بارود بچھایا تھا جو بے کار تو کرتا
25 نومبر 2019 2019-11-25

حضرت یعقوب علیہ السلام کی موت کے فرشتے (حضرت عزرائیل علیہ السلام) سے گہری دوستی تھی۔ ایک دن جب ملک الموت آئے تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے پوچھا: ’’کیسے آئے ہو؟ ملاقات کے لئے یا روح قبض کرنے کے لئے؟‘‘ملک الموت نے جواب دیا: ’’ملاقات کے لئے آیا ہوں‘‘۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’مجھے آپ سے ایک خاص بات کہنی ہے کہ جب میرا وقت وفات قریب آئے تو مجھے پہلے بتا دینا۔ یعنی مجھے قاصد کے ذریعے خبر دے دینا‘‘۔چنانچہ ملک الموت نے وعدہ کیا کہ موت سے پہلے قاصد روانہ کروں گا۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو حضرت عزرائیل علیہ السلام خود آگئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔’’آپ نے تو وعدہ کیا تھا کہ میں پہلے قاصد بھیج دوں گا لیکن آپ خود آگئے‘‘۔حضرت عزرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ’’میں نے قاصد روانہ کیے تھے‘‘۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے پوچھا:’’کون سے قاصد آپ نے بھیجے تھے‘‘؟حضرت عزرائیل علیہ السلام نے فرمایاپہلا قاصد یہ تھا کہ آپ کے سیاہ بال سفید ہوئے۔پھر دوسرا قاصد کہ بدن سے چستی اور توانائی ختم ہوئی اور تیسرا قاصد یہ کہ آپ کا بدن جھک گیا۔ کیا میرے تینوں قاصد آپ کے پاس نہیں آئے؟‘‘میری بیٹی نے مجھ سے سوال کیا کہ پاپا حکومت کس کی ہے۔میں نے کہا عمران خان کی۔پھر کہتی ہے پچھلی حکومت کس کی تھی۔میں نے کہا نواز شریف کی اور اس سے پچھلی زرداری کی پھر اس نے پوچھااس سے پچھلی میں نے کہا مشرف کی اور اُس سے پچھلی نواز شریف کی اور اس سے پچھلی زرداری کی اور اس سے پچھلی نوازشریف کی اور اس سے پچھلی زرداری کی وہ پوچھتی گئی میں بتاتا گیا۔آخری سوال حیران کن تھاجب حکومتیں زرداری اور نواز شریف کرتے رہے تو لوگ پیسوں کا حساب عمران سے کیوں مانگ رہے ہیں؟اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا آپ کے پاس ہے تو بتا دیں…

وہ زرداری جس نے کبھی بھوکی ننگی قوم کے پیسوں سے گھوڑوں کو مربے نہیں کھلائے؟وہ شریف خاندان جس نے قوم کی ہڈیوں سے گودہ تک نچوڑ کر دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے کاروبار نہیں لگائے؟وہ الطاف بھائی جس نے روشنیوں کے شہر میں پچیس سال میں پچیس ہزار لاشیں نہیں گرائیں؟وہ اسفندیار ولی جس نے پختون قوم کو اس کی تاریخ کے نازک ترین موڑ پر ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض نہیں بیچا؟وہ فضل الرحمن جس نے بینظیر سے لے کر مشرف اور زرداری سے لے کر شریفوں تک ہر حکومت میں چند وزارتوں کیلئے مذہب کا نام نہیں لیا ؟کیا اس وجہ سے کہ اس بندے نے قائداعظم کے پاکستان کو پچھلے 72 سال میں اس حال تک پہنچایا؟اور کیا چیز ہے؟ جو اس بندے کو بے چین رکھتی ہے؟ 72 سال کی عمر میں جبکہ لوگ اپنے بچوں کے ساتھ پرسکون وقت گزارنا پسند کرتے ہیں،اس عمر میں یہ بندہ پاکستان کے طول و عرض میں دیوانوں کی طرح پھرتا ہے۔آخر کیا چاہئے اسے؟اس کے مخالفین کہتے ہیںکہ اسے وزارت عظمیٰ کی طلب بے چین کیے ہوئے ہے۔کیا واقعی؟ لیکن آخر وزارت عظمیٰ کی طلب کسی کو کیوں ہوتی ہے؟پیسہ کے لئے؟شہرت کیلئے؟کرپشن کیلئے؟لیکن…پیسے کیلئے؟لیکن پیسے کا تو اس بندے کو لالچ نہیں اور یہ دنیا جانتی ہے اور اس کی ساری زندگی اس امر کی گواہ ہے۔اس نے تو اپنا کرکٹ سے کمایا ہوا اکثر پیسہ بھی اس ملک کے غریبوں کیلئے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی میں جھونک دیا۔پیسہ ہی چاہئے ہوتاتو برطانیہ میں کسی کاؤنٹی ٹیم کی کوچنگ سنبھالتا اور ساتھ ہی کرکٹ میچوں میں کمنٹری سے کروڑوں کماتا۔پیسہ چاہئے ہوتا تو جمائمہ خان سے طلاق کے عوض ہی (برطانوی قوانین کے مطابق) اربوں وصول کر سکتا تھا۔ شہرت کیلئے؟لیکن عمران خان سے زیادہ شہرت بھلا کس پاکستانی کو اللہ نے دی ہو گی؟ وہ شخص کہ برطانوی شاہی خاندان جس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں فخر محسوس کرتا ہے اور انڈیا سے ترکی اور ڈیووس تک بغیر کسی سرکاری عہدے کے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔واحد پاکستانی لیڈر ہے جس کو بیرونی دنیا میں کرپشن یا سوئس اکاؤنٹس یا بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے نہیں جانا جاتا بلکہ اس کا نام اچھے لفظوں میں لیا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ مزید شہرت کی کیا ضرورت ہوگی؟کرپشن کیلئے؟لیکن کرپشن کا تو یہ بندہ روادار ہی نہیں۔اس بندے کو سمجھنا ہو تو چند لمحوں کیلئے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر آنکھیں بند کرکے سوچیں۔کیا بھکاری بننا آسان ہے؟کسی کے آگے جھولی پھیلانا اور سوالی بننا؟اور وہ بھی اپنے فائدے کیلئے نہیں بلکہ قوم کے سسکتے ہوئے غریب مریض بچوں کے واسطے۔وہ کیا چیز ہے جس نے اس آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ، پاکستانی تاریخ کے مشہور ترین کرکٹر اور کامیاب ترین کپتان کو بھکاری بننے پر مجبور کیا؟گلی گلی، شہر شہر،گاؤں گاؤںاپنی عزت نفس کو پس پشت ڈال کر جھولی پھیلا کر،بھکاری بننے پر مجبور کیا؟22 سال سے یہ بندہ جھولی پھیلائے ملک اور بیرون ملک (صرف پاکستانیوں سے) پاکستانیوں کیلئے بھیک مانگتا ہے۔کوئی اسے بھکاری ہونے کے طعنے دیتا ہے، کوئی زکوٰۃ خان کہتا ہے، کوئی کسی اور طریقے سے مذاق اڑاتا ہے لیکن یہ بندہ پھر بھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ آسان نہیں ہے۔خدا کی قسم یہ آسان نہیں ہے۔قدم قدم پر دل کو مارنا پڑتا ہے۔ اپنی عزت نفس،انا اور فخر کا خون کرنا پڑتا ہے۔یقین نہ آئے تو کبھی یہ کرکے دیکھ لیں۔جھولی پھیلا کر کسی دن لوگوں کے سامنے کھڑے ہوں(وہ بھی اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے)اور وہ آج جو بیماری کا بہانہ لگا کر ملک سے باہر جا چکے ہیں، کچھ نہ کرتے اپنے ہاتھوں سے بچھایا ہوا کرپشن، لاقانونیت، بیروزگاری کا بارود ہی سمیٹتے جاتے۔ وہ کچھ دیر کے لیے ٹھہرتے تو سہی ، تکرار تو کرتے ، بات تو بڑھاتے، انکار تو کرتے ، عوام کو اپنی وفاداری کا ثبوت تو دیتے۔ اتنی جلدی جانے کی کیا پڑی تھی۔ ابھی تو سرحدوں پر پھول کھلانے باقی تھے مگر وہ 35 سالہ رفاقت توڑ کر دیار غیر کے ہو لیے لیکن اتنا ضرور یاد رکھیں کہ عزرائیل نے موت سے پہلے اپنی قاصد تو بھیج دیئے ہیں مگر اس کا اپنا آنا باقی ہے۔ یہ مال و متاع ملک سے کی ہوئی بے وفائی کا حساب تو انہیں ضرور دینا پڑے گا۔ ہر حال میں دینا پڑے گا۔ بقول اسد رحمن

کچھ دیر ٹھہرتا بھی وہ تکرار تو کرتا

تُو بات بڑھاتا ذرا انکار تو کرتا

سرحد پہ اُسے پھول اُگانے کی پڑی تھی

بارود بچھایا تھا جو بے کار تو کرتا


ای پیپر