سچائی کی تلاش
25 نومبر 2019 2019-11-25

میاں محمد نواز شریف بیرون ملک چلے جانے پر مسلم لیگ (ن) کے بجائے پی ٹی آئی کی قیادت نے سکھ کا سانس لیا کہ اب وہ دعویدار ہیں کہ اپنی باقی مدت پوری کریں گے لہٰذا گھبرانا نہیں، پنجاب کے ایک وزیر بڑے فخر سے پنجاب کا باقی صوبوں سے موازنہ کرنے کا کہہ رہے تھے یہ جانے بغیر کہ دراصل شہباز شریف کے دس سالہ اور پرویز الٰہی کے 5 سالہ دور حکومت کے اثرات ہیں جو ابھی 13 ماہ اچھے گزارا ہو گیا ورنہ ان کا کچھ کمال نہیں۔ حقیقت کا تقاضا ہے کہ خیبر پختون کا موازنہ دیگر صوبوں سے کیا جائے جہاں پر ان کی حکومت کا دوسرا دور شروع ہو چکا اور خیبر پختونخوا کی زبوں حالی وطن عزیز کے تمام صوبوں سے بد تر ہے۔ پنجاب اب کئی حوالوں سے شہباز شریف کے وقت کا پنجاب نہیں رہا ہر شعبہ اور ادارہ انحطاط پذیر ہے جبکہ 1122، سیف سٹی، ڈولفن فورس دل کا ہسپتال میں سابقہ ادوار کے کارنامہ ہیں ۔ مہنگائی، بیرورگاری، بیماری ، بے بسی تو شاید وطن عزیز کے عوام مقدر میں لکھوا کر لائے تھے مگر موجودہ دورمیں وہ سچی بات سننے کو ترس گئے۔ موجودہ حکمرانوں کی حکمرانی تو دراصل نواز شریف کے پچھلے دور میں شروع ہو چکی تھی ۔ 2014ء کے دھرنا کے ساتھ میاں نواز شریف کا عملاً اقتدار ختم ہو چکا تھا مگر ان کی جماعت کے لوگ اپنی اپنی وزارت میں نمائشی حکمرانی کی علامت رہ گئے تھے۔ اگلے روز عمران خان نے دعویٰ کیا کہ میں دھرنے کا اسپیشلسٹ ہوں واقعی درست کہتے ہیں۔ لوگ تو نہروں کے کنارے ایک ٹانگ پر چلہ کرتے ہیں انہوں نے ایک انگلی پر 126 دن کا دھرنا دیا۔ موصوف نے خود فرمایا کہ میں نے شوکت خانم ہسپتال سے ایک بہت بڑے اور اچھے ڈاکٹر کو بھیجا اور پتا کروایا تو اس نے تصدیق کی کہ نواز شریف کی صحت انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شیخ رشید حتیٰ کہ ارشاد بھٹی بھی بیماری پر تشویش کا اظہار کرتے رہے۔ بالآخر کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک بھیجنے کا ارادہ کیا اور انسانی بنیادوں پر 7ارب روپے کا زر ضمانت مانگ لیا تا کہ بعد میں اپنے ووٹروں کو بتائیں کہ پیسہ برآمد ہو گیا مگر عدالت نے حکومتی فیصلے پر ہی عمل درآمد کرتے ہوئے 7ارب حکومت کی شرط ختم کر دی اور مزید پابندیاں جو قانونی اعتبار سے معقول تھیں عائد کر دیں اب نوا زشریف کی روانگی پر انتقام کے شعلے بھڑک اُٹھے۔ پہلے تو صدمے میں ’’وزیراعظم‘‘ 2 دن کی چھٹی پر چلے گئے ان کا مجھے ایک حال ہی میں دیا گیا انٹرویو یاد آ گیا کرکٹ کے دنوں میں لڑکوں سے میں کہتا میچ ہارنے کے بعد آپ میڈیا کو فیس نہ کرو نہ کسی تقریب میں جاؤ گویا عمران خان کی نفسیات یہ ہے کہ شکست کی صورت میں لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے لہٰذا نواز شریف کی روانگی کے بعد دو دن کی چھٹی لی اور جب موصوف پردہ سکرین پر آئے تو نواز شریف کی بیماری کو مشکوک قرار دے دیا۔کامیڈین کے انداز میں بیماری کا تمسخر اڑایا گیا۔

بلاول کا بھی تمسخر اڑایا گیا کہ وہ پانی زیادہ آتا ہے والا بھی آ گیا۔ عمران خان کی باتوں اور طرز عمل کا دفاع جتنا ان کے حامیوں نے کیا ہے شاید ہی کسی کا کیا ہو۔ بلاول بھٹو نے بارش زیادہ آنے پر جب کہا کہ بارش زیادہ ہو تو پانی زیادہ آتا ہے۔ دراصل سب جانتے ہیں کہ وہ کہنا چاہتے تھے کہ بارش زیادہ ہوئی ہے جبکہ کراچی شہر ایسا ڈیزائن ہی نہیں ہوا تھا کہ بارشوں کے موسم کا مقابلہ کر سکے پنجاب میں بھی بارش زیادہ ہو تو سیلاب آ جایا کرتے ہیں حالانکہ پنجاب میں بارشوں کے موسم اور سیلاب کے رجحانات باقاعدہ ایک سیزن سے چلتے ہیں مگر کراچی ایسا نہیں تھا جدہ میں بارش ہو تو کیا کچھ بہہ جاتا ہے کیونکہ سعودییہ کے شہر بھی بارش کو مد نظر رکھ نہیں بنائے گئے۔ اب موسمیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں تو چند سالوں سے کراچی کا برا حال ہے اور یہ حال جنرل مشرف کے دور سے جاری ہے۔ اس کے بعد کراچی کے لیے سیوریج کے منصوبے بنائے گئے اس تناظر میں اگر جناب بلاول بھٹو نے بول دیا تو ذرا غور فرمائیں تقریر، دھرنا سپیشلسٹ نے جب انڈہ، مرغی، مرغی انڈہ کی گردان کی تھی، مدینہ سے تشبیہات دیں، اس سے پہلے جب خیبر پختونخوا میں لوگ ڈینگی سے مر رہے تھے ان کی حکومت تھی اور بڑے دعوے چل رہے تھے تو فرماتے ہیں سردی آئے گی ڈینگی ختم ہو جائے گا۔ اس وقت آئن سٹائن کی روح کانپی نہ میو برادران قبروں سے اُٹھ آ گئے تونسہ کو بھی چونسہ سمجھتے ہیں۔

فرماتے ہیں مولانا کے دھرنے میں جھوٹ بولا گیا موصوف نے 126 دنوں میں کونسا سچ بولا تھا۔ کوئی ایک بات آج تک کے لمحے میں ایسی نہیں کی جس پر قائم رہے ہوں۔ بس قوم کو سراب کی طرف بھگائے جا رہے ہیں۔ قوم حکمرانوں کے جھوٹ پہ مبنی دعووں کی وجہ سے سچائی کی تلاش میں ایسے پھر رہی ہے جیسے جھوٹ کا صور پھونکا گیا ہے اور ماں بچہ نہیں سنبھال پا رہی ۔ عمران خان نے کہا تھا اب پاکستان میں کسی غیر کی جنگ نہیں لڑی جائے گی جبکہ چین اور امریکہ کی گھمسان کی معاشی جنگ ہماری زمین پر لڑی جا رہی ہے۔ جھوٹ کی اس جنگ میں ایک نومولود اینکر ’’وزیراعظم‘‘ سے ملاقات کا احوال سناتے ہیں کہ اب وہ کہتے ہیں میں ایسی تقریر نہیں کروں گا، اب میں بطور وزیراعظم اپوزیشن کی زبان نہیں بولوں گا اور سرٹیفکیٹ دے رہے تھے کہ عمران روایتی سیاست دان نہیں ہیں واقعی صحیح کہتے ہیں کیونکہ کمزور سے کمزور سیاست دان بھی اپنی بات پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے مگر خان صاحب مختلف ہیں۔ مجھے زبان زد عام واقعہ یاد آ گیا جب جنگ عظیم دوم میں فوجی بھرتی کے وقت انگریز فوجی افسر کے ہمراہ گاؤں کا چوہدری لوگوں کو اپنی مادری زبان میں قائل کر رہا تھا کہ ہم نے ملکہ کی جنگ یا دشمنی (ویر) میں ملکہ کا ساتھ دینا ہے ایک سمجھدار نے کہا ’’اگر ملکہ کی جنگ اور دشمنی کا بوجھ ہمارے کاندھوں پر آ گیا ہے تو ملکہ سے کہیں صلح کر لے‘‘ خان صاحب کی سیاسی دشمنی کا بوجھ اسلام آباد کے چائے خانہ کے اینکر کے کندھوں پر آ گیا ہے تو بہتر ہے خان صاحب صلح کر لیں۔ یعنی حکومت کسی انتقامی دعوؤں کے بغیر چلائیں۔ چور چور، مافیا مافیا، احتساب احتساب کی رٹ کو ختم کریں ادارے اپنا کام کر رہے ہیں یہ مہنگائی، بیماری، بے روز گاری، بے بسی اور اب جھوٹ کی زد میں آئی ہوئی عوام کا اعتماد بحال کریں ان کی زبوں حالی کو خوش حالی میں بدلیںاپنی زبانوں کو بند کر لیں خاموشی سے عوام دوست اقدامات کریں۔ا گر اب سردی آئی تو ڈینگی مر جائے گا، مرغی انڈہ، کٹا، انڈہ مرغی، وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں، اور گاڑیاں فروخت کر کے حالات بدلنے کے بیان سے آئن سٹائن ، میو برادران، ماہر فلکیات و معاشیات کی روحیں نہیں کانپیں تو بلاول کے ادھورے بیان سے بھی کچھ ایسا نہیں ہوا۔ حکومت کے وزراء کے بیانات اور حرکات سے اور حکومتی اقدامات اورتقریروں سے کامیڈی تھیٹر کے کاروبار مندے کو رجحان ہے لوگ مزے کے لیے ان کی باتیں اور جگتیں سنتے ہیں۔ سردست حکومت اپنے عوام دوست اقدامات سچ بولنے سے شروع کرے کیونکہ عوام سچائی کی تلاش میں ہے۔


ای پیپر