ٹرمپ کے نئے الزامات
25 نومبر 2018 2018-11-25

امریکی صدر نے پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کر تے ہوئے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاکستان نے ا مریکہ کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جب کہ امریکہ پر غیر ملکیوں کے سب سے بڑے حملے میں پاکستان کے کسی شہری کے ملوث نہ ہونے کے باوجود دہشت گردی کی اس امریکی جنگ میں غیر مشروط طور پر تمام دنیا کی معاونت کی۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان اگر اس وقت مدد نہ کرتا تو امریکہ کے لئے یہ جنگ جاری رکھنا ناممکنات میں سے تھا۔ 9/11 کے حادثے سے امریکہ نے جس بھونڈے انداز سے جنگ پھیلا دی اس کے نتائج نے عراق اور افغانستان کی تباہی کو امریکہ کی تاریخی بدنامی بنا دیا ہے اور اسی تباہی میں سے داعش وجود میں آئی جوافغانیوں اور امریکیوں کے لئے القاعدہ سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو جنگ امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شروع کی اس نے القاعدہ کے خاتمے کے بعد طالبان اور داعش پیدا کر دےئے۔ امریکہ کی جارحانہ اور مسلم کش پالیسیوں نے سیکولر مسلمانوں کو بھی مذہب کے قریب کر دیا، ان پالیسیوں نے ان تنظیموں کی افرادی قوت میں اضافہ کر دیا ہے اور عام مسلمانوں میں القاعدہ، طالبان اور داعش کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کر دئے ہیں۔ امریکہ اس جنگ کو جتنا طول دیتا جائے گا اتنا ہی اس میں دھنستا چلا جائے گا۔ اس لئے امریکہ اپنی اور کرۂ ارض پر بسنے والے دوسرے مذاہب کے لوگوں کی سلامتی کی خاطر اپنی پالیسیوں میں نرمی لائے، مزاکرات کا ماحول بنائے، عالمِ اسلام کے وسائل کا استحصال بند کر دے۔ یہ پہل امریکہ کو کرنی ہو گی اس کی یہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ ایک دن مزاکرات کی میز پر ختم ہوسکتی ہے۔

امریکہ اب پاکستان کو چھوڑ کر بھارت پر بھروسہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ جب کہ امریکہ کی طویل دلچسپی نے خطے میں نئے بلاک کو ضرورت بنا دیا ہے اور یہ نیا بلاک واضح طور پر چین، روس، ایران اور پاکستان پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد شائد پاکستان کی اس بلاک میں شمولیت مجبوری بن سکتی ہے اور پاکستان کی شمولیت امریکہ کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے جس سے امریکہ کا افغانستان میں رہنا محال ہو جائے گا اور پھر اس کی ان حالات میں واپسی ہر گز باعثِ عزت نہ ہو گی۔ امریکہ پاکستان کے سر الزامات تھوپتے ہوئے یہ ایک بات یا تو بھول رہا ہے یا پھر دانستاً نظر انداز کر رہا کہ چین، روس، ایران جیسی جوہری طاقتوں کے درمیان افغانستان میں امریکہ اگر موجود ہے تو یہ پاکستان کی وجہ سے موجود ہے اگر اسے دہشت گردی کی جنگ کچھ تھوڑی بہت کامیابی ملی ہے تو یہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔ پاکستان نے اپنا لہو دے کر اور چین، روس اور ایران کی ناراضگی مول لے کر امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ 

امریکہ نے 16سال قبل طالبان کو اقتدار سے ہٹا کر دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ وہ افغانستان میں جمہوری روایات کو فروغ دے کر ایک ترقی یافتہ افغانستان تشکیل دے گا اور دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے علاوہ علاقے کے دیگر ملکوں کا تعاون حاصل کرے گا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ نے افغانستان میں جمہوریت کو فروغ دیا ہے؟ اور کیا امریکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو روکنے میں کامیاب ہو سکا ہے؟ کیا افغانستان میں کوئی مستحکم حکومت قائم ہو سکی ہے جو افغانستان کے دور دراز کے علاقوں میں اپنا اثر رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب یقیناً نہ میں ہے اور افغانستان کے اکثر علاقوں میں طالبان کا قبضہ ہے۔ امریکہ افغانستان میں صرف اس حد تک کامیاب ہوا ہے کہ اس نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملوث کر کے خود پاکستان کے لئے بے پناہ مسائل کھڑے کر دئے ہیں۔ اس لئے افغان عوام اور خطے کی بہتری و بہبود کے لئے امریکہ کو چاہئے وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے اس خطے میں امن قائم کرے اور عافیت اسی میں ہے کہ وہ اس خطے سے چلا جائے۔ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے یہاں امن قائم نہیں ہو سکتا ہے اور نہ طاقت اور تشدد کے ذریعے عوام کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے ان بدلتی ہوئی حقیقتوں کا ادراک کر کے حالات پر نظر ثانی کرنے کی بجائے پاکستان کو موردِ الزام ٹہرانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ ان دنوں افغانستان میں اپنی ناکامی کے حوالے سے انتہائی تشویش میں مبتلا ہے تو اس کا الزام پاکستان کے سر نہیں تھوپنا چاہئے بلکہ یہ خود اس کی اپنی خون خوار پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ افغانوں سے معاملے کا جو راستہ امریکہ نے اختیار کیا ہے اس میں امریکہ کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان نے شدت پسندوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، افغانستان میں کامیابیاں پاکستان کی بدولت ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا اور نہ ہی پاکستان کی فوج اور حکومت کو کافی کریڈٹ ملا ہے۔ اس خطے میں امریکہ کے مفادات کی جنگ کی وجہ سے ہی دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا۔ در حقیقت امریکہ ہی ہماری سالمیت کے درپے ہے جس کے فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنا ہماری قومی اور ملی غیرت کے تقاضوں کے منافی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ہمارے ساتھ سنگین مذاق کیا ہو سکتا ہے کہ ہم نے اس کی مدد کرتے کرتے اپنے لئے مسائل کھڑے کر لئے ہیں لیکن وہ ہم پر الزام تراشی کا موقع جانے نہیں دیتا۔ ہماری ایٹمی صلاحیتوں کو منجمند کرنے کے بھی درپے ہے، اپنے دہشت گردوں اور جاسوسوں کے ذریعے ہماری سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کئے بیٹھا ہے، اپنی حقیر امداد کے عوض ہم پر کڑی شرائط بھی عائد کر رہا ہے۔ 


ای پیپر