’’خمار ‘‘کی شاعری
25 نومبر 2019 2019-11-25

پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ہاں اردو شاعری پر ایک عجیب طرح کازوال آیا اور اس زوال کی بنیاد جدیدیت کے ان نعرے بازوںنے رکھی جن کا یہ خیال تھا کہ شاعری میں خارجی جمالیات کو مضامین اور ڈکشن سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہ نعرہ لگا کر صدیوں پہلے جا چکے اور ہم آج تک اس نعرے سے باہر نہیں آ سکے۔بیسویں صدی کی آخری دہائی اور بعد میں آنے والی نسل نے جدیدیت کا نعرے کو کیا خوب رنگ دیا اور شاعری کو اس درجہ سطحی چیز بنا دیا کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم ’’جدید شاعری‘‘ کا نعرہ لگانے والوں سے جب یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کے خیال میں جدیدیت کیا ہے تو ان کے پاس صرف یہی جواب ہوتا ہے کہ شاعری کو آزاد چھوڑ دو کیونکہ زبان کے آگے بند نہیں باندھا جا سکتا ہے۔اس بات سے تو کسی کو بھی مفر نہیں کہ کوئی بھی زبان تشکیلی مراحل سے گزرتی ہوئی ترقی کی جانب بڑھتی ہے۔زبان کے آگے بند باندھنے کا مطلب ہے کہ زبان کو ترقی کرنے سے روکا جا ئے مگر اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں کہ اردو زبان کے ساتھ یتیموں والا سلوک کیا جا ئے،لسانی تشکیلات اور جدید بننے کے چکر میں شاعری کی فنی و تکنیکی معاملات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا جائے ۔ خیر اس میں اس نئی نسل سے کیا شکوہ ؟ کہ جب ہمارے ہاں عظیم شاعری کا معیار اور پیمانہ ہی محض سوشل میڈیا رہ جائے۔آج ہمارے ہاں تو جس تخلیق کو زیادہ لائکس اور کمنٹس ملیں ‘ وہ اتنا ہی عظیم ادبی شہ پارہ سمجھاجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا لکھنے والا اسے عظیم ادب سمجھتا ہے جو سوشل میڈیا پر زیادہ مشہور ہو جائے ۔ناظرین! ہمارے ہاں شعر کی مقبولیت پرکھنے کے معیارات اتنے مختلف اور عجیب و غریب ہوں تو پھر ہمیں یہ شکوہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں بڑا ناول،بڑی شاعری یا بڑا ادب کیوں تخلیق نہیں ہو رہا۔میں جب بطور قاری اس ساری صورتحال کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے محض چند ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے اردو زبان میں شعر کہے اور ساتھ یہ بھی خیال رکھا کہ زبان کا بنیادی اسٹرکچر خراب نہ ہو‘ایسے لوگوں نے زبان کی تہذیب اور اس کے بنیادی اسٹرکچر کو بھی خراب ہونے سے بچاتے ہوئے شعر کہے اور وہ شعر یقینا تادیر زندہ رہنے والے ہیں۔میں ایسے لوگوں کو سیلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے اردو زبان کو بطوروسیلہِ اظہار استعما ل کیا تو اس میں پنجابی‘انگریزی یا کسی دوسری زبان کا سہارا لینے کی بجائے اپنی زبان میںہی بات کو مکمل کیا۔ایسے لکھنے والے آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بہت کم ہیں مگر جو ہیں وہ واقعی جینوئن لوگ ہیں جو زبان کی بنیادی گرامر سے آگاہ ہیں۔ناظرین میں قطعاً یہ نہیںکہتا کہ ہمیں کوئی دوسری زبان نہیں اپنا نی چا ہیے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ جو بھی زبان اپنائو اس کے ساتھ مخلص ہو جائو کیونکہ زبان کے ساتھ مخلص ہونا نہ صرف زبان کے ارتقاء کی دلیل ہے بلکہ اس ادب کی زیادہ اہمیت ہو گی جو آپ اپنی زبان یا کسی ایک زبان میں لکھیں گے۔

محمد ضیغم مغیرہ کاتعلق بھی دوسرے قبیلے سے ہے جنہوں نے اردو زبان کو بطور وسیلہ ِ اظہار استعمال کیا۔ان کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے زبان کو نہ صرف بگڑنے سے بچایا بلکہ زبان کی پیچیدگیو ں پر بھی نظر رکھی۔میںسمجھتا ہوں کہ محمد ضیغم مغیرہ پر یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے زمانے میں پیدا نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ اس شیطانی چرخے سے کوسوں دور ہیں‘اگر یہ بھی میرے اور آپ کی طرح سوشل میڈیائی دانشوروں کے مطالعے میں زندگی گزار رہے ہوتے تو کبھی بھی اتنے سنجیدہ اور زندگی سے لبریز شعر نہ کہہ رہے ہوتے اور نہ ہی ان کے شعروں میں کلاسیکی ادب کی بازگشت ہوتی۔محمد ضیغم مغیرہ کا تعلق اس قبیلے سے ہے جو زندگی جینا سکھاتے ہیں‘جو زندگی کی ویرانیوں اور تلخیوں اور اس کی ناکامیوں پر آنسو بہانے میں نہ تو اپنا زورِ قلم صرف کرتے ہیں اور نہ دوسرے کو اس تلقین کرتے ہیں۔انھوں نے ہمیشہ اس استعماری نظام کے خلاف قلمی احتجاج کیا جنہوں نے ہم سے مشرقی زبان چھیننے کے ساتھ ساتھ ہم سے ہماری تہذیب اور ہماری اقدار بھی چھین لیں اور آج ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ ہمارے پاس نہ تو اپنی زبان ہے اور نہ ہی اپنا لباس یعنی مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی عار نہیں کہ ہمیں ایک بہری‘گوندی اور اندھی نسل بنا دیا گیا ہے بلکہ یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ ہم سے ہمارا لباس چھین کر ہمیں دنیائے عالم کے سامنے یوں برہنہ کر دیا کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہو رہا ہے کہ ہم ترقی کر رہے ہیںیا اپنا مذاق بنوا رہے ہیں۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ترقی کی ایک ایسی’’ استعماری بتی‘‘ کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جس کے پیچھے چلتے ہوئے ہم تہذیبِ فرنگی کی اس نسل تک جا پہنچے ہیں جس کے بارے میں حضرت اقبال نے کہا تھا:

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام

وائے تمنائے خام، وائے تمنائے خام

محمد ضیغم مغیرہ کا تعلق بلا شبہ ایسے لکھنے والوں سے ہے جنہوں نے خود نہ صرف اس استعماری اور سامراجی ترقی کو دیکھا اور محسوس کیا بلکہ بعد میں آنے والی نسل پر اس کے منفی اثرات کو بھی محسوس کیا۔ایک لکھنے والے کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف ماضی و حال کا نوحہ لکھتا ہے بلکہ فکرِ فردا بھی کرتا ہے اور اپنے سے بعد میں آنے والی نسل کو اس عذاب سے مطلع بھی کرتا ہے۔ضیغم مغیرہ کے درجنوں ایسے اشعار ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے مجھے سامراجی عہد کے وہ سارے واقعات یاد آئے ایسٹ انڈیا کمپنی سے شروع ہوئے اور آج تک موجود ہیں۔اگرچہ میرے بائیں بازو کے کچھ مؤرخین یہ سمجھتے ہیں کہ سامراجی عہد کے اثرات تقسیم کے ساتھ دم توڑ چکے مگر میرے دائیں بازو کے دانشور اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ سترہویں صدی سے شروع ہونے والے انگریز سامراج کے اثرات جو ہماری تہذیب‘ثقافت اور زبان پر پڑے وہ آج کہیں زیادہ شدت سے موجود ہیں ‘یہ الگ بات کہ ان کی حیثیت بدل گئی۔

ایک اچھے اور بہترین تخلیق کار کی یہ بھی خوبی ہوتی ہے کہ وہ بے جان چیزوں‘بے جان رشتوں اور ے جان لفظوں میں بھی جان ڈال دیتا ہے اورمحمد ضیغم مغیرہ کی شاعری پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوا کہ خدا نے انہیں یہ سلیقہ دیا ہے کہ وہ مادیت پرستی کی دوڑ میں بہتے رشتے‘احساسات اور لفظوں کو بچا سکتے ہیں اور وہ یہ کام بطریق، احسن کر رہے ہیں جس پر انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے۔ خدا نے مشرقی تہذیب اور اقدار کو بچانے اور مغربیت کے اساسی و اصولی اور وعملی و خارجی پہلوئوں کے بخیے ادھیڑنے کا کام اس تخلیق کار کے ذمے لگایا ہے اور محمد ضیغم مغیرہ یہ کام اپنا فر ض سمجھ کر رہے ہیں۔

(پھالیہ جم خانہ میں ہونے والی’’ خمار ‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا مضمون)


ای پیپر