام خاتون ماں نہیں بنی جبکہ 17فیصد سیاہ فام، ہسپانوی اور 16فیصد ایشیائی خواتین ایسے قبیلے میں شامل ہیں ۔ سیاہ فام اور ہسپانوی خواتین میں بغیر بچوں کی ماں (چائلڈ لیس وومن) کی تعداد 1994ء سے 2008ء کے درمیان تین گنا بڑھی ہے۔ یہ شرح سفید فام خواتین سے 11فیصد زیادہ ہے۔ تعلیم نے بھی خواتین کو ماں بننے یا نہ بننے کا آپشن لینے میں حوصلہ عطا کیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے ہاں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ہائی سکول ڈپلومہ رکھنے والی خواتین میں ماں نہ بننے کی شرح 17فیصد جبکہ گریجوایٹ خواتین میں یہ شرح 24فیصد ہے۔ ڈویرا کون کہتی ہے کہ ’’معاشی ماہرین کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین، کم تعلیم یافتہ خواتین کی نسبت اپنے کیریئر کو معاشی لحاظ سے زیادہ بہتر بنانے پر توجہ دیتی ہیں ‘‘۔ ڈویرا کون نے مزید نشاندہی کی کہ ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بڑی عمر میں شادی کرنا پسند کرتی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ ان کے ہاں تاخیر سے بچے پیدا کرنے کی چوائس ہے۔ یہ شرح کم تعلیم یافتہ خواتین میں نسبتاََ کم ہے‘‘۔ امریکی معاشرے میں خواتین کے مندرجہ بالا رویئے پر غور کریں تو کچھ سوالات ابھرتے ہیں کہ اگر امریکی نسل آگے نہ بڑھی تو دنیا کی قیادت کرنے کا امریکی خواب کیا صرف پراپیگنڈے اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی پورا کیا جائے گا؟ دوسرا یہ کہ اگر کبھی مستقبل میں امریکی خواتین کو اپنے بچوں کا خیال آگیا تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا وہ دنیا بھر سے مرد امپورٹ کریں گی؟ تاہم یہ ان کے سوچنے کی بات ہے۔ ہمیں صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مغربی معاشروں سے آنے والے ہر فیشن اور ہر فلسفے کو ہمیں کس حد تک قبول کرنا چاہئے؟


ای پیپر