Nawaz Sharif, political career, PML-N
25 نومبر 2020 (12:42) 2020-11-25

نواز شریف کو اکتوبر 1999ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ و غضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اُس وقت نواز شریف لانڈھی جیل کراچی میں قید تھے۔ کلثوم نواز نے رہائی کے بعد نواز شریف سے جیل میں اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کچھ یوں کیا کہ ’’اپنی نظربندی کے اختتام پر میں، میری دونوں بیٹیاں مریم نواز اسما نواز اور ساس شمیم اختر کراچی پہنچے اور 22نومبر کو ہماری نواز شریف صاحب سے ملاقات کرائی گئی۔ میری نظر میاں صاحب پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ حالات کی سختیاں ان کی صحت اور چہرے سے صاف نظر آرہی تھیں مگر ان بدترین حالات کے باوجود ان کے مزاج کی لطافت اور بلندہمتی اپنی جگہ پر قائم تھی۔ انہوں نے ہم سے بالکل عمومی حالات کی طرح خیریت دریافت کی۔ ان کا عزم اس امرکی گواہی دے رہا تھا کہ وہ آئین کی بالادستی کے لئے ان بدترین حالات کے لئے پہلے سے ہی تیار تھے۔ ہم سب کا اس وقت تو فرط جذبات سے برا حال ہوگیا جب میرے نواسے، جو میاں صاحب کی گود میں تھا، نے ملاقات کے آخر میں اترنے سے انکار کرکے رورو کر اپنا برا حال کرلیا مگر میاں صاحب ہم سب کو تسلی دیتے رہے کہ حق کے راستے میں کربلا، کوفہ اور شام آتے ہیں مگر قافلہ حق رکتا نہیں بلکہ منزل کی جانب رواں دواں رہتا ہے اور ہمیں بھی ان جنت کی مالک پاک ہستیوں کے نقش قدم پر چلنا ہے کہ جن کی گردراہ ہونا بھی جنت کی خوشبو سے کم نہیں‘‘۔ مصیبت کے اِنہی دنوں میں کلثوم نواز نے اپنی والدہ کے انتقال کے حالات پر بتایا کہ ’’ابھی تو مجھ سے میرے والد کا سایہ شفقت جدا ہوا تھا کہ 15 دسمبر کو ماں کی مامتا سے بھی سدا کی جدائی ہوگئی اور میں اپنے آپ کو ان لمحوں میں اس بچے کی طرح محسوس کرنے لگی جو کارواں سے کسی جنگل بیاباں میں بچھڑ جائے۔ ہم نے مشرف کے نمائندہ سے رابطہ کرکے کہا کہ میاں صاحب اور شہباز بھائی کو کم از کم جنازے میں ہی شرکت کرنے کی اجازت 

دے دو مگر ادھر سے سوائے سنگدلانہ طرزعمل کے اور کچھ نہ تھا۔ چنانچہ ان دونوں حضرات کو جنازے میں شرکت سے محروم رکھا گیا مگر اپنی اِس حرکت پر پردہ ڈالنے کی غرض سے جنازے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے شدید پابندیوں کے ساتھ دونوں بھائیوں کو یہ لوگ لے کر آگئے۔ وقت اسی طرح گزرتا چلا گیا اور عید آئی جس میں نواز شریف اور میرے بیٹے حسین کو قید میں ہی نماز عید بھی ادا نہ کرنے دی گئی‘‘۔ کلثوم نواز اُس وقت کے وفادار پارٹی رہنمائوں کی مشرف مارشل لاء کی آمد پر خوشی، نواز شریف کو دغا دے کر وزیراعظم بننے کے خواب دیکھنے والوں اور نواز شریف کے پاکستان اور جمہوریت کی استقامت کے عزم کا ذکر کرتی ہیں کہ ’’میں اس امر پر سخت متعجب تھی کہ 12 اکتوبر کے بالکل اگلے روز ہی اعجاز الحق نے بیان دیا تھا جس سے ان کی فوجی اقدام پر خوشی چھپائے نہ چھپتی تھی اور یہ صرف ان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ کچھ دیگر افراد بھی پرویز مشرف کے سامنے نمبر بنانے کی دوڑ میں صاف نظر آرہے تھے اور ان لوگوں کی سرگرمیاں تو میاں اظہر کے گھر 9نومبر 1999ء کو ہونے والے اجلاس میں ہی طشت ازبام ہوگئی تھیں۔ میاں اظہر، اعجاز الحق اور خورشید قصوری نے 11 فروری 2000ء کو کھانے پر ملاقات کی۔ ان تمام ملاقاتوں اور اس کے بعد پیش کئے جانے والے تاثر کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا تھا کہ ہم پرویز مشرف کی بی ٹیم بن سکتے ہیں اور آمر کی خواہش پر مسلم لیگ میں پھوٹ ڈالنے کا فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔ اِن حالات میں بھی میاں صاحب کی اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو سخت ہدایت تھی کہ چاہے حالات بدتر سے بدترین کیوں نہ ہو جائیں مگر ہمیں ریاستی اداروں اور غاصبوں کے درمیان حدفاصل کا خیال رکھنا ہے اور ہمارا ٹکرائو غاصبوں سے ہے، ریاستی اداروں سے نہیں ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ مرنے والا موت کے وقت اپنے عزیزوں کو اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہے۔ اس نفسیاتی کیفیت کا احترام صدیوں سے کیا جاتا آرہا ہے۔ مثلاً سقراط کو جس صبح زہر کا پیالہ دیا گیا اُس آخری رات اس کے بیوی بچے اس کی چارپائی کے پاس موجود تھے۔ شاید اسی لئے پھانسی چڑھنے والے کی بھی آخری ملاقات اس کے قریبی عزیزوں سے کرائی جاتی ہے۔ مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی آخری ملاقات ان کی بیٹی اور اہلیہ سے کرائی۔ کلثوم نواز کی موت کے وقت ان کی بیٹی اور ان کے شوہر کو ان سے ہزاروں میل دور جیل میں بند رکھا گیا۔ شوہر بیوی اور ماں بیٹی کے درمیان دوری کی یہ صورتحال پیدا کرکے مرتی ہوئی کلثوم نواز سمیت قیدی نواز شریف اور قیدی مریم نواز کو علیحدہ علیحدہ اذیت ناک نفسیاتی سزائیں دی گئیں۔ اس سے قبل نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران جاتی عمرہ میں اُن کے والد میاں محمد شریف کی تدفین کے موقع پر نواز شریف اور شہباز شریف کو شامل نہ ہونے دینا بھی اذیت ناک نفسیاتی سزائوں میں سے ایک تھا۔ اب ایک مرتبہ پھر نواز شریف کا اپنی والدہ مرحومہ کی تدفین کی رسومات سے دور رہنا پہلے والی اذیت ناک نفسیاتی سزائوں کا سلسلہ ہے۔ ن لیگ کی رائے میں اِس موقع پر نواز شریف کی عدم حاضری کے ذمے دار وہی سنگدل غاصب ہیں جو نواز شریف کے آئین کی بالادستی کے نعرے سے خوفزدہ ہیں۔ دوسری طرف قیدی شہباز شریف اپنی والدہ اور قیدی حمزہ شہباز اپنی دادی کے آخری الفاظ بھی نہ سن سکے جبکہ مریم نواز اپنی ماں کی طرح اپنی دادی کے آخری لمحات میں بھی ان کے پاس نہیں تھیں۔ 


ای پیپر