Pakistan, Afghanistan, mistrust, Imran Khan, Ashraf Ghani
25 نومبر 2020 (12:28) 2020-11-25

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے کابل کا تازہ ترین دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی تھے۔ یہ دورہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم تھا۔ ایسے حالات میں جب دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات جاری ہیں، پاکستان اور افغانستان کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ وہ باہمی عدم اعتماد کی فضا کا خاتمہ کریں۔ مسائل کی جڑ وہ سنجیدہ شکایات ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے ہیں۔ افغانستان طویل عرصہ سے پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو مدد فراہم کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں پاکستان کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد سے بیان بازی میں تلخی کو کم کیا گیا لیکن بد اعتمادی کی فضا میں کمی نہیں آئی۔ اسی طرح پاکستان کی بھی اپنی شکایات ہیں۔ اس کا واشگاف طور پر کہنا ہے کہ افغان سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ دہشت گرد پاکستان کو بد امنی اور عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل افتخار نے بھارت کی طرف سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے حوالے سے ’’ناقابل تردید ثبوت‘‘ اقوام عالم اور میڈیا کے سامنے پیش کئے ہیں۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک کے مابین کلیدی مسئلہ ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنا ہے۔ ماضی میں متعدد بار کوششیں اور وعدے کیے گئے لیکن زمینی حقائق میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی کہ الزام تراشیوں کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے ایک روزہ دورہ کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان میں دونوں فریقوں نے سلامتی کے حوالے سے ایک دوسرے کے خدشات دور کرنے کے لئے متعدد متفقہ اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا۔

’’ 15 دسمبر 2020 تک: امن کے دشمنوں اور امن عمل کو نقصان پہنچانے والوں کی مشترکہ طور پر نشاندہی ان کے خلاف کارروائیاں اور تعاون پر مشتمل انٹیلی جنس خدمات انجام دی جائیں گی۔‘‘

مشترکہ بیان کا یہ حصہ سب سے زیادہ اہم تھا۔ دونوں ممالک نے عسکریت پسندوں یا گروہوں کے معاملے سے نمٹنے کے لئے ایک واضح ٹائم لائن طے کی ہے جو دونوں کے لئے مشکلات یا پریشانی کا باعث ہیں۔

لیکن کیا واقعی دونوں فریق اس منصوبے پر عملدرآمد کریں گے؟ سوال بنیادی نوعیت کا اور مبنی بر حقیقت ہے کیونکہ ماضی میں کی جانے والی کوششیں مثبت نتائج نہیں دکھا سکیں۔ 2011 میں پاکستان کے آئی ایس آئی اور افغانستان کے این ڈی ایس نے انٹیلی جنس کے اشتراک اور تعاون کے لئے ایک ایم او یو پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم، اس وقت کے این ڈی ایس سربراہ نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ غنی انتظامیہ کو اس معاملے پر داخلی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وجہ سے وہ معاہدہ تکمیل تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار پر شکوہ کرنے والے عناصر اب بھی کابل انتظامیہ میں موجود ہیں اور ان دونوں خفیہ ایجنسیوں کے مابین تعاون کے خواہش کو کمزور کر سکتے ہیں۔اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ تازہ ترین اقدام بھی سابقہ کوششوں کی طرح ہی ناکامی کا شکار نہ ہو دونوں ممالک کی قیادت کو زیادہ سے زیادہ عملی کردار ادا اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اعلیٰ ترین سطح پر رابطوں و مواصلات میں بہتری بھی اعتماد سازی کا ایک راستہ ہے۔ مثبت بات یہ ہے کہ بات وزیر اعظم عمران خان کے دورہ تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کی ان ملاقاتوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے عمران خان کی دعوت قبول اور امکان ہے کہ وہ 2021 کی پہلی سہ ماہی میں اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

ایک ایسے وقت جب پوری دنیا کی توجہ انٹرا افغان مذاکرات پر مرکوز ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کوئی ایسا طریقہ کار طے کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے تحت وہ الزام تراشی کے عمل میں شامل ہونے کے بجائے بات چیت کے ذریعہ اپنے خدشات کو دور کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل ناصرف باہمی مسائل کے خاتمے بلکہ خطے میں امن، سلامتی و استحکام کا پیام ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ انتہائی مشکل کام ہے کیوں کہ افغانستان کے اندر اور باہر سے امن دشمن عناصر، دہشت گرد اور انتہاپسند گروہوں کے سرپرست و سہولت کار پاکستان اور افغانستان کو قریب لانے کے کسی بھی اقدام کو ناکام بنانے کے لئے یقینی طور پر ہر ممکن کوشش کریں گے۔ جو بائیڈن کے بطور امریکی صدر انتخاب نے پہلے سے ہی پیچیدہ صورتحال میں نئی جہتیں شامل کردی ہیں۔ ہو سکتا ہے افغان پالیسی کے حوالے سے ان کا ٹرمپ کے ساتھ زیادہ اختلاف نہ ہو لیکن وہ باغی گروپ سے مزید مراعات حاصل کرنے کے خیال میں طالبان کے ساتھ 


ای پیپر