کرونائی عہداوروسوسہ
25 نومبر 2020 2020-11-25

کہتے ہیں ”وسوسہ“ سے بری بیماری اور وہم سے بڑاوبال کوئی نہیں ”کرونا“کو اگر معنوی اعتبارسے دیکھا جائے تویہ”وسوسہ“ ہی ہے۔ 

برصغیرمیں ”جان“ کا تصور جس قدر ارزاں ہے اس کی نظیر نہیں ملتی بات بات پر شاعرانہ ادب میں جان دینے کی بات سے قطع نظر دس دس روپے پر بھی قتل ہوتے دیکھے”غیرت“ کا جس قدر استعمال قتل وغارت کے لیے ہوا ہے اس کی بھی مثال نہیں لوگ جان سے چلے جاتے ہیں مگر اُن کی بات نہیں سنی جاتی، سچائی کو ثابت کرنے کے لیے بھی زہر کا پیالہ پینے کی شرط دانشوری کا تقاضاہے حیرت ہے نہ کوئی جیتے جی ہماری بات پر یقین کرتا ہے اور نہ ہم کسی کی بات پر یقین کرتے ہیں۔ حسن عباسی کا خوبصورت شعر یاد آگیا

وہ کرنہیں رہا تھا میری بات کا یقیں 

پھریوں ہوا کہ مرکے دکھانا پڑا مجھے 

منظر مکمل تو بنتا ہے مگر تماشائی ایک طرف کے بچتے ہیں جبکہ میری ناگفتہ خواہشوں میں ہمیشہ ایک خواہش سوئی رہی کہ میں اپنے جانے کے منظر میں کچھ آنکھوں میں اپنے لیے احترام کے آنسو دیکھ سکوں میں جانتی ہوں کہ اچھا، مثبت اور سوبر ہونا کافی ”بورنگ“ ہے جبکہ منفی جذبے ڈپریشن کو بھگاتے ہیں Eickedہونا کافی دلچسپ اور دونفی احساس ہے بہت سی دنیا چھوٹے چھوٹے اختلافات سے رونق لگائے رکھتی ہے بہت زیادہ معرفت اور اچھائی کی باتیں دنیا سے دل ہٹا دیتی ہیں۔ 

”کرونا“ کی سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ اس کے باعث خود احتسابی عمل سے گزرنا پڑتا ہے اس درجہ خود سے ملاقات رہتی ہے کہ اپنی اصلی شکل سے گھبراہٹ ہونے لگتی ہے، یہ بہت ہی مشکل کام ہے بہت زیادہ تخلیقی کام کرنے والوں کو بھی غیر تخلیقی لوگوں سے ملنا ضروری ہوتا ہے۔ حماقتوں کے مدوجزرکے ردعمل میں ذہانت کے سوتے پھوٹتے ہیں .... یہ دنیا جن رنگوں سے سجی ہے ان میں وحشت سے لے کر تدبر تلک ہزارہاسلوٹیں ہیں۔ کرونا درجہ بدرجہ لوگوں کے آزار کاباعث بنتا ہے جسے ہوجائے اُس کے لیے بھگتنے کی صورت میں اور جسے نہ ہو اس کے لیے خوف کی صورت میں سرپر تلوار بن کر لٹکتا رہتا ہے۔ 

دلچسپ امر یہ کہ تلوار چل جانے کے بعد بھی تلوار سرپر لٹکتی رہتی ہے۔ 

سب سے بڑی ”سبکی“ یہ کہ جب کوئی معصوم دوست ہاتھ بڑھائے اور اسے ٹالنا پڑے ہماری ثقافت میں محبت کا اظہار سرپر پیار دے کر عیدین پر گلے مل کر اور تسلی دلاسہ بھی دور سے کھڑے ہوکر کسے دیا جاسکتا ہے غم کے اندوہ میں وجود اپنوں کے کاندھے پر نہ گرایا جائے تو کیا سایہ دیوار میں بیٹھا جائے۔ 

مجھ کوگرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں

جس طرح سایہ دیوار پہ دیوار گرے 

شکیب جلالی بھی کیا خوب کہہ گئے پھر غالب کا کیا کیجئے جو برملا کہتے ہیں۔

پھر جی میں ہے کہ درپہ کسی کے پڑے رہیں

سرزیر بار منت درباں کئے ہوئے

اقبال کی ”خودی“ ”میں “کو مارنے والی صوفی خطے میں معروف تو ہوئی مگر محبوب نہیں مرغوب بھی نہیںہم مبالغے کی حدتک محبت کرنے والوں کا تکیہ کلام ہی یہ ہے کہ ”ماں صدقے“ جبکہ کرونائی عہد میں ہم نے ماﺅں کو بچوں سے باقاعدہ اجتناب برتتے دیکھا بڑی بڑی محبتوں کے بھرم اس کرونا نے کھول دیئے .... میری پھپھو جو اپنے بیٹوں پر جان چھڑکتی ہیں گیت بول ٹپے ماہیے انہیں ازبر ہیں اس شدت پسند کرونائی عہد میں پھسل کر فرش پر آرہیں بیٹوں نے بڑھ کر اُٹھانا چاہا تو بول اُٹھیں نہیں مجھے ہاتھ نہ لگاﺅ میں خود ہی اُٹھ جاﺅں گی ان کی احتیاط بہت اچھی بات ہے مگر محبت اُتنی ہی ہوتی ہے جتنی خطرات کے وقت موجود ہو باقی ملمع سازی ہے جس کی ہم سب کو بڑی عادت ہے۔ 

ہم کہتے یہی ہیں کہ ہم تو منہ پر سچ بولتے ہیں مگر یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ ہم اپنے سچے خیالات کا اظہار بندوں کی غیرموجودگی ہی میں کرتے ہیں۔ 

جو ہم منہ پر کرتے ہیں اسے ”بدتمیزی“ کہتے ہیں بات وسوسے سے شروع ہوئی تھی جوکہ ایک دل میں بھی پڑ جائے تو پورے گھر کی روشنی گل ہوجاتی ہے جبکہ دلوں میں ہو تو دل بجھ جاتے ہیں دھڑکا موت سے بڑی سزا ہے بالکل ایسے ہی جیسے خوشی سے بہتر خوشی کی خبر ہوتی ہے اسی طرح موت سے بدتر اس کا پیشگی اعلان ہے۔ 

قطرہ قطرہ مرنا ترس ترس کر جینا کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے ہسپتالوں کے ہسپتال گواہ ہیں شہید کی موت اجل کے تقاضے تو پورے کرتی ہے مگر خوف سے بالاتر ہوتی ہے ہرطرح کی موت کا تجزیہ کرتے رہے مگر ”اچھوت“ موت کا منظر کبھی نہ دیکھا تھا وہ جس میں کوئی مرا ہوا چہرہ نہ دیکھنا چاہے وہ جہاں مخملی لمس نہ سہی پلاسٹک کا بیگ میسر ہو ایسا ایسا منظر کہ پہلے والے دکھ اچھے لگنے شروع ہو جائیں اپنا شعر یاد آگیا 

کمی ہوئی ہے ذراسی نئے غموں کے بعد

ہماری پچھلی پریشانیوں میں اب جاکر 

ہماری بڑی پیاری دوست شاعرہ ہیں انہوں نے ایک بار مجھے کہا کہ صوفیہ ایسا بھی وقت آجاتا ہے جب شوہر اچھے لگنے شروع ہو جاتے ہیں میں نے مصنوعی حیرت سے کہا ایسا کب ہوتا ہے انہوں نے فرمایا جب اولاد ان سے بھی زیادہ بے حس نکلتی ہے، عاجز آکر کہا درجات ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کبھی سوچا کرتے تھے کہ یہ بہت بُرا ہونا اوربہت اچھا ہونا کیا ہوتا ہے کہ انسان یا تو اچھا ہوتا ہے یا بُرا تب پتہ چلا جب گلوکار غلام علی نے اپنے بھارت میں ایک موسیقی کی محفل کے حوالے سے بتایا کہ وہ ایک غزل گارہے تھے اور مداحین میں سے برابر ایک شخص داد کی غرض سے مقرر مقرر کہہ رہا تھا جب مصرعہ دہراتے دہراتے ان کا حلق خشک ہوگیا پھر آواز آئی ”مقرر“ جواباً غلام علی نے کہا .... بھئی بہت ای فٹے منہ ....

جب کچھ نہیں بن پڑتا اور غیرمنطقی باتیں سن سن کہ حشر ہوجاتا ہے تب ہی ”فٹے منہ“ تشفی کرتا ہے 

ایسے بہت سے فقرے ہیں جو تسکین جان بنتے ہیں جس میں ”دفع ہو“ اچھے اور برے دونوں معنوں میں شامل ہے بس لہجے کا فرق ہے سہیلیاں ”چغلیوں“ کے عروج پر خبروں کی پھوار سنتے سنتے بار بار ایک دوسرے کو کہتی چلی جاتی فٹے منہ.... جادفع ہو.... یہ ہمارے ہاں محظوظیت کے جملے بھی ہیں بہت زندگی کی چاہ ہو تو کہتے ہیں ”ہائے میں مرجاﺅں“ کسی کو بہت سوہنا کہنے کو دل کرے تو کہتے ہیں .... جاکوجیا“اردوادب میں بھی محبوب کو ظالم ، قاتل جفاشعار اور نہ جانے کیا کیا اپنے سب سے پیارے بچے کو”کپتا“ کپت ڈالنے والا جوکہ لڑائی کی ایک ”فسادی“ فارم ہے.... لڑاکا الگ ہوتے ہیں فسادی الگ اور جھگڑالو الگ .... ہم نے محبوب کو پکارنے کے لیے کبھی سن چنگیا.... نہیں کہتے سنا.... گل سن بھیڑیا.... ہی سنا،سب سے پیاراورلاڈلہ بچہ جتنے مرضی ول چھل کپٹ کرے اسی سے پیار کرتے ہیں کہ ہمیں اچھائی سے کوئی واسطہ ہی نہیں اچھا شریف بچہ گھر میں ہمیشہ کارنر ہی ہواہوتا ہے مشاہدے ہی نہیں تجربے کی بات ہے اولاد میں عزیز ترین بچہ ہی بے وفائی کرتا ہے کہ وفا کی توقع میں ہی بے وفائی کا اجراءہوتا ہے۔


ای پیپر