Khyber Pakhtunkhwa, children, school, one day, week, Shahram Tarakai
کیپشن:   Photo by Twitter
25 نومبر 2020 (16:06) 2020-11-25

پشاور: وزیر تعلیم شہرام ترکئی کہتے ہیں بچوں اور اسٹاف کی صحت اولین ترجیح ہے، خیبرپختونخوا میں بچے صرف ایک دن اسکول جائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جن اسکولز میں آن لائن کلاسز کی سہولت نہیں ، وہ ہفتے میں ایک دن بچوں کو بلاسکتے ہیں لیکن جہاں آن لائن کی سہولت دستیاب ہے ، وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسٹلز میں بھی صرف تیس فی صد طلبا کو رکھنے کی اجازت ہوگی۔

شہرام ترکئی نے کہا کہ عالمی وبا کی دوسری لہر سے بچوں کے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی وبا کی دوسری لہر پہلی لہر سے زیادہ شدت کی ہے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ عالمی وبا کے کیسز میں تیز سے اضافہ ہو رہا ہے ، عوام ایس او پیز کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ گزشتہ روز بھی ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے پر شاپنگ مال کو سیل کر دیا گیا۔ اگر لوگوں نے تعاون نہ کیا تو دکانیں بند ہوں گی۔

شہرام ترکئی نے کہا کہ صورتحال اگر مزید بگڑ گئی تو مکمل لاک ڈاؤن بھی لگ سکتا ہے، مساجد میں بھی علمائے کرام سے مشاورت کے بعد ایس او پیز تیار کئے جائیں گے۔

ادھر بلوچستان میں پرائیویٹ اسکولز مارچ میں مڈل تک امتحانات کے فیصلے کو ماننے سے انکاری ہیں، جس پر ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کہا کہ جو فیصلہ حکومت کرے گی سب کو ماننا ہوگا ورنہ کارروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ عالمی وبا کی دوسری لہر کے پیش نظر وفاقی حکومت نے 26 نومبر سے 10 جنوری تک سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکولز بند کرنے کے فیصلے پر بچے تو خوش ہیں لیکن والدین پریشان ہیں۔


ای پیپر