باباجی کی باتیں ۔۔۔
25 اکتوبر 2018 2018-10-25

دوستو،کافی عرصہ پہلے اپنے ’’ باباجی ‘‘ سے متعلق ایک کالم تحریر کیا تھا، ان کی دلچسپ باتوں کو کافی پسند کیاگیا، آج پھر ان کی شدت سے یاد ستارہی ہے، خدانخواستہ وہ دنیا سے روٹھ کر چلے نہیں گئے، بس مسئلہ یہ ہے کہ وہ کراچی اور ہم لاہور میں ہیں، اس لئے ان سے پہلے ہفتہ دوہفتہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا سلسلہ تھم سا گیا ہے، اب عیدین پر ملاقات ہوتی ہے اور وہ اپنی یادوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، جس کے بعد کافی دیر ہنسی کے باعث ہمارے جبڑے اور پیٹ درد کرنے لگتے ہیں۔۔ باباجی کی باتیں بہت ہی معصومانہ، پرمغز ہونے کے ساتھ ساتھ اتنے ہلکے پھلکے انداز میں ہوتی ہیں کہ ہر بات آسانی سے براستہ کان دماغ میں اترجاتی ہیں۔۔پچھلے دنوں باباجی کو اتفاق سے فون کردیا۔۔سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ’’مخصوص‘‘ انداز میں فرمانے لگے۔۔تحریکِ انصاف کی حکومت کو سب لوگ ایسی ’’بہو‘‘ سمجھ رہے ہیں ،جو کھانا بھی وقت پر دے، پورے گھر کی صفائی بھی وقت پر کرے،آٹا گوندھتے ہوئے ہلے بھی نہ اور تو اور کاکابھی فوری پیداکردے۔۔ بابا جی کی ’’بولڈنیس‘‘ نے ہمیں مجبور کردیا کہ ہم سیاسی باتوں کو دیگر اہم ایشوز کی طرف گھمادیں، ورنہ شاید وہ اس سے بھی زائد پر اترآتے۔۔

ایک بار ہم نے باباجی سے پوچھا،بابا جی دوست اور دشمن کی پہچان کیا ہے؟بابا جی نے ماچس کی ڈبی میں سے دو تیلیاں نکالیں ایک کو آدھا توڑ کر پھینک دی اور باقی آدھی سے کان صاف کرنے لگے۔۔دوسری تیلی جلائی اور پھینک دی اسکے بعد بولے۔۔ مینوں نہیں پتہ پتر گوگل تے سرچ کرلے۔۔ باباجی کے پاس کہانیاں بڑی ہوتی ہیں۔۔ایک روز ہمیں کہانی سنانے لگے۔۔ایک بھینس گھبرائی ہوئی جنگل میں بھاگی جارہی تھی،ایک چوہے نے پوچھا،کیا ہوا بہن؟ کہاں بھاگے جارہی ہو؟۔۔بھینس بولی۔۔ جنگل میں پولیس، ہاتھی پکڑنے آئی ہے۔۔چوہے نے پوچھا، پر تم کیوں بھاگ رہی ہو؟تم تو ہاتھی نہیں۔۔بھینس کہنے لگی۔۔ یہ پاکستان ہے میاں !پکڑے گئے تو بیس سال تو عدالت میں یہ ثابت کرنے میں لگ جائیں گے کہ میں ہاتھی نہیں بھینس ہوں۔۔اوئے تیری تو،چوہے نے بھینس کی بات سن کر برجستہ کہا اور وہ بھی بھینس کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا۔۔ باباجی اپنی شادی کے واقعات سناتے ہوئے ایک روز کہنے لگے۔۔ جب میری ایک درازقد لڑکی سے منگنی ہوئی اور نکاح کے معاملات طے ہونے لگے تو لڑکی کے والد یعنی میرے ’’فیوچرسُسر‘‘ نے حق مہر دس ہزار روپے کہا،تو مجھ سے رہا نہیں گیا، بیساختہ زبان سے نکلا۔۔انکل،کتنے کی میٹر لگائی ہے آپ نے اپنی لڑکی؟؟ ۔۔ باباجی مزید فرماتے ہیں، جس دن میں نے ایف ایس سی پاس کرنے پر ابے سے کہا تھا کہ میں نے اب باہر رہ کر پڑھنا ہے تو ابے کے اس جواب پر کہ، ٹھیک ہے پتر، میں شیدے ماچھی سے کہہ کر تیرے لیئے ٹیوب ویل والا کمرہ خالی کرا دیتا ہوں، تو باہر رہ کر ہی پڑھ لیا کر۔ تو مجھے اسی دن ہی سمجھ آ گئی تھی کہ میرا مستقبل ادھر ہی ’’گونگلو مولیوں‘‘ کے درمیان میں کہیں ہے۔

باباجی اپنی طویل دورانیہ کی زندگی سے دلچسپ واقعات کے اوراق الٹتے ہوئے ایک قصہ یوں بیان کرتے ہیں کہ۔۔ میں سرکاری ہسپتال میں اپنی بیٹی کے کچھ ٹیسٹ کروانے کے لئے گیا ہوا تھا۔ فرصت ملنے پر وہیں ایک ٹھیلے سے اپنی بیٹی کے لئے برگر خریدا جو اس نے مزے سے وہیں کھڑے کھڑے کھانا شروع کر دیا۔ اتنی دیر میں میری نظر بنچ پر بیٹھے ایک بچے پر پڑی جو میری بیٹی کو برگر کھاتے بڑی حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے انسانی ہمدردی میں جلدی سے جا کر اس بچے کے لئے بھی برگر خریدا جو بچے نے بلا توقف کھانا شروع کر دیا۔ اتنی دیر میں بچے کی ماں جو اس کی پرچی بنوانے کے لئے کھڑکی پر گئی ہوئی تھی واپس آئی، بچے کو برگر کھاتے دیکھا تو دونوں ہاتھ اٹھا کر، باقاعدہ منہ قبلہ رخ کر کے، بد دعائیں دینے لگی ۔۔اس کی بددعاؤں کا ٹارگٹ وہ شخص تھا جس نے اس کے بچے کوبرگر لے کر دیا۔ کہہ تو وہ بہت کچھ رہی مگر میں نے اپنی بچی کو اْٹھا کر وہاں سے فرار ہوتے ہوئے جو چند باتیں سنیں وہ یہ تھیں کہ۔۔ایدا ککھ نہ روے جنے میرے بچے نوں ایہہ برگر لے کے دتا اے۔ میں اتنی دور سے کرایہ بھاڑا لگا کر اس کے نہار منہ ٹیسٹ کرانے لائی تھی اور اس بے شرم نے اس کے ساتھ ظلم کر دیا ہے۔۔

باباجی کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔۔فرماتے ہیں، زبان سب کی ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہوتا ہے کوئی بات کرتا ہے اور کوئی بکواس۔۔وہ مزید فرماتے ہیں۔۔بیوی سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو سارا قصور غلطی کا ہی ہوتا ہے۔۔ انہوں نے ہی ایک بار اپنی بیگم کو لاجواب کردیا تھا، بیگم نے صرف اتنا پوچھ لیا تھا کہ ، گوشت پک کر نہیں دے رہا کیا کروں؟؟ باباجی نے برجستہ کہا،گوشت سے پانچ منٹ باتیں کرلو۔۔ بابا جی کہتے ہیں۔۔کسی سے اگر کہہ دو کہ آسمان پر دو سو تارے ہیں، وہ ایک بار یقین کر لے گا۔۔ اس سے کہو کہ کتے کی دم اب سیدھی رہنے لگی ہے وہ مان لے گا۔۔مگر اس سے جب یہ کہہ دو کہ اس دیوار پر تازہ پینٹ کیا ہوا ہے تو وہ ایک بار انگلی لگا کر ضرور چیک کرے گا ۔۔ باباجی کو’’گولڈن ‘‘ ارشاد ہے کہ ۔۔ میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی، یہ چونا چار بار مجھے بھی لگ چکا ہے۔۔ ایک بار یونیورسٹی میں بہترین اردو بولنے کا مقابلہ ہورہا تھا۔۔سوال نہایت ہی مشکل پوچھا گیا تھا کہ ۔۔ سکون، اطمینان، خوشی، خاموشی اور ذہنی یکسوئی کو زیادہ سے زیادہ 5 الفاظ کے جملے میں بیان کریں۔۔ باباجی نے باآسانی یہ مقابلہ جیت لیا۔۔انہوں نے جواب لکھا تھا۔۔میری بیوی سو رہی ہے۔۔

پچھلے ماہ کراچی میں پھر سے بابا جی سے ملاقات ہوئی تو خلاف توقع ان کے ہاتھ میں سمارٹ فون تھا اور وہ وٹس ایپ پہ مسیج لکھ رہے تھے۔ یہ صورتحال ہمارے لئے نہ صرف نئی تھی بلکہ حیران کن بھی۔ حیران ہوکر پوچھا کہ ۔۔ باباجی لگتا ہے تبدیلی واقعی آگئی ہے۔ اس فضول چیز سے ہم پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چھڑا نہیں پا رہے اور ایک آپ ہیں کہ اس عمر میں نیا شوق پال لیا۔ بابا جی مسکرائے اور کہنے لگے ’’یہ اتنی بھی بری چیز نہیں۔ میں کافی شاکی تھا اس کے بارے میں لیکن آج اس واٹس ایپ نے وہ نکتہ بڑی آسانی سے سمجھا دیا جو میں برسوں نہیں سمجھ پایا تھا۔‘‘۔۔ہماری حیرت میں اضافہ ہوگیا۔۔ایسا بھلا کون سا نکتہ ہوسکتا ہے جو باباجی کو اسمارٹ فون سے سمجھ آگیا۔۔درخواست کی کہ تفصیلات بیان فرمائیں تاکہ ہم بھی مستفید ہوسکیں۔ ۔ باباجی بولے کہ ،میں دس بارہ دن سے دوستوں کے ساتھ واٹس ایپ پہ رابطے میں ہوں۔ جو دوست ایک دو دن کیلئے رابطہ نہیں کرتے ان کے نام اور پیغامات بہت نیچے چلے جاتے ہیں اتنے نیچے کہ میرا ہاتھ تھک جاتا ہے سکرول کرتے کرتے۔ اور جو رابطے میں رہتا ہے وہ لسٹ میں سب سے اوپر رہتا ہے۔۔۔ہم نے عرض کی ۔۔ باباجی ، ایسا ہی ہوتا ہے اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ یہ تو ہمیں پہلے سے ہی پتہ تھا۔۔بابا جی کہنے لگے، تم نے میری بات پہ غور نہیں کیا۔ ہم سب کا ایک رب ہے۔ جب ہم اس کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ،اس کو یاد کرتے ہیں، اس سے مانگتے رہتے ہیں تو اس کے پاس موجود لسٹ میں ہمارا نام اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم اس سے غافل ہوجاتے ہیں ،لسٹ میں ہمارا نام بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ بس میں یہی نکتہ سمجھا ہوں کہ اگر اس کی لسٹ میں نام اوپر رکھنا ہے تو وقتا فوقتا اسے کسی نہ کسی طرح یاد کرتے رہنا چاہئے۔


ای پیپر