میٹھی جیل(11)
25 اکتوبر 2018 2018-10-25

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج گیارہویں قسط پیش خدمت ہے۔

                                      طویل غیر حاضری کی معذرت کہ ایک مرتبہ پھر امریکا میں موجود پاکستانی دوستوں کی محبت نے طلب کیا تو جانا پڑا ، عارضی طور پر میٹھی جیل کی روداد کو آج مختصر کرتے ہوئے یہ سلسلہ یہیں تمام کرتے ہیں، وحید کی داستان کو آج مکمل کرکے اگلے ہفتے سے موجودہ حالات اور واقعات پر بات کریں گے جن میں تحریک انصاف کی حکومت کی اب تک کی کارکردگی ، پاکستان کو درپیش مسائل سے لے کرمختلف صحافتی اداروں میں صحافیوں کی ڈاﺅن سائزنگ اور میڈیا انڈسٹری کی حالت زار شامل ہیں۔ فی الحال وحید کی داستان حیات کو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پر ادھورا چھوڑا تھا۔

وحید آگے اور کتے اس کے پیچھے تھے ،رات کے اندھیرے میں اسے سمتوں کا کوئی اندازہ نہیں تھا ،پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا وہ راستہ بھول گیا اور وہ امریکا میں داخل نہیں ہوسکا۔ کچھ دن کے وقفے سے تیسری کوشش میں اسے ایک اور گاﺅں کے پاس اتاراگیا اور مختصر یہ کہ وہ اس مرتبہ امریکا پہنچ گیا۔پولیس ، ٹیکسی ڈرائیور کا چھوٹا موٹا ڈرامہ ہوا لیکن یہ داستان میرے اندازے سے زیادہ طوالت پکڑتی جارہی ہے اس لئے اس کے ذکر کو چھوڑتے ہیں ،واپسی کے بعد ایک مرتبہ پھر اس نے اپنے آپ کو کام میں گم کرلیا۔مسئلہ وہی تھا کہ اس کے پاس کاغذات نہیں تھے لیکن نائن الیون کے بعد سے امریکا میں اٹھنے والا طوفان قدرے تھم چکا تھا لہٰذا مشکلات تو تھیں لیکن کام چل رہا تھا۔ 2003ءمیں غیرقانونی تارکین وطن کے لئے امریکی حکومت نے رجسٹریشن کرانے کی رعایت کا اعلان کیا جس کا فائد ہ اٹھاتے ہوئے وحید نے بھی اپنی رجسٹریشن کرالی۔ رجسٹریشن کے بعد وحید نے اپنی زندگی کو استوار کرنے کا فیصلہ کیا ،اس ساری بھاگ دوڑ میں گھر، شادی سنسار جیسی باتیں اس کی نظروں سے اوجھل رہیں تھیں ،پشاور پیسے بھجواتے رہنے سے وہاں حالات کچھ بہتر ہوگئے تھے،اب وہ اپنے بارے میں سوچ سکتا تھا۔2008 ءمیں اس نے ایک پاکستانی خاتون سے شادی کرلی،اس کی بیوی کے پاس پہلے سے امریکی نیشنلٹی تھی،اب وہ ایک امریکی نیشنل کا شوہر تھا،اس نے اپنے لئے امریکی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی شروع کردی۔2011ءمیں اسے گرین کارڈ مل گیا۔ گرین کارڈ کے حصول نے اس زندگی میں بے شمار آسانیاں پیدا کردی تھیں،اب وہ پاکستان آجا سکتا تھا،اپنی ماں اور دیگر بہن بھائیوں سے مل سکتا تھا،بارہ سال کے بعد اسے یکہ توت میں اپنے اس گھر میں آنے کا موقع ملاجہاں وہ پیدا ہوا تھا۔2015ءمیں اسے امریکی پاسپورٹ مل گیا،اس کا بچپن کا جو سپنا تھا وہ بالاخر پورا ہوگیاتھا۔ اس کی بیوی بھی ایک لا ءفرم میں ملازمت کرتی ہے دونوں نے مل کر ایک گھر بیس سال کی قسطوں پر لے لیا ہے ،ان کے بچے پیدائشی امریکی شہری ہیں۔وحید اقبال نے اپنے بھائی کو ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اپنی وطن واپسی کے سوال پر جواب دیا کہ وہ کسی قیمت پر پاکستان واپس آکر رہنے کو تیار نہیں ،اس کے الفاظ تھے اگر مجھے آپ پچاس لاکھ روپے روز بھی دیں تو میں یہ زندگی چھوڑ کر واپس نہیں آونگا۔محض اتفاق ہے کہ اس گفتگو کے وقت میں قریب تھا،وحید سے میرا آخری سوال یہ تھا کہ کیا وہ مطمئن ہے اس نے کہا کہ اس کا تو یہ خواب تھا اور بہت جدوجہد کے بعد اس نے اس کی تعبیر پائی ہے ،اس کے خیال میں دنیا کی جنت کا نام امریکا ہے،جہاں اسے دنیا کی ہر آسائش اور سہولت دستیاب ہے۔وہ کبھی امریکا نہیں چھوڑے گا،ہمیشہ وہیں رہے گا۔مجھے اس کی سوچ سے بنیادی اختلاف تھا لیکن میں نے اسے کچھ نہیں کہا،کچھ نہیں بتایا کہ تمہاری یہ دنیاوی جنت امریکا ،ایک میٹھی جیل ہے جس میں تم شوق سے آتو گئے ہو لیکن اب تم واپس جا بھی نہیں سکتے کہ تم نے خود اس کا انتخاب کیا ہے۔یہ نہیں کہ میں اسے یہ بتانا نہیں چاہتا تھا اصل بات یہ تھی کہ اس وقت تک مجھے خود بھی یہ معلوم نہیں تھاکیونکہ اس وقت تک میری ملاقات چاچا رب نواز سے نہیں ہوئی تھی،شہزاد نہیں ملاتھا،زیف سے شناسائی نہیں تھی اور سب سے بڑی بات کہ خان کی داستان نہیں سنی تھی جس نے سب سے پہلے مجھے کہا تھا کہ باو جی تسیں کتھے آگئے او ایس مٹھی جیل وچ۔ (جاری ہے)


ای پیپر