آئس کے خلاف پشاورپولیس کے اقدامات
25 نومبر 2019 2019-11-25

ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی آئس کا استعمال بڑھتاجارہا ہے اور یونیورسٹی اور کالج کے طلبہ اس کا نشانہ بن رہے ہیں جس پر نا صرف والدین پریشان ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام رہے ۔خیبرپختونخوا کے آئی جی ڈاکٹر نعیم خان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے بھر پور اقدامات اٹھانے کا عزم کیا ہے اور انہوں نے آئس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور اس حوالے سے کسی بھی دبائو کا سامنا کرنے کا اعلان کیا ہے کہ اس حوالے سے تمام تر رکاوٹوں کو عبور کیا جائے گا ۔ پشاورپولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ پشاور سمیت صوبے کو جانے والے راستوں کی نا صرف مکمل نگرانی کریں بلکہ آئس کے سمگلرز اور ان کو لانے والوں کے پیچھے جائیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے کیونکہ یہ قوم کے مستقبل سے ایک کھلواڑ ہے اور اب قوم کے مستقبل سے کھلواڑ کسی کو نہیں کرنے دیں گے کیونکہ نا صرف والدین کو یہ اطمینان ہو کہ ان کے بچوں کی صحت محفوظ ہے بلکہ قوم کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو نشان عبرت بنا کر یہ پیغام دیا جائے کہ کسی کو قوم کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔خیبرپختونخوا کے آئی جی پی ڈاکٹر نعیم خان کی ہدایت پر پشاورپولیس نے آئس کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کی ہیں ۔تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو واضح احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ اپنے اپنے علاقوں میں آئس کے کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں اور آئس کے ٹھکانوں کو ختم کریں کیونکہ ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوتے جو آئس کی خرید و فروخت میں ملوث ہوں ۔ آئس سے نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے ۔نوجوان نسل اس موذی نشے کے عادی ہو کر تعلیم،کاروبار سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں ۔ہزاروں خاندانوں کو آئس نے تباہ کر دیا ہے ۔حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علم بھی آئس کے نشے کے عادی ہو چکے ہیں ۔خیبرپختونخوا کی حکومت نے آئس کے خاتمے کے لئے سخت قوانین بنائے ہیں ۔ان قوانین پر عملدرآمد سے آئس کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔سی سی پی او پشاور کریم خان اور ایس ایس پی آپریشن پشاور ظہور بابر آفریدی نے تمام ایس ایچ اوز پر واضح کیا ہے کہ جس علاقے میں آئس کے کاروبار کی نشاندہی ہوئی اس علاقے کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے ایس ایچ اوز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اپنے علاقوں میں آئس کے خلاف کارروائیاں شروع کریں اور آئس کے کاروبار میں ملوث لوگوں سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے ۔ایس ایس پی آپریشنز پشاور ظہور بابر آفریدی کے احکامات پر پشاورکے تمام ایس ایچ اوز نے آئس کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ۔را ت کے وقت بھی ایس ایچ اوز اپنے علاقوں میں آئس کے کاروبار کرنے والے افراد کو گرفتار کرتے ہیں ۔اسی طرح سرچ آپریشنز کا سلسلہ بھی شروع کیاگیا ہے ۔سی سی پی او پشاور کریم خان کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز پشاور ظہور بابر آفریدی نے خیبر پولیس کے ساتھ مل کر جمرود اور شاہ کس سمیت مختلف علاقوں میں آئس کے خلاف آپریشن کئے اور ملوث لوگوں کو گرفتار کیا ۔ایسے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں خواہ وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں جو انسانی جانوں کے ساتھ کھیلتے ہوں۔ پشاورپولیس کی بہترین کارکردگی اور بروقت کارروائیوں کی وجہ سے گزشتہ تین ماہ میں آٹھ کلو آئس پکڑی گئی ہے جس کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے ۔

ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی براہ راست آئس کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو مانٹیر کر رہے ہیں ۔ایس ایچ اوز کو بار بار احکامات جاری کرتے ہیں کہ آئس کے خلاف تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں ۔ آئس کا خاتمہ صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کے تعاون کے بغیر پولیس آئس سمیت جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتی ۔عوام کو بھی آئس کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔اپنے محلے ،گائوں ،شہر میں آئس کے ٹھکانوں اور ملوث افراد کے بارے میں پولیس کو بروقت اطلاع دینی چاہیے اور علمائے کرام کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور فتویٰ دینا چاہیے کہ آئس کا نشہ حرام ہے ۔ آئس سے ایک آدمی نہیں پوراخاندان تباہ ہو جاتا ہے ۔اسی طرح ایس ایچ اوز کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں معززین ،نوجوانوں اور علمائے کرام کے ساتھ مل کر آئس کے خلاف مہم چلانی چاہیے ۔عوام کو اس موذی نشے کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے ۔پولیس سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگ مل کر آئس کے خاتمے کے لئے کردار ادا کریں ۔نوجوان نسل کو آئس کی لعنت سے بچائیے ۔

عوام نے بھی آئس کے خلاف پشاورپولیس کے اقدامات کو سراہا ہے کیونکہ راقم الحروف نے اپنے کالم میں پہلے بھی یہ عرض کیا ہے کہ عوام کے تعاون کے بغیر آئس کا خاتمہ نہیں ہو سکتا ۔پولیس کو بھی عوام کے ساتھ گہرا رابطہ رکھنا ہو گا اور تھانوں میں عام آدمی کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا ہو گا ۔ان اقدامات کی وجہ سے پولیس عوام کا دل جیتے گی اور عوام آئس کے خلاف پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ۔

مل جل کے عرض پاک کو رشک چمن کریں

کچھ کام آپ کیجئے ۔کچھ کام ہم کریں


ای پیپر