For the first time, coronavirus and diabetic retinopathy have been linked
کیپشن:   انتہائی نگہداشت کی ضرورت کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔فوٹوفائل
25 نومبر 2020 (10:45) 2020-11-25

لندن:برطانوی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ذیابیطس میں مبتلا افرادکو دوسرے افراد کے مقابلے میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

سائنسی جریدے جرنل ڈائیبیٹکس ریسرچ اینڈ کلینیکل پریکٹس میں شائع تحقیقی مضمون میں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کورونا وائرس اور ڈائیبیٹکس ریٹنو پیتھی میں تعلق سامنے آیا ہے جس کے تحت ذیابیطس اور آنکھوں کے امراض میں مبتلا افرادکو اگر کورونا لاحق ہو جائے تو ان کو انٹوبیشن کی ضرورت دوسرے کورونا مریضوں کے مقابلے پانچ گنا زیادہ ہوگی۔

کنگز کالج لندن کی سائنسدان اینٹونیلا کوسیلو نے کہا ہے کہ ریٹنو پیتھی خون کی شریانوں کے نقصان زدہ ہونے کا نشان ہے اور اسی لیے اس کے مریضوں پر کورونا کا اثر بہت شدید ہو گااور ان کو ایسے میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت دوسروں سے پانچ گنا زیادہ لاحق ہو گی۔

اس تحقیق کے لیے کووڈ انیس کے ہسپتالوں میں داخل شوگر میں مبتلا 187افراد کو منتخب کیا گیا جن میں سے 179کو ٹائپ ٹو ذیابیطس تھی اور باقی ٹائپ ون کے مریض تھے، ڈائیبیٹکس ریٹنو پیتھی کے ان میں 67مریض تھے اور زیادہ تر مریض (45 فیصد)کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑی اور ان کو آکسیجن لگائی گئی۔

تاہم ڈائیبیٹکس ریٹنو پیتھی اور موت واقع ہونے کے درمیان براہ راست تعلق واضح نہیں ہوا، اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


ای پیپر