آب ازسر گزشت
25 May 2019 2019-05-25

ہر سال روحانی زندگی کی جلا کے لیے آنے والا ماہِ عظیم، ماہِ مبارک، رمضان رحمتیں برکتیں مغفرتیں سمیٹ کر آخری عشرے میں داخل ہو رہا ہے۔ ہر آنے والا مہ و سال ہمیں خود سے بیگانہ کرنے، اپنی شناخت بھلانے ( کی ابتداء پرویز مشرف کر گیا۔) بد سے بد تر کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔ نماز و روزہ و قربانی و حج، یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے! رمضان سے پاکستان کا خاص رشتہ تھا۔ نہ رہا۔ ہم نے قصداً یوم آزادی کے لیے 27 رمضان کی بجائے 14 اگست کو بہتر جاناتاکہ ناچ گا بجا سکیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الاللہ والا پاکستان فطرتاً رمضان ہی سے مناسبت رکھتا تھا۔ جاں بلب بانی پاکستان نے تو گن کر 100 مرتبہ ( اپنی مسلسل تقاریر میں) پاکستان کا مقدر اسلام سے باندھا تھا۔ منزل کی راہ دکھا کر وہ رخصت ہوئے اور ہم نے چپکے سے پٹڑی بدل لی۔ اس کے بعد تسبیح کا دھاگا ٹوٹنے پر گرتے دانوں کی طرح جو پے در پے ہم پر ملک غلام محمد ، میجر جنرل سکندر مرزا، فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان جیسے حکمران برسے ہیں، پاکستان کی ہوش ماری گئی۔ تاریخ بیان کر کے زخموں پر نمک کیا چھڑکنا، ان کے نام ہی کافی ہیں۔ اسلام سے ان کا رشتہ، نظریاتی شناخت کی فکر؟ سو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پاکستان دو لخت ہوا۔ جس کلمے سے یہ عجب معجزہ ظہور میں آیا تھا مشرقی و مغربی پاکستان کا۔ وہی کلمہ بھلا بیٹھے۔ سو یہ ہونا تو مقدر ٹہرا۔ ہم بنگالی، پنجابی ، سندھی ، پٹھان رہ گئے۔ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 27 رمضان المبارک تو رحمت کے فرشتوں کے جلو میں رب تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی فراوانیاں لاتا۔ ہم نے اسلامی کیلنڈر کی بجائے اپنی شناخت رومن کیلنڈر سے نتھی کی۔ عوام کے منہ میں تکا دینے اور اہل دین کو مطمئن کرنے کو قرار داد مقاصد آئین کا حصہ بنا کر بالائے طاق رکھ دی گئی۔ آج کے پاکستان میں اسلام کے حوالے سے کیے گئے ( دل بہلاوے، اشک شوئی کے) وعدے وعید ڈھونڈئیے۔! منظر نامہ بدل چکا۔ 27 رمضان کو یوم آزادی مناتے تو اللہ کے حضور سجدہ ریزیوں، مساجد کی رونق بڑھاتا، شکر گزاری اور رب تعالیٰ کی بندگی سے معمور، ایمانی قرآنی خوشبو سے معطر یوم آزادی ہوا کرتا۔ شکر گزاری نعمتوں کو بڑھاتی، اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر شکر گزار بنو گے تو اور زیادہ دوں گا۔ ہم کشکولیے فقیر نہ ہوتے۔ سودی قرضوں کی بھیک پر ہماری نسلیں گروی رکھی ہوئی نہ ہوتیں اگر ہم نے حق بندگی ادا کیا ہوتا۔ کلمے کا وعدہ نبھایا ہوتا۔ رمضان تو یوں بھی تاریخ اسلام کے کئی سنگ میل لیے ہوئے ہے۔ یوم الفرقان ، غزوہ بدرحق و باطل کے معرکے کادن، یوم فتح مکہ، یوم باب الاسلام، محمد بن قاسم ؒ کے ہاتھوں بر صغیر میں اسلام کی آمد، اور پھر تخلیق پاکستان بھی۔ نگینے کی طرح یہ فتوحات رمضان المبارک میں جڑی ہیں۔ لیکن ہمارے منانے کا ان سے ایک بھی دن نہیں۔ ہم نے بہت سے دنیائے کفر کے لے پالک دن گود لے رکھے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے ( یوم عاشقی و فحاشی)، بھوت بھتنیوں بلائوں کا دن یعنی ہیلو وین، کرسمس، ہولی، دیوالی! نوجوان نسل خود سے بیگانہ مخبوط الحواس حال حلیوں میں یہ سارے دن بڑی چاہت سے مناتی ہے۔ عورت کسی بھی معاشرے کی اقدار، اخلاق و کردار جانچنے کا پیمانہ ہوا کرتی ہے۔ ( معاشرے کی معمار… اگر اسے یہ کردار ادا کرنے کے لائق چھوڑا جائے) رمضان میں ہماری نو جوان نسل، مردوزن کہاں ہیں؟ پے در پے ہونے والے واقعات معاشرے کا بھیانک ایکس رے پیش کر رہے ہیں۔ عام حالات میں تو معروف ہے کہ۔ کار بد تو خود کرے لعنت کرے شیطان پر۔ لیکن رمضان میں جب شیاطین جکڑے باندھے جا چکے، معاشرہ پاکیزگی، پارسائی کا کیا معیار دے رہا ہے۔؟ شیطان بھی انگشت بد نداں رہ جائے ہمارے حالات پر۔ اخلاقی گراوٹ پے در پے درندگی کے واقعات سے ظاہر ہے۔ بچیوں کا اغوا اور قہر برسا کر قتل ، یہ بے لگام مادر پدر آزاد معاشرہ؟

اس کا استاد سوشل میڈیا، فلموں، ڈراموں کی بے ہودگی کی ثقافت ہے۔ یہ روشن خیالی، ترقی پسندی نامی عفریت کی ذریت ہے۔ رات کے دو بچے راولپنڈی میں پرائیوٹ ہوسٹل سے اپنے دوست کے ہمراہ سیرو تفریح اور سحری منانے کے لیے بحریہ ٹائون جانے والی 21 سالہ لڑکی جسے محافظ فورس نے ناکے پر روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ راولپنڈی پولیس کے تین مخافظوں نے رمضان کی رات کی حرمت اور لڑکی کی حرمت کی دھجیاں اڑا دیں۔ ریاست مدینہ کا پہاڑہ پڑھنے والوں کی کے ہاں یہ سب دارالحکومت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اتنی ہولناک جرأت، محافظوں، کو کیونکر ہوئی؟ سبھی کچھ غلط ہے سرتاپا۔ اللہ کی حدیں پامال کر کے ، وحشت اور بے دینی، اللہ سے بے خوفی کے اس ماحول میں والدین غیر محفوظ ہاسٹلوں میں جوان بیٹیاں یوں بے وقعت جان کر چھوڑ دیتے ہیں؟ رمضان کی حرمت پامال کر کے رات کے 2 بجے پرائے لڑکے کے ہمراہ کون سا روزہ ہونے چلا تھا؟ بڑے شہروں میں راتیں جا گتی ہیں۔ اس وقت یہ محافظ اتنی دیدہ دلیرانہ واردات کے مرتکب ہوئے۔ انہیں چوراہے پر کیوں نہ ٹانگا گیا؟ اہل دین کی داڑھیوں اور ایمان والوں سے خار کھائے بیٹھے رائو انوار جیسوں کے ہاتھوں قانون اور سکیورٹی کے نام پر اندھا دھند 400 قتل کر دیے گئے۔ بے دردی سے۔ وہ کھلا پھر رہا ہے۔ ایسی ہزاروں کہانیاں اور بھی ہیں۔ دوسری طرف سکیورٹی فراہم کرنے پر مامور یہ اہل کار قانون کی یوں دھجیاں اڑائیں اور کوئی ازخود نوٹس نہ ہو؟ یہ تو ہیں ہماری معاشرتی اخلاقیات۔ دوسری جانب سیاسی معاشی احوال ہوش گم کر دینے کو کافی ہیں۔ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ کی تصویر ہیں۔ کہاں دور غلامی میں قد آور شخصیات ہر سطح پر موجود تھیں۔ نگاہ خیرہ کن سیرت و کردار میں یکتا علمائے حق۔ عصری تعلیم سے بہرہ ور قیادتیں بھی دینی غیرت اور قوم کی رہنمائی کی اہلیت والی بے شمار تھیں۔ قلم کے دھنی، اخبار و رسائل میں حق گوئی و بیبا کی میں ضرب المثل بھی کم نہ تھے۔ اور آج۔ ؟ بُھس غنیمت است کے حال کو جا پہنچے ہیں۔ مشرف ( یحییٰ خان کے بعد) جیسے سر پر شراب کی بوتل رکھ کرناچنے والے حکمران کے پاکستان کے مقصد تخلیق سے مکمل یوٹرن نے ہمیں آج یہ دن دکھائے۔ باہر سے لا بٹھائے، مسلط کیے گئے شبر زیدی، عبد الحفیظ شیخ و دیگر چھوٹے بڑے، پاکستان کا مقدر بیرونی قوتوں کے ہاتھ بیچنے چلے ہیں۔ آج ہماری خوشخبریاں ایسی ہوتی ہیں کہ سعودی عرب ہمیں سو تین ارب ڈالر کا تیل ادھار دے گا۔ قبل ازیں بھی ہر قرض کو کارکردگی معرکہ اور حکومت کی کامیابی بنا کر شہ سرخیاں لگائی گئیں۔ جواریوں کی طرح پاکستان کا مقدر ہارا جا رہا ہے۔ ہماری شناخت، آزادی ، خود مختاری سبھی کچھ عالمی ساہو کاروں کے ہاتھ گروی رکھا جا چکا۔ یہ رمضان ہی تھا جس نے عرب کے صحرا نشینوں کا مقدر بدل دیا تھا۔ وہ مکہ جہاں صرف 17 لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اس سے ایک ایسی قوم اٹھائی، قرآنی تعلیمات کے ذریعے جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا پر چھا گئی۔ کیا جس نے صحرا نشینوں کو یکتا، خبر میں نظر میں اذان سحر میں۔ جس تعلیم نے سکھایا اقراء… پڑھ !لیکن کیسے ؟ باسم ربک الذی خلق… اس رب کے نام کے ساتھ جس نے تجھے پیدا کیا۔ وہ تعلیم، وہ علم حقیقی جس نے دین و دنیا کی تفریق کو ختم کیا۔ جسم و روح کی بیک وقت بالیدگی کا اہتمام کیا۔ انسانوں کو صرف والدین نہیں انسانیت کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ جسے کھو کر آج دنیا درندوں کے جنگل اور مویشیوں کے باڑوں کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ 99 فیصد انسان بھیڑ بکریوں کے بے زبان ریوڑ بنے۔ ایک فیصد ( وال سٹریٹ تحریک والے) استحصالی گروہ کے ہاتھوں رل گئے ہیں۔ پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے۔ رمضان کا سہارا پکڑ کر بہ زبان اقبال ؒ رحمت ربی کو پکارتے ہیں کہ اے خضرد ستے کہ آب از سر گزشت! یا اللہ ! کوئی خضر آ جائے اور ہمیں ( ان دجالی قتنوں کی یلغار سے) ہاتھ پکڑ کر نکال لے جائے کہ ہماری نکبت و غلامی کا پانی سر سے گزر چکا! یا مصرف القلوب پاکستان کا دل ایمان کی طرف پھیر دے اور یا مقلب القلوب پاکستان کا دل دین پر جما دے! (آمین)


ای پیپر