آئی ایم ایف کا بکھیڑا 
25 نومبر 2018 2018-11-25

بہت امید با ند ھ لی تھی کہ پاکستا ن کی ڈو بتی معیشت کو سنبھا لا دینے کے لیئے آ ئی ایم سے معا ملا ت طے پا جا ئیں گے۔ مگر یہ کشتی پار نہ لگ سکی۔ در اصل آ ئی ایم ایف نے انتہا ئی سخت شرا ئط سا منے رکھیں۔ پا کستا ن نے ان شرا ئط کو قبو ل کر نے سے انکا ر کر دیا۔ تاہم میڈیا کے آزاد ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارہ سے بات چیت مفید اور خوشگوار رہی۔ پاکستان نے قومی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اصولی موقف اختیار کیا جو ملکی معیشت کے استحکام اور بلاشبہ ملکی مفاد میں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی مہنگی کرنے، روپے کی قدر گرانے، ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کے مطالبات پیش کیے گئے جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا۔ جبکہ چین کی مالی معاونت کی تفصیلات دینے سے بھی اس لیے معذرت کرلی کہ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ چین سے تاریخ ساز پیکج ملا ہے جس کی تفصیلات دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں فی الحال نہیں بتائی جاسکتیں۔ جبکہ آئی ایم ایف پر امریکی دباؤ بھی غیر مرئی ہے۔ پاکستان کی معاشی صورتحال کی بحرانی کیفیت کے حوالہ سے امریکی پروپیگنڈا کی اساس اس گمراہ کن نکتہ پر رکھی گئی تھی کہ پاکستان کے اقتصادی بحران کی وجہ چینی قرضے ہیں جس کی پاکستان اور چین نے بیک وقت سختی سے تردید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا۔ دوسر ا دور آئندہ سال جنوری میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بادی النظر میں آئی ایم ایف کے وفد نے ہیرالڈ فنگر کی قیادت میں 14 روزہ دورہ پاکستان مکمل کرلیا۔ 7 سے 20 نومبر کے دوران وفد نے وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، وزارت توانائی اور سٹیٹ بینک کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں ملکی معیشت کے تقریباً تمام شعبوں پر بات چیت ہوئی۔ علاوہ ازیں ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی وزیر خزانہ نے بھی آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے منگل کو آئی ایم ایف مشن کے ساتھ اختتامی اجلاس کی صدارت کی۔ مذاکرات کے اختتام پر وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کی جانب سے الگ الگ اعلامیہ جاری کیا گیا جن کا متن تقریباً یکساں تھا مگر معاشی مبصرین اور اپوزیشن حلقوں کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت مفید اور تعمیری رہی تو مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کیوں نہیں کی گئی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر میڈیا سے بات چیت کیے بغیر واشنگٹن جبکہ وزیر خزانہ اسد عمر وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ ملائیشیا کے دورہ پر روانہ ہوگئے۔ ادھر رات گئے وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف کے متوقع پروگرام کے لیے پالیسی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے فریم ورک بارے اتفاق رائے بارے نمایاں پیش رفت ہوئی اور پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے مثبت بات چیت جاری رہے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے عام لوگوں کی سماجی و اقتصادی بہتری کو بڑھانے سے متعلق اپنے وسیع البنیاد ترقیاتی ایجنڈا کے حصول کے سلسلہ میں آئی ایم ایف کی جانب سے معاونت کو سراہا جبکہ آئی ایم ایف کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نئے پروگرام کے لیے دی گئی درخواست پر مذاکرات مفید رہے۔ جامع اصلاحاتی ایجنڈے، مالیاتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے، سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے، گورننس و شفافیت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ وسیع معاہدے اور ملک میں پائیدار روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت نئے مالی پروگرام میں معاون ثابت ہوگی۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے دوران اضافی ریونیو کے لیے ایف بی آر کے انتظامی اقتدامات پر انحصار کو مسترد اور ٹیکسیشن سے متعلق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ریونیو اقدامات پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا۔ گردشی قرضوں اور ادائیگیوں کے بحران پر بھی فنڈ کا طرز استدلال سخت گیر بتایا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اوگرا اور نیپرا کی خود مختاری سے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی طرف سے روپے کی قدر میں مزید کمی کرکے ڈالر کی قیمت 150 روپے تک لے جانے کا کہا جارہا ہے۔ جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس سے معاشی صورتحال مزید خراب ہوگی اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کے علاوہ اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب اور چین سے ملنے والی مالی امداد ایک ٹھوس ڈھارس ثابت ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کسی دباؤ کا شکار ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور اسے معاشی ڈکٹیشن لینے کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کہ حکومت معیشت کی خود انحصاری کی موئید ہے۔ البتہ اپوزیشن کی حکومت سے کشمکش کا سبب آئی ایم ایف سے ہر قیمت پر بیل آؤٹ پیکیج لینے کی آخری کوشش ہے جبکہ ملکی معیشت کی صورتحال اور قومی امنگوں کا تقاضا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ قومی وقار کے آئینہ میں بات چیت کی جائے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے مزید دور رَس اقدامات کرنا ہوں گے۔

تاہم یہ سوال اپنی جگہ انتہائی مضبوطی سے کھڑا ہے کہ کیا ڈالر ایک سو پچاس روپے کی قیمت پہ آنے سے رک سکے گا؟ موجودہ صورتِ حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس کے امکانات کو ردّ کرنا خود کو دھوکہ دینے والی بات ہوگی۔ جب ڈالر ایک سو پچاس روپے ہوجائے گا تو اس کے تصور سے بدن میں جھرجھری سے دوڑ جاتی ہے۔ آج جیسے ایک روپے یا دو روپے کا سکہ کوئی فقیر تک قبول نہیں کرتا، تب یہ سلوک دس روپے کے نوٹ سے ہونا شروع ہوجائے گا۔ پینے کا پانی جو ملک میں کبھی مفت ملتا تھا، ایک عرصے سے قیمتاً ملنا شروع ہوچکا ہے۔ تب پانی کی ایک بوتل ڈیڑھ سو روپے کی ملنا شروع ہوجائے گی۔ عوام یا توہیپاٹا ئیٹس کو دعوت د ینے کے لیئے نل کا پانی پینا شروع کردیں گے یا زیادہ وقت پیاسا رہنا شروع کردیں گے۔ لوگ شاید بھوکے تو نہ رہیں مگر انتہائی غیرمعیاری خوراک کھانے پہ مجبور ہوجائیں گے۔تب فوڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی بھی اس جانب سے آنکھیں بند کرے گی اور اس کی جائز وجہ ہوگی۔ کیونکہ اگر وہ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس سے معیاری کھانے کا مطالبہ کرے گی تو اسے جو معیاری کھانے کی قیمت بتائی جائے گی، وہ عوام کی جیب سے دور دور تک مطابقت سے عاری ہوگی۔ گویا صورتِ حال بیان کررہی ہوگی کہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے آیا اس صورتِ حال سے نمٹنے کا کوئی راستہ موجود ہے؟ بالکل موجود ہے۔ اس پر عمل پیر اہونا بھی مشکل نہیں بشرطیکہ نیت صاف ہو۔ وہ حل یہ ہے کہ بے شک ملک سے پیسہ باہر لے جانے والوں کو جیل میں ڈالیں، مگر اس سے پہلے زیادہ ضروری ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ ملک میں واپس لایا جائے۔ یہ نیت ہی کا تو فتور ہے کہ آصف علی زرداریوں کے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے پیسے کے بارے میں وہاں کے بینکوں یا ان کی حکومت سے پوچھا جارہا ہے۔ اوسط درجے کی عقل رکھنے والا شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ بھلا وہ کیوں اپنے کلائنٹ کا بینک بیلنس بتائیں گے۔ ان کی تو کوشش ہوگی کہ یہ پیسہ ان کے ہاں جوں کا توں موجود ہے۔ تو اصل طریقہ ہے کہ ان زرداریوں سے اگلوایا جائے اور یہ کوئی مشکل بھی نہیں بشرطیکہ نیت صاف ہو اور نیت ہی تو صاف نہیں۔


ای پیپر