Greatest, virtue, world, Quran
25 نومبر 2020 (12:36) 2020-11-25

آج معاشی سطح پر دنیا جس لوٹ کھسوٹ کا شکار ہے، حرص ، لالچ  اورکسادبازاری اس کے بڑے مظاہرہیں ۔ قرآن، ان سب کی جگہ ہم سے انفاق کی توقع کرتاہے۔یہ ایک ایسا لفظ ہے جس میں اسلام کا پورا معاشی تصور آجاتاہے ،احتکار Hordingکی نفی ہوجاتی ہے ،سرمائے کو جوڑجوڑ کررکھنے کی بجائے خرچ کرنے کے تلقین سرمائے کو مردہ وجود کی بجائے زندہ حقیقت بنادیتی ہے۔ افراد ایک دوسرے کے ہمدرد ہوجاتے ہیں زکوٰۃ، خیرات، حسنات اپنے اہل و عیال پر خرچ، ملک و قوم کے لیے خرچ، انفاق فی سبیل اللہ سب اسی کی جانب راہ نمائی کرتے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام اگر افراد معاشرہ کوبے طرح آزادکردیتاہے اور سوشلزم مساوات کے نام پر انھیں جکڑ دیتاہے تو قرآن ہمیں عدل کی تلقین کرتاہے جو انتہائوں سے بچنے اور زندگی کو توازن آشناکرنے کا راستہ ہے …اِعدلواھواقربُ للتقویٰ۔عدل اختیارکرو،وہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے …عدل ہے فاترہستی کا ازل سے دستور… 

قرآن، قومی سطح پر ہم سے احکم الحاکمین کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی توقع کرتاہے ۔قومی اوربین الاقوامی سطح پر انسان دوستی کی توقع کرتاہے، ایک عالم گیرانسانی معاشرے کے قیام کی توقع کرتاہے ۔بلندارادوںکی توقع کرتاہے ۔یہ سب کچھ قرآن کے نتیجے میں ہاتھ آسکتاہے اور قرآن سے ہماراتعلق اتنا کمزور ہو چکاہے کہ ہم اورہمارے بچے سولہ سولہ سال معمولی ڈگریوںکے حصول میں تو صرف کر دیتے ہیں لیکن قرآن کے مطالعے کے لیے ہمیں فرصت نہیں ملتی ۔جب مطالعہ ہی نہیں کرپاتے تو اس پر تفکرو تدبر کا مرحلہ کیسے طے ہوگا ؟اور جب تفکروتدبرہی نہیں ہوگا تو پھر اس پر عمل کون کرے گا؟ چنانچہ قرآن سے ہمارا تعلق اسے سینے سے لگانے اور طاقوں میں سجانے سے زیادہ نہیں ہے۔ اسی لیے توقیامت کے دن کہاجائے گا کہ اے میرے رب اس قوم نے قرآن کوچھوڑدیاتھا۔اس سے منہ پھیرلیاتھا،اس سے اعراض کرلیاتھا… 

وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوراً ۔اوررسول کہے گا کہ اے میرے رب میری قوم کے لوگوںنے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنالیاتھا۔(۲۵:۳۰)یہ اس وقت کا بیان ہورہاہے جب ظالم لوگ اپنی ناکامی دیکھ لیں گے اور اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھائیں گے ۔اپنی زندگی پر نظرڈالیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم نے یہ نہ کیاہوتا، وہ نہ کیاہوتا پھرانھیں یاد آئے گا کہ ہم نے فلاں کو اپنا دوست بنایا جس نے ہمیں بھٹکادیا ۔ہائے کاش ہم نے اسے اپنادوست نہ بنایاہوتا۔ آج سوچ لیجیے دوستیاں اس طرح ہلاک بھی کردیاکرتی ہیں دوست بنانا اتنامعمولی کام نہیں ہے ۔دوستیاں عمربھرکی ناکامی یا کامیابی کا باعث بن جایاکرتی ہیں۔پھرکہیں گے کہ ہائے نصیحت کی کتاب تو آگئی تھی ،ہمارے درمیان موجودتھی پھرہم نے کیوں اس پر کان نہیں دھرے …؟یہ ہے وہ منظرنامہ جس میں رسولؐ کی جانب سے کہاجائے گا کہ ان لوگوںنے قرآن کو ایک بے معنی کتاب سمجھا ،اس پر غور نہیں کیا۔ اس پر تدبرنہیں کیا۔اب تصور کیجیے کہ ایک تو یہ ظالم خود ترحمی(Self-pity) کا شکارہوں گے، اپنی ناکامی کے اسباب تلاش کررہے ہوں گے اور انھیں ذمہ دارقراردے رہے ہوں گے ۔دوسری طرف اللہ کے رسولؐ  بھی یہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوںنے اس قرآن کو نظراندازکیا، اسے بے کارسمجھا ،اسے ترک کیا ۔ اس گواہی کے بعد ان کے لیے  کونسی راہ رہ جائے گی …سوائے خسرانِ مبین کے، سوائے حسرت و نامرادی کے، سوائے ابدی ناکامی کے …اس وقت چڑیاں کھیت چگ چکی ہوں گی اور اس رنج و افسوس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگااس لیے آج وقت ہے اس کتاب کو پڑھنے کا اس پر غورکرنے کا ، اسے اپنی زندگی کا منشوربنانے کا۔

أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا یاان کے دلوںپر قفل چڑھے ہوئے ہیں؟ (۴۷:۲۴)   … اگرچہ یہاں بیان منافقین کا ہو رہا ہے اور کہا  جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، انھیں بہرے کردیا ،انھیں اندھے کردیا …ُ فَأَصَمَّہُمْ وَأَعْمَی أَبْصَارَہُمْ …اب وہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں لیکن مسلمین کو بھی اس آیت پر غورکرناچاہیے کہ قرآن کو نظراندازکرکے کہیں وہ بھی اس کا مصداق تو نہیں بن رہے ۔کہیںہمارے دلوں پر بھی وہ زنگ تو نہیں لگ رہا جو بالآخردلوں کو نورِہدایت سے محروم کردیتاہے ۔جس کے بعد وہ روشنی کے ادراک ہی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ اندھے ہوجاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتاہے ؟ایک حدیث میں آتاہے کہ جس طرح لوہے کو زنگ لگتاہے اسی طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتاہے ۔اس زنگ کا سبب کیا ہے…؟ دنیا میں ڈوب جانا ،لالچ، حب جاہ ومنصب ،پاکیزگی سے محرومی،سچائی کے مقابلے میں جھوٹ اور منافقت، محنت کے بجائے حسداور بہادری کے بجائے بزدلی، اخلاص کی جگہ منافقت…یہ اور اس طرح کے دیگر اخلاقی مفاسدبالآخر دل کو زنگ آلودہ کردیتے ہیں ۔ان کا علاج حسنِ اخلاق ہے ۔حسنِ اخلاق ہی نیکی ہے ۔اچھی نیت ،اخلاص، سب سے بڑھ کرہے ۔دیکھیے ہندومت نے سب سے بڑی نیکی کسے قرار دیا تھا…؟ ہندومذہب میں سب سے بڑی نیکی عاجزی اورانکسارہے آپ نے دیکھاہوگاکہ ان کے پنڈت اور مہاتما جھک کر ملتے ہیں،ہاتھ باندھ کرپرنام کرتے ہیں ، بڑے عجز وانکسارکا مظاہرہ کرتے ہیں۔بدھ مت میں سب سے بڑی نیکی ہمدردی ہے ۔ یہودیت میں سب سے بڑی نیکی قانون پرعمل پیراہونا ہے،بلکہ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگاکہ یہودیت تو سرتاپا قانون ہے، عیسائیت میں سب سے بڑی نیکی معافی ہے ،رحمدلی ہے جو تمہیں بیکار میں ایک کوس لے جائے تم اس کے ساتھ دوکوس چلے جائو ،جو تمھارے دائیں رخسارپر طمانچہ رسیدکرے تم اپنا بایاں رخسار بھی اس کے آگے کر دو…لیکن اسلام میں سب سے بڑی نیکی اخلاص ہے ۔ نیت کی پاکیزگی ہے۔ نیت جس پر ہمارے تمام اعمال کا دارومدار ہے …حدیث میں آتاہے  :  اِنّ اللّٰہ لایقبل اِلّا مَن  اخلص لہٗ   اللہ کوئی عمل بھی قبول نہیں کرتا جب تک وہ خالص اس کے لیے نہ ہو۔    اَلَا لِلّٰہِ الّدِینُ الخَالِصجان لو کہ دین خالص اللہ ہی کاحق ہے ۔مزیدحکم دیاگیاکہ   اِنّی اُمِرْتُ اَنْ اَعُبُدَاللّٰہَ مُخلِصًا لَّہُ الدّ ِینَ مجھے حکم دیاگیاہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کروں۔ اخلاص، آپ کے اعمال کو حسین بناتاہے ،انتشارسے بچاتاہے ،اطمینان عطاکرتاہے ،پھرصدمے نہیں اٹھانے پڑتے ،بہ 


ای پیپر