Israel,Saudi Arabia,mbs,meeting,intelligence
25 نومبر 2020 (19:51) 2020-11-25

تل ابیب :اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب میں محبتیں بڑھ رہی ہے اور تمام معاملات طے پا چکے ہیں اس سلسلہ میں سعودی عرب اور امریکی حکام کے درمیان ہونیوالوں ملاقات میں مبینہ طور پر اسرائیلی وزیر اعظم اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے بھی شرکت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کو عالمی وبا سے خطرناک ممالک کی فہرست سے نکال  دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیل اور سعودی عرب کے  درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات میں اب ایک بہت بڑی پیش رفت ہوئی ہے جب اسرائیل نے عالمی وبا سے متاثرہ خطرناک ممالک کی فہرست میں سے سعودی عرب کا نام نکال دیا ہے۔ اس پابندی کو ختم کرنے کے بعد اب سعودی عرب سے اسرائیل جانیوالے مسافروں پر 14 دن تک قرنطینہ میں رہنے کی پابندی نہیں رہی ہے

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اس حوالے سے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مبینہ طور پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ سعودی عرب پہنچے تھے۔ اخبار کے مطابق اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی شامل ہوئے ۔جبکہ خصوصی طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ یو سی کوہن نے بھی شرکت کی۔ 

 اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مبینہ دورہ سعودی عرب کے بعد اب اسرائیل اور سعودی عرب میں محبتوں کا سلسلہ باضابطہ شروع ہو گیا ہے جب اسرائیل نے سعودی عرب کو ان خطرناک ممالک کی فہرست میں سے نکال دیا ہے جن پر سرخ نشان لگ چکا تھا۔ اب سعودی شہری آزادانہ اسرائیل میں جا سکتے ہیں اور انہیں قرنطینہ بھی نہیں ہونا پڑےگا۔

یاد رہے کہ سعودی حکام نے ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملاقات میں اسرائیل کے کسی وفد کی شرکت نہیں ہوئی بلکہ یہ ملاقات امریکہ اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان تھی۔


ای پیپر