دیر آید درست آید
25 نومبر 2018 2018-11-25

واقعات کا ایک تسلسل ہے۔ حالات کی کڑیاں ہیں جو ایک دوسرے سے منسلک اور جڑی ہوئی ہیں۔ ہاں وہ بظاہر ایک دوسرے سے الگ الگ بھی ہیں۔ کابل سے لیکر کراچی تک ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا بازا ر گرم ہو گیا۔ ادھر بھارت کے ساتھ امن کی جانب قدم اٹھانے کا راستہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی۔ ادھر ایک مرتبہ پھر کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔ قریب پاک افغان بارڈر سے ملحق لوئر اورکزئی ایجنسی میں دہشت گرد ایک مرتبہ پھر بروئے کار آئے۔ اور کزئی ایجنسی میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا۔ دہشت گرد کامیاب رہے۔ 33 افراد جاں بحق ہوئے۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ نوعیت کے لحاظ سے بہت بڑا واقعہ تھا۔ لیکن نتائج کے اعتبار سے کم شدت کا واقعہ۔ دہشت گرد کامیاب ہو جاتے تو دنیا کئی گھنٹے کئی دن ہمارا تماشا دیکھتی۔ دہشت گرد چینی قونصلیٹ میں عملہ ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنانے آئے تھے۔اپنے مقصد میں کامیاب رہتے تو کیمرے کے ذریعے گھنٹوں تھیٹر لگتا۔ سی پیک اور بلوچستان میں دیگر ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی واپسی کا مطالبہ ہوتا۔ جو ظاہر ہے کبھی تسلیم نہ ہوتا۔ مخصوص مدت کے بعد آخر کار یر غمالیوں کو مار دیا جاتا۔ دوسرا ٹارگٹ کراچی میں منعقدہ آئیڈ یاز دفاعی نمائش تھی۔ اگلے چند روز میں ہونی تھی۔ 50 کے قریب ممالک اور ڈیڑھ سو کے قریب بین الاقوامی اسلحہ ساز کمپنیاں اس نمائش میں دفاعی ساز وسامان کی نمائش کیلئے حامی بھر چکی ہیں۔ لاکھوں ڈالر کا کاروبار متوقع ہے۔ ابھی چند روز پہلے قائد آباد کے پل کے نیچے سے بم بر آمد ہوئے۔ بہر حال قونصلیٹ پر حملہ آور ناکام رہے اور مارے گئے۔ اس حملہ کو ناکام بنانے کیلئے قوم کے جری بیٹوں نے قربانی دی۔ ماشاء اللہ آئیڈ یاز نمائش بھی منعقد ہو رہی ہے۔ سی پیک بھی کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ دشمن کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ یہ جنگ آخر کار زندہ قوم نے ہی جیتنی ہے۔ لیکن قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ دشمن کا نشانہ کیا ہے۔ دشمن کا نشانہ پاکستان کاسافٹ امیج ہے۔ وہ آئیڈ یاز نمائش ہو۔ وہ پی ایس ایل کا بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہو۔ پاکستان میں آنے والے غیر ملکی سیاح ہوں۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایا کاری ہو۔ میگا پراجیکٹ ہو۔دشمن کا نشانہ بلوچستان ہے۔ جو پاکستان کا معاشی مستقبل ہے۔ جہاں دنیا کا سب سے بڑا میگا پراجیکٹ زیر تعمیر ہے۔ بلوچستان جس کے ساحلوں میں دنیاکی انوکھی بندر گاہ گوادر ہے۔ جس کے آپریشنل ہونے سے خطے کی کئی بندر گاہیں سونی پڑ جائیں گی۔ ان بندر گاہوں میں دوست، احباب ہمسائے بھی شامل ہیں۔ پھر دشمن کا نشانہ ایک اور ساحلی شہر کراچی ہے جو پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ جہاں سکیورٹی فورسز جاں فشانی سے بر سرپیکار ہیں۔ اس شہر میں اب تک 600 سے زائد پولیس اہلکار اور ڈیڑھ سو کے قریب رینجرز کے سر فروش جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے۔ دشمن کا نشانہ قبائلی پٹی ہے جو پاک افغان سرحد میں ہماری بازوئے شمشیر زن ہیں۔ گلگت بلتستان جو تین سپر طاقتوں کا ہمسایہ ہے۔ اگر ان سارے علاقوں کو ایک جگہ جوڑا جائے تو ایک جواب آتا ہے۔ سی پیک ترقی کے دیکھے گئے خواب۔ ان خوابوں کو قوم سے چھیننے کیلئے دشمن متحد ہے۔ دشمن مشرقی سرحد پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ایک ہزار سے زائد مرتبہ ایل او سی پر جارحیت کر چکا ہے تا کہ بین الاقوامی سرحد سے لیکر ایل اوسی تک دباؤ قائم رکھے۔نائن الیون کے بعد امریکہ بتدریج افغانستان کو بھارت کی سیٹلائٹ کالونی بنا چکا۔ تاکہ افغانستان کو چین اور پاکستان کیخلاف فرنٹ لائن سٹیٹ کے طورپر بٹھا سکے۔ اور دہشت گردی کے خلاف سہولت کاری کا کردار ادا کر سکے۔ اس کام کیلئے بھارت نے ماضی میں ٹی ٹی پی کو استعمال کیا۔ اس کی گواہی تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اپنے ویڈیو بیان میں دے چکے ہیں۔ رقم، تربیت، راستے، فرار، پناہ گاہیں۔ باہمی رابطے،تعاون سب کچھ اور گواہی کیا چاہیے۔ اس سے قبل بھارتی نیوی کا با وردی حاضر سروس افسر کلبوشن یادیو ساری کہانی بیان کر چکا۔ وہ اعترافی مجرم بتا چکا کہ کس طرح بلوچستان میں بروئے کار شر پسند دیگر تنظیمیں را، این ڈی ایس کی چھتری تلے اپنے مشن مکمل کرتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کو توڑ دینے کے بعد تقریباً دو سال نسبتاً امن رہا۔ لیکن دہشت گرد تنظیمیں آدم خور بلاؤں کی طرح پھر سر اٹھاتی ہیں۔ کیونکہ ان کے پیچھے روپے کے انبار ہیں۔ اس وقت ہمسایہ ممالک میں سے صرف چین پورے قد کے ساتھ ہمارے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ لہٰذا گزشتہ دو سال سے چینی ماہرین پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں میں کالعدم تنظیم جئے سندھ متحدہ محاذ نامی کالعدم تنظیم سے لیکر بی ایل اے کے مختلف گروپ ملوث رہے ہیں۔ ان کالعدم گروپوں کے اکثر سر غنہ بھارت، افغانستان، یورپی ممالک میں پناہ گزین ہیں۔ گزشتہ دو سال میں چینی باشندوں، تنصیبات کے خلاف ایک درجن کے قریب کاروائیاں ہوئیں۔ بہت سی کاروائیاں ایسی ہیں جن کو قبل از وقت ناکام بنایا گیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد کی طرز پر اور کچھ نہیں تو کراچی اور دیگر شہروں میں چینی سفارتی عملہ کو مخصوص علاقوں میں منتقل کرے۔کیونکہ آنے والے دنوں میں دہشت گردی کے مزیدواقعات ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے بعد دشمنوں کی صفوں میں گھبراہٹ ہے۔ ان کو سی پیک ہضم نہیں ہو رہا۔ دشمن کو وہ پیش رفت برداشت نہیں جو سفارتی محاذ پر غیر محسوس طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان نے تیزی کے ساتھ سفارتی دنیا میں نئے دوست تلاش کیے ہیں۔ پاکستان یمن کے تنازعے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے ملائشیا کے ساتھ ماضی گم گشتہ کے رشتے بحال کیے ہیں۔ روس اور پاکستان کے تعلقات بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ عرب ممالک اور ترکی سب کے ساتھ پاکستان توازن کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اب باقی رہ جاتے ہیں پاک بھارت تعلقات۔ جن کے دوستانہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن پاکستان نے ماسٹر سٹروک کھیلا ہے۔ 18 اگست کو عین ا س روز جب وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں دوجاٹوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ چند سیکنڈو ں کی جپھی تاریخ مرتب کر گئی۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کی یہ ملاقات عشروں سے بند راستے کھولنے کا سبب بن گئی۔ اگلے ہفتوں بابا گرونانک دیو جی کی آخری آرامگاہ تک پہنچنے کا راستہ ہمیشہ کیلئے کھل جائے گا۔ یہ ساڑھے تین کلو میٹر کا راستہ سکھ یاتریوں کیلئے اذیت کا سبب تھا۔ جو گردوارہ کا دیدار بھی نہیں کر سکتے تھے۔بس بی ایس ایف کی پوسٹ پر لگی ایک دوربین ہی گرو اور چاہنے والون کے درمیان رشتہ تھا۔ جو شوق دیدار کی تکمیل کرتا تھا۔ رواں ہفتے یہ رکاوٹیں دور ہو جائیگی۔ باقاعدہ سسٹم بنانے میں تو وقت لگے گا۔ اگلے سال سے ابھی کئی تجاویز زیر غور ہیں۔ راہداری پر انفراسٹرکچر مکمل کرنا ہے۔ ہفتے میں کتنے دن بار ڈر کھلے گا۔ داخلہ صرف ایک دن کیلئے ہو گا یا زیادہ عرصے کیلئے۔ امکان ہے کہ ایک دن کا پرمٹ ہو گا۔ یاتری بھارتی سائڈ پررجسٹریشن کرا کے پاکستان میں داخل ہو ں گے۔ جہاں ان کو پرمٹ ملے گا۔ یاتریوں کی آمد و رفت کیلئے ساڑھے تین کلو میٹر سڑک تعمیر ہوگی جس میں پاکستان سائیڈ پر آہنی باڑ لگائی جائے گی۔ 

وزیر اعظم عمران خان اٹھائیس اکتوبر کو کرتارپور بارڈر کھولنے کی تقریب کے مہمان خصوصی ہونگے۔ اس موقع پر وہ انفراسٹرکچر تعمیر کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ کاش یہ بارڈر اس وقت کھل جاتا جب بے نظیر بھٹو نے یہ تجویز دی۔ اس وقت یہ راستہ کھل جاتا جب نواز شریف نے چاہا تھا۔ لیکن دیر آید درست آید ۔احسن قدم ہے۔ جب اٹھا دیا جائے اسی وقت بہتر ہے۔ یہ تاریخ کا جبر ہے کہ انتہا پسند مودی جی کو یہ تجویز ماننی پڑی۔کیونکہ بصورت دیگر وہ سکھوں کا ووٹ بنک کھو بیٹھتا۔


ای پیپر