دال میں کچھ کچھ کالا
25 نومبر 2018 2018-11-25

دال میں کچھ کچھ کالا ہے یا پوری دال کالی ہے غیر جانبدار تجزیہ کار صورتحال پر تبصرے کر رہے ہیں ہر روز بیٹھک ہر روز اجلاس، ہر اجلاس کے بعد کرپشن کی گونج’’ نہیں چھوڑیں گے کوئی این آر او نہیں ہوگا‘‘ اپوزیشن نے مصرعہ طرح لگایا کہ این آر او گھر سے شروع ہوا ہے، ایجنڈا کیا ہے؟ کچھ نہیں، بس کرپشن کرپشن کے نعروں سے پانچ سالہ میعاد پوری کریں گے، اربوں کھربوں کی کرپشن بغل میں ڈھنڈورا ملک میں ، اداروں سے یاری، پیاروں سے قربت، سیاست کے نئے رنگ ڈھنگ، حکمرانی کی قوس و قزاح بتدریج منظر عام پر آرہی ہے، نیا کیا ہے؟ 100 دنوں میں کچھ نہیں ،کہانیاں، افسانے، کیا کہیں گے؟ اسکرپٹ تیار کیے جا رہے ہیں، سارے قول و قرار الٹے پڑ رہے ہیں ،گیس سستی کرنے کا کہا گیا تھا مہنگی کردی گئی بجلی سستی ہونی تھی ہو رہی تھی حکومت کے آغاز ہی سے ایٹم بم گرا دیا گیا بجلی مہنگی ہوگئی، سی این جی کے دام بڑھ گئے پیٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی، اسٹاک ایکس چینج کا برا حال، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے، روپیہ ڈالر کے سامنے سرنگوں، ڈالر سر اٹھائے 134 روپے کا ہوگیا، روپے کے نڈھال ہوتے ہی غیر ملکی قرضے 9 سو ارب سے زیادہ بڑھ گئے’’ اور کیا چاہتے ہو تم مجھ سے ،کیا بجھا دوں چراغ ہستی بھی‘‘ خود کشی کا کہا تھا مگر اقتدار سنبھالتے ہی پتا چلا کہ یہ تو حرام ہے اس لیے خود کشی کا ارادہ ترک کر کے آئی ایم ایف کے پاس چلے گئے، اسحاق ڈار ملکی معیشت کی تباہی کے لیے آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے اعداد و شمار کی بازیگری دکھا کر قوم کو خوش کرتے رہے ہم نے ملک و قوم کی ترقی کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا، بڑے ظالم لوگ ہیں ابتدائی مطالبات مان کر بجلی گیس بڑھا دی گئی دوسری بار آئے تو پھیل گئے ناں بابا ناں ان کے مطالبات منظور کر کے اپنا دھڑں تختہ کیسے کرلیں وعدہ فردا پر ٹال دیا چند دن بعد واپس آئیں گے تو دیکھا جائے گا دیکھا کیا جائے گا۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ مطالبات بھی منظور کر لیے جائیں گے مہنگائی کا بوجھ ایک دم ڈال دیا جائے تو لوگ چیخنے لگتے ہیں اس لیے استطاعت کے مطابق بوجھ لادا جائے گا بڑوں نے یہی بتایا ہے بڑوں پر یاد آیا کہ انہوں نے تلقین کی کہ تیز نہ چلو، سہج پکے سو میٹھا ہو، اچھی قومیں دھرنے نہیں دیتیں، لیڈروں کے وعدے ایفا ہونے کا انتظار کرتی ہیں، عوام کو انتظار اور اعتبار تو کرنا ہوگا دھرنوں کی روایت بدلو، انتہا پسندی ختم کرو، بڑوں کی نصیحت پر عمل درآمد بلکہ فوری ایکشن، چار دن کے دھرنے پر اتنی برہمی کہ گرفتاریاں شروع جو ہاتھ نہ آئے ان کی پکڑ دھکڑ کے لیے چھاپے، دوسری طرف تھوڑی سی شرمندگی، خود بھی یہی راستہ اختیار کیا تھا، یادش بخیر عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے 126 دن کے دھرنے کے دوران مکمل خاطر تواضح’’ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو‘‘ غیر جانبدار مبصرین نے تو اسی وقت کہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے پوچھا گیا کیا کالا ہے کہا کہ امپائر کی انگلی ونگلی کا کیا چکر ہے؟ امپائر کون ہے؟ دھرنا دینے والے کس کی آشیر باد سے سب کچھ کر رہے ہیں؟ 2014ء کی حکومت اتنی مجبور کیوں ہے؟ وزیر اعظم اتنے بے دست و پا، پارلیمنٹ اتنی بے یار و مددگار وزیر داخلہ صمٌ بکمٌ کی تصویر کیوں بنے بیٹھے ہیں؟ شاہراہ دستور پر آنے والوں کو روکنے کی بجائے ان کے چائے پانی کے انتظامات کون کر رہا ہے؟ کس نے ایسا کرنے کو کہا کس کے اشارے پر سب کچھ ہو رہا ہے؟ سارے سوالوں کا ایک ہی جواب، دال میں کچھ کالا ہے 126 دن بعد منظر بدل گیا دھرنا ختم کردیا گیا، کیوں؟ حکومت نڈھال ہوگئی ختم نہ ہوسکی، لیکن حکم حاکم دھرنا دینے والی دونوں پارٹیوں کو یکے بعد دیگرے پشاور کے شہدا کی یاد ستانے لگی اور وہ دھرنا بھول کر قومی سوگ میں ڈوب گئیں، دھرنا ختم ہوتے ہی سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تھی الیکشن کمیشن سے بے ضابطگیاں سرزد ہوئیں ،کسی نے کسی سے نہ پوچھا کہ پھر 126 دن کا دھرنا کیوں دیا؟ پوچھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی، رفت گزشت، چار سال بعدسپریم کورٹ نے دھرنا دینے والوں سے کہا کہ وہ قوم سے معافی مانگیں، معافی کون مانگے گا؟تمغے کی بجائے داغ کون لگائے؟ دیکھنے اور سوچنے والوں نے اسی وقت برملا کہا تھاکہ دال میں کچھ کالا ہے مگر اقتدار کی ہنڈیا کو آگ دکھانے والوں نے اس میں کرپشن کامصالحہ ڈالدیا شریف فیملی گزشتہ چار سالوں سے کرپشن کے مصالحہ سے اوئی اوئی کر رہی ہے، مقدمات، ،پیشیاں، تا حیات نا اہلی، اقتدار سے بے دخلی ،کوئی پی اے سی کا چیئرمین بنانے کو تیار نہیں، گالیوں کوسنوں، پھبتیوں اور دھمکیوں کا مسلسل سامنا، ہر روز ایک ہی سوال پیسہ کہاں رکھا، 700 ارب روپے کہاں گئے وہ کیوں بتائیں، جو بتانا تھا بتا دیا، صاحب اختیار ہیں ڈھونڈ نکالیں اور نشان عبرت بنا دیں، نہ ملے تو آپ کی قسمت، اب تک نہیں ملا ملکیت بھی ثابت نہیں ہو رہی مگر کوششیں کرنے میں کیا حرج ہے، 5 سال مصروف رکھا جائے ورنہ خطرہ بن جائیں گے، پیشیاں بھگتتے ہوئے کتنے اچھے لگتے ہیں، اپنی انا کو تسکین پہنچتی ہے ’’چھیڑ نہیں دشمنی خوباں سے چلی جائے اسد‘‘ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے اعلان کردیا کہ شریف فیملی کیخلاف مزید چار مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں ،کس نے کرنے ہیں نیب نے یا حکومت نے؟ ایک ہی بات ہے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بھی ہیں جن کی معیت باعث تقویت ہے جبھی تو قریبی فرشتوں نے کان میں پھونکا کہ ’’کیس پر کیس چلاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے‘‘۔ ادھر نیب نے بھی کارکردگی دکھائی 65 ہائی پروفائل کیسز کی فہرست جاری کردی، سارے صف اول اور صف دوم کے سیاستدانوں کیخلاف تحقیقات شروع ہوگئی، تیسری صف کے سارے چھوٹے موٹے سیاستدان حکومتی پارٹی میں ہیں جن کا نعرہ ہے کہ ’’کرپشن کے داغ دھلوا لو بد عنوانیوں کے داغ دھبے قلعی کرالو‘‘ اس پر یہ دھمکی کہ احتساب مزید تیز ہوگا، 50 بڑے مگر مچھ جیلوں میں جائیں گے وزیر اعظم کو اعداد و شمار کیسے معلوم ہو گئے شیخ رشید کو گہری نیند میں خواب کے ذریعے بتا دیا گیا کہ مارچ تک جیلیں بھر جائیں گی، راستے صاف ہوجائیں گے ،کہاں فیصلہ ہوا کب فیصلہ ہوا کون کون بیٹھک میں شریک تھا اسٹیٹ سیکرٹ بتانے والے شیخ صاحب’ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں ‘ بازگشت تو بہت پہلے سے سنائی دے رہی تھی اگر سب کچھ سچ ہے تو وزیر اعظم کا فیصلہ بھی ان ہی دنوں ہوا ہوگا اس کے بعد ہی مقدمات کی پٹاری کھولی گئی ایک طرف قید و بند دوسری طرف صرف جرمانہ، ایک طرف مسلسل پیشیاں دوسری طرف استثنیٰ ہی استثنیٰ نواز شریف نے تو چپ کا روزہ رکھ لیا ہے بول ہی نہیں رہے عدالت کے ڈیڑھ سو سے زائد سوالات کے جوابات کے دوران ایک مزیدار بات کہی کہ بچوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر نکال دیا گیا بیرون ملک کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے، وہی پرانا رونا منی لانڈرنگ اور ملکیت، دونوں الزام اتنے عرصہ بعد بھی ثبوت کو ترس رہے ہیں ،کرپشن بھی ثابت نہیں ہو رہی مگر اصرار ہے کہ کرپٹ کہو کہتے رہو، اسی نعرے سے ملک میں تبدیلی آئے گی لیکن ڈر ہے کہ کہیں کچھ عرصہ بعد تبدیلی گالی نہ بن جائے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام یہ نعرے نہ لگانے لگیں ’’آئی آئی تباہی آئی‘‘ تب کیا کریں گے؟


ای پیپر