بھارتی انتخابات ، مسلمان اور پاکستان
25 May 2019 2019-05-25

بھارت کے انتخابات، 2019ء نے اس ملک کی سیاسیات وہاں پر آباد مسلمانوں کے مستقبل اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دو پہلو اجاگر کیے ہیں… ایک مثبت دوسرا منفی… مثبت یہ کہ بھارت کا جمہوری عمل مستحکم تر ہوا ہے ، وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت نے اچھی یا بری کھل کر رائے دی ہے… کس کو اگلے پانچ سال کے لیے حکمرانی کرنی ہو گی اور کس کو نہیں… اس کا فیصلہ ایک نہایت درجہ آزاد عمل کے ذریعے بیلٹ بکس کی کوکھ سے برآمد ہوا ہے… کسی تیسری قوت کو مداخلت کا حق نہیں دیا گیا… نہ اس نے اپنی داخلی طاقت کے بل بوتے پر اپنی بالادستی منوانے کی خاطر آئین اور جمہوریت کے دامن پر کسی قسم کا دھبہ لگانے کی کوشش کی ہے بھارتی آئین میں درج ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد انتخابات ہوں گے لہٰذا 1952ء سے لے کر اب تک ماسوائے ایک دو مواقع پر جب غیر معمولی صورت حال نے جنم لے لیا تھا، انتخابی عمل اپنے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق انعقاد پذیر ہوتا رہا ہے… تازہ ترین انتخابات بھی اسی تسلسل کا نتیجہ ہیں 2014ء میں جب پچھلا چناؤ ہوا تھا تو ہر بھارتی شہری اور اس ملک کے حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصرین کو علم تھا کہ اگلی باری 2019ء کو آئے گی… ابھی جو یہ عمل اختتام پذیر ہوا ہے، نتائج سامنے آ چکے ہیں تو کسی کو اس بارے میں شبہ نہیں کہ اس کے بعد قومی سطح کے انتخابات کا موقع عین پانچ برس بعد 2024ء کو ملے گا… جو حکومت از سر نو قائم ہونے والی ہے اسے پانچ سال کی آئینی مدت ملے گی… یہ امر وہاں کے آئینی اور دستوری تسلسل کی سب سے بڑی علامت ہے… بدقسمتی سے پاکستان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اگر ایک انتخابات منعقد ہو گئے ہیں تو اگلے کب ہوں گے؟ کسی کو یقین نہیں ہوتا حکومت کو ہمارے ملک کے عالم بالا سے کتنی مہلت ’عطا‘ کی جائے گی… یہ ہماری وہ کمزوری ہے جس پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ملک کا نظام سلطنت مسلسل ہچکولے کھاتا رہے گا… اسی سے جڑا ہوا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شکست سے دو چار ہونے والی ملک کی سب سے پرانی اور یوں کہہ لیجیے کہ آزاد بھارت کی بانی جماعت کانگریس جس نے پانچ دہائیوں تک ڈٹ کر انتخابی کامیابیوں کے بل بوتے پر حکمرانی کی اور یکے بعد دیگرے اس کے چھ وزرائے اعظم نے عنان حکومت سنبھالی… اب جو اس جماعت کو 2014ء کی مانند اس مرتبہ بھی شکست فاش سے دو چار ہونا پڑاتو اس کے موجودہ لیڈر راہول گاندھی نے کھلے الفاظ میں اپنی ناکامی کو تسلیم کیا ہے… جیتنے والے نریندر مودی کو مبارک باد پیش کی ہے اور بھارتی عوام کی بھاری اکثریت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا… پاکستان بھی علانیہ جمہوری ملک ہے… اس کا بھی ایک آئین ہے جو متفق علیہ سمجھا جا تا ہے… ہمارے یہاں بھی باقاعدہ اور تسلسل کے ساتھ نہ سہی آگے پیچھے درجن سے زائد مرتبہ انتخابات تو ہوئے ہیں لیکن کیا کسی ایک کے نتائج کو بھی ہارنے والوں نے خوش دلی کے ساتھ قبول کیا ہے یا جیتنے والی جماعت کو مکمل طور پر انشراح صدر نصیب ہوا کہ اس نے واقعی جیت کر دکھایا ہے… کبھی ہارنے والوں نے نتائج کو قبول نہیں کیا… کبھی تیسری قوت کو پسند نہ آئے… ہر نئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اُس کے اور اپوزیشن کے درمیان دھما چوکڑی شروع ہو جاتی ہے… ہمارے یہاں ماسوائے مارشل لائی حکومتوں کے کسی کو استحکام نہیں ملا…بمشکل کوئی اپنی آئینی مدت پوری کر سکا… 13 وزرائے اعظم میں سے ہر ایک کو عوام یا بیلٹ بیکس کے فیصلے کے تحت نہیں پس پردہ قوتوں کی کارفرمائی کے نتیجہ میں اٹھا باہر پھینکا گیا… آئین بار بار پامال ہوا… جمہوریت اب تک مسخ حالت میں چلی آ رہی ہے… اس کے برعکس بھارتی نظام سلطنت کی اس کامیابی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں آئین و دستور کے پھریرے بھی لہراتے چلے آ رہے ہیں اور اس سے پھوٹنے والے جمہوری عمل کی راہ میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جاتی… اگرچہ اندرا گاندھی نے 1975ء میں ایمرجنسی کا نفاذ کر کے ایسی ایک کوشش کی تھی مگر 1977ء کے انتخابات میں بیلٹ بیکس نے اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر نہرو کی بیٹی کے ارادوں کو پاش پاش کر کے رکھ دیا… یہ بھارتی جمہوریت کا وہ مثبت پہلو ہے جس کا پھل وہ لو گ آج تک کھاتے چلے آ رہے ہیں… اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلواتے ہیں… اور اسی تقدس کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم در ظلم کرتے چلے آ رہے ہیں… مگر کوئی پوچھنے والا نہیں… جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ وادی کے مظلوموں کی جائز اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حمایت کرتے ہیں اور دہشت گرد کہلاتے ہیں… ایک وجہ اس یہ بھی ہے کہ دنیا کی نگاہوں میں ہمارے نظام مملکت کی کوئی ساکھ نہیں …

بھارتی کے انتخابی عمل یا جمہوریت کا منفی پہلو بھی اتنا ہی واضح اور ہر ایک کو نظر آنے والا بلکہ امر واقع یہ ہے کہ 2014ء کے بعد 2019ء کے چناؤ نے بھی بانیان پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ اقبالؒ کے خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی جمہوریت ہندو قوم پرستی کی آئینہ دار ثابت ہو گی اور ایک مذہب کو ماننے والوں کی اکثریت دوسری اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو اس طرح دبا کر رکھ دے گی کہ آزاد بھارت کے اندر ان کاجینا محال ہو جائے گا… تنگ نظری پوری طرح غالب آ جائے گی… لہٰذا مسلمانوں کو اپنے اکثریتی علاقوں میں آزاد مملکت قائم کر کے علیحدگی حاصل کر لینی چاہیے… تازہ انتخابات کے نتائج نے بانیان پاکستان کی بصیرت اور دور اندیشی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے… بھارتی مسلمان کل آبادی کے 20 فیصد سے کم نہیں لیکن سرکاری طور پر انہیں پندرہ فیصد قرار دیا جاتا ہے… اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو لوک سبھا میں ان کی 70 سے80 نشستیں بنتی ہیں جبکہ اُنہیں ملی صرف 22ہیں… کبھی 50 سے 60 تک بھی ہوتی تھیں لیکن جبکہ سے بی جے پی کو بار بار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ہندو قوم پرستی کو بہت زیادہ فروغ ملا ہے اس کے جلو میں آنے والی مذہبی تنگ نظری کو غلبہ حاصل ہوا ہے… تو یہ تعداد گرتے گرتے 22 تک آن پہنچی ہے… اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان برے حالات میں بھی راجیو گاندھی جیسا خاندانی لیڈر یو پی میں آبائی نشست ہار گیا ہے جبکہ کیرالا میں اسے مسلمان اکثریت رکھنے والے حلقۂ انتخاب میں کھڑے ہونے کی برکت سے ایوان میں قدم رکھنا نصیب ہو جائے گا… تاہم اتنی کم نشستوں کے حصول میں کچھ قصور ہمارے مسلمان بھائیوں کا بھی ہے جو ہر اس حلقۂ انتخاب میں جس کے اندر مسلمان ووٹروں کی معتدبہ تعداد پائی جاتی ہے، مختلف جماعتوں کے ٹکٹ حاصل کر کے ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں… نتیجے کے طور پر مسلمان ووٹ بٹ جاتا ہے اور کامیابی مقابلے کے ہندو امیدوار کے حصے میں آجاتی ہے… یہ بھی ہو تا ہے جہاں ایک امیدوار کھڑا ہو وہاں تمام ہندو باہمی سیاسی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہم مذہب بھائی کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے یکجا ہو جاتے ہیں… بی جے پی اور اس کی مادر جماعت راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) تو مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد میں اس حد تک چلی گئی ہیں… ٹکٹ ہی 6 مسلمانوں کو دیئے گئے جن میں سے تین مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تھے ، جو شاید اس کی مجبوری تھی کامیاب ان میں سے شاید ایک کو نہیں ہونے دیا گیا… 2014ء کا چناؤ اور موجودہ انتخاب مسلمان دشمنی کے جذبات کو انگیخت دینے کی فضا پیدا کر کے جیتا گیا ہے اور یہ جو علامہ اقبالؒ نے کبھی کہا تھا کہ آزاد ہندوستان میں نہ صرف ہندو قوم پرستی بلکہ اس کی تہہ میں پائی جانے والی برہمن زاد کا راج ہو گا… حرف بہ حرف درست ثابت ہوا ہے… کانگریس اور بی جے پی بظاہر ایک دوسرے کی رقیب جماعتیں ہیں لیکن دونوں کی قیادت پر برہمن اور اونچی ذات کے ہندو چھائے ہوئے ہیں… انہوں نے نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی رگید کر رکھ دیا ہے… موجودہ چناؤ میں اترپردیش جیسی سیاسی لحاظ سے سب سے مؤثر اور بڑی ریاست کے اندر جس کی لوک سبھا میں 80 نشستیں ہیں، ہندوؤں کی درمیانی ذاتوں کی نمائندہ سماج وادی پارٹی اور دلتوں کے حقوق کی علمبرداربہوجن سماج پارٹی کے درمیان اتحاد ہوگیا تھا … بی جے پی اور آر ایس ایس کے برہمن زادوں نے چھوٹی ذاتوں کے اس اتحا دکو بھی شکست سے دوچار کیا ہے… بی جے پی نے اتر پردیش میں لوک سبھا کی 80 میں سے 60 نشستیں جیب میں ڈال لی ہیں… یہ صورت حال بھارت کو کہاں لے جائے گی … اکثریتی مذہب کے ماننے والوں کو اگرچہ غلبہ مل گیا ہے لیکن سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو الگ تھلگ کرنے کا جو عمل وقوع پذیر ہے، وہ بھارتی سماج کے اندر گہرے تضاد اور اس کی کوکھ سے پھوٹنے والے سخت انتشار کو جنم دے گا… بھارتی پنجاب کے سکھوں نے بھی بی جے پی کے بجائے کانگریس کا ساتھ دیا ہے… یہ تفریق اگر اسی طرح گہری ہوتی رہی تو اس کے منفی اثرات بھارت کے نام نہاد قومی اتحاد کو اس کی جڑوں میں اتر کر مزید کمزور اور کھوکھلا کر کے رکھ دیں گی…

نریندر مودی پہلے سے زیادہ پارلیمانی طاقت حاصل کر کے کامیاب ہوئے ہیں… ہم اہل پاکستان کی عمومی رائے تھی کہ اگر وہ دوبارہ وزیراعظم بنے بھی تو 2014ء تا 2019ء کے مقابلے میں کم نشستوں کی بنیاد پر کمزور پوزیشن میں ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا … اگلے پانچ سالوں کے دوران ان کے خمار میں مزید اضافہ ہو گا… پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے میں وہ زیادہ سخت مؤقف اختیار کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں گے… ان کا اولین ہدف یہ ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کا پنجۂ استبداد سخت تر ہو، وہاں جاری تحریک آزادی کا کوئی ایک مقامی مجاہد بھی اٹھ کر سامنے آئے تو اس کی ذمہ داری پاکستان قبول کرے اور بھارت کا ہم آواز ہو کر اسے دہشت گردی قرار دے ورنہ ایف ٹی اے ایف کا پھندا تیار ہو گا یہ صورت حال کسی طور پاکستان کے لیے قابل قبول نہ ہو گی اور اسی ایک نکتے سے باہمی تناؤ، کھچاؤ اور چپقلش میں اضافہ ہو گا… نریندر مودی نے یہ انتخاب جہاں بھارتی مسلمانوں کے ساتھ نفرت کے جذبات کو ہوا دے کر جیتا ہے وہیں اپنے ملک کی پاکستان دشمنی سے بھی خوب کام لیا ہے… پلوامہ حملے کو بڑی ڈھٹائی اور عیاری کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا… ان حالات میں اگر مذاکرات کے عمل کا از سر نو آغاز ہو بھی جاتا ہے تو پاکستان کے حکمرانوں کو اس میں اپنے مؤقف کی حقانیت کے ساتھ غیر معمولی سفارتی صلاحیتوں کو آزماتے ہوئے حصہ لینا پڑے گا… گزشتہ دنوں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے پاک بھارت وزرائے خارجہ کے درمیان غیر رسمی ملاقات سے اشارہ ملتا ہے کہ مودی صاحب مذاکرات کا ڈول ڈالنے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کریں گے مگر سب کچھ ان کی اپنی شرائط اور من پسند نتائج کے حصول پر مرکوز رہے گا… اتنی بڑی اکثریت کے ساتھ مودی کی داخلی سیاسی طاقت اور اعتماد میں اضافہ ہو گیا ہے… مقابلے میں عمران خان کی پاکستانی حکومت ہو گی جس کی پارلیمانی ’’اکثریت‘‘ چار یا چھ مانگے تانگے کی نشستوں پر منحصر ہے… اس پر مستزاد یہ کہ خارجہ اور دفاعی امور میں فیصلوں کی طاقت کسی ’ اور‘ کے پاس ہو گی… دوسری بات یہ بھی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کسی سطح پر حل کرنے کی خواہش واجپائی یا من موہن سنگھ کے دلوں میں شاید پائی جاتی ہو، مودی اور اس کے قریبی ساتھیوں کے قلوب و اذہان میں وادی کے مظلوم عوام کو ان کے جذبہ آزادی کے ساتھ کچل کر رکھ دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں پائی جاتی… لہٰذا ہمیں اپنی سٹریٹجی زیادہ بہتر اور اعلیٰ درجے کی تخلیقی بنیادوں پر تیار کرنی ہو گی… ہمارے حکمرانوں اور سفارتی بیورو کریٹس کو اس تپتی زمین پر بہت احتیاط کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔


ای پیپر