وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بڑا مطالبہ کر دیا
25 اکتوبر 2018 (13:50) 2018-10-25

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے مگر افسوس تاحال اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان اور کشمیری اقوام متحدہ سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس کا اعتراف کرے اور اس مسئلے کے حل ی جانب آگے بڑھے اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بربریت کی تحقیق کے لئے انکوائری کمیشن قائم کرے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا ذکر واضح طور پر کیا نہ صرف کشمیر کا ذکر کیا گیا بلکہ میں نے اقوام متحدہ کے فلور پر کھڑے ہو کر کہا کہ پہلے ہم کہتے تھے اب میں نہیں پاکستان نہیں کہہ رہا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی رپورٹ کہہ رہی ہے جو جون 2018ء میں شائع ہوئی ہے جو بھارت کی اس بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ذکر کر رہی ہے جو پاکستان کیا کرتا تھا آج ہم نہیں آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ دوست ہے اور آپ نے یہ دوست سمجھا تو یہ رپورٹ بنائی ہے تو پھر ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے تو تحقیق کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کیا ہے۔ وہاں صورتحال بتدریج بگڑ رہی ہے۔ پچھلے دو دن میں وہاں دس کے قریب شہادتیں ہوئی ہیں۔

اب تحریک آزادی آگے بڑھ رہی ہے وہ ایک سیاسی تحریک بن چکی ہے۔ کشمیری نوجوانوں پر مشتمل یہ تحریک اب شہروں تک محدود نہیں رہی بلکہ مضافات تک پھیل چکی ہے۔ آج ہندوستان کے بہت سے دانشمند کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی حکمت عملی ٹھیک نہیں ہے اس پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ اس کا بھی ہم نے اقوام متحدہ میں ذکر کیا آج اقوام متحدہ کا 70 واں یوم پیدائش ہے آج میں نے دفتر خارجہ میں تمام ڈپلومیٹس کی دعوت دی تھی آج بھی میں نے یہ کہا کہ جہاں اقوام متحدہ کی بہت سی چیزوں کے معترف ہیں جن پر پیش رفت ہوئی ہے مگر وہاں بہت سی چیزیں حل طلب ہیں۔ ان میں ایک مسئلہ کشمیر کا ہے جو 7 دہائیوں سے حل طلب ہے جس کی قراردادیں بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہیں ان پر پیش رفت نہیں ہوئی اقوام متحدہ کو اس کا اعتراف کرنا چاہئے اور آگے بڑھنا چاہئے اس بات کا تقاضا وہاں کے کشمیری اور پاکستان کرتا ہے۔


ای پیپر