افطاریوں کا موسم
25 May 2019 2019-05-25

روزے کے ’’رعب‘‘ اور آگ برساتے سورج نے ہمیں صبح 10 بجے ہی نڈھال کر دیا۔ 2 بجے تک تو شدتِ عطش سے زبان لبوں پر آگئی۔ ہم نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور اے سی آن کرکے لیٹ رہے۔ آجکل ہم کم کم ہی اے سی چلاتے ہیںکیونکہ ہماری ’’عوامی حکومت‘‘ کی مہربانی سے پاکستان میں بجلی مہنگی اور موت سستی ہوچکی۔ کوئی 2 گھنٹے گزرے کے دروازے پر متواتر بجتی گھنٹی نے ہمیں ’’اوازار‘‘ کر دیا۔ ملازمہ چھٹی پر تھی اِس لیے طوہاََ وکرہاََ ہمیں خود ہی اُٹھنا پڑا۔ باہر گیٹ پر پہنچے تو ایک ہٹی کٹی ’’بارہ مَن کی‘‘ فقیرنی کو منتظر پایا جو افطاری کے لیے راشن کی طلبگار تھی۔ دینِ مبیں میں یتیموں، معذوروں اور بے کسوں کی مدد کا حکم لیکن پیشہ ور فقیروں کی مدد کا ہرگز نہیں۔ ایک دفعہ حضورِ اکرمؐ نے فرمایا کہ کون ہے جو میرے ہاتھ پر بیعت کرے؟۔ صحابہ اکرام حیران ہوئے اور عرض کیا کہ کس بات کی بیعت، ہم تو پہلے ہی بیعت کر چکے۔ حضورؐ نے فرمایا ’’اِس بات پر کہ تم کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤ گے‘‘(مفہوم)۔ فقیرنی کو دیکھ کرہم سوچ رہے تھے کہ یہ افطاریوں کا موسم ہے یا بھکاریوں کا کہ صبح سے شام تک بھکاری متواتر چلے آتے ہیںجس سے جینا دوبھر اور زندگی اجیرن۔

پاکستان میں افطاریاں بھی کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ مساجد میں افطاریوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں زیادہ تر مزدور پیشہ لوگ ہی آتے ہیں۔ کچھ مخیر حضرات اپنے گھروں کے باہر بھی افطاریوں کا انتظام کرتے ہیںاور دوست احباب کے لیے بھی ’’ثوابِ دارین‘‘ حاصل کرنے کے لیے وسیع دسترخوانوں پر انواع واقسام کے کھانے سجائے جاتے ہیں تاکہ کچھ ’’رعب شعب‘‘ پڑ ے لیکن ’’سیاسی افطاریوں‘‘ کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ اِن میں اللہ رسول کے ذکر کی بجائے ’’کرسی‘‘ کا طواف کیا جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں بلاول زرداری نے ایک ایسی ہی سیاسی افطاری کا اہتمام کیا جس میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ یہ افطاری کم اور سیاسی بیٹھک زیادہ تھی جس میں اعلان کیا گیا کہ عید کے فوراََ بعد مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں آل پارٹی کانفرنس بلاکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ حکومت کو ’’ ٹَف ٹائم‘‘ دینے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔ اِس مجوزہ احتجاج میں اپوزیشن کا بیانیہ سب کو معلوم ۔ مہنگائی کا رونا، ڈالر کی اونچی اُڑان کے قصے، پٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی آسمانوں کو چھوتی ہوئی قیمتوں پر بات ہوگی۔ معیشت کی تباہی کا ذکر ہوگا اور ملک کو آئی ایم ایف کے آگے گروی رکھنے کا ماتم کیاجائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کے باہر نکلنے پر ’’دمادم مست قلندر‘‘ ہوتا ہے یا نہیں۔ ویسے اُمید تو یہی ہے کہ کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور ہوگی۔ وجہ اُس کی یہ کہ مصلحت اندیش میاں شہبازشریف تو ’’ایسے دستور کو ، صبح بے نور کو ۔۔۔میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا‘‘

کہتے ہوئے لندن جا بیٹھے اور اب نوازلیگ کی جو سیاسی قیادت سامنے آئی ہے وہ میاں صاحب کے بیانیے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ سے جُڑی ہوئی۔ بلاول تو پہلے ہی میدان میں تھا، اب مریم نواز بھی کھُل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مریم نواز کا بہاول پور میں تلخیوں میں گھُلا لہجہ یہ پیغام دے رہا تھا کہ نوازلیگ ’’Do or Die‘‘ پر تُل چکی۔ مولانا فضل ا لرحمٰن بھی خوش کہ آخر کار پیپلزپارٹی اور نوازلیگ ایک صفحے پر آ ہی گئیں۔ یہ تو بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا کہ مولانا کے پاس ’’سٹریٹ پاور‘‘ ہے اور وہ ملین مارچ نہ سہی، ٹھیک ٹھاک مجمع تو اکٹھا کر ہی سکتے ہیں۔ اِسی لیے تو مشیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ’’مولانا اسلام پر نظر رکھیں، اسلام آباد پر نہیں‘‘۔ یاد آیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ مولانا فضل الرحمٰن کے والدِمحترم مولانا مفتی محمود سے سوال کیا، کیا یہ درست ہے کہ رسولِ اکرمؐ جب معراج پر تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے پہلے پورے سال کے روزے اور پورے دن کی نمازیں فرض کیں؟۔ جواباََ مولانا نے اثبات میں سر ہلایا تو بھٹو نے کہا ’’کاش کہ ایسا ہی رہتا۔ آپ لوگ نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے رہتے اور ہم آرام سے حکومت کرتے رہتے‘‘۔ مولانا فضل الرحمٰن، محترم مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں اور فردوس عاشق اعوان تازہ تازہ پیپلزپارٹی کو داغِ مفارقت دے کر تحریکِ انصاف میں وارد ہوئی ہیں۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی سابقہ ’’چیلی‘‘ کو شایدبھٹو کا کہا یاد تھا، اسی لیے اُس نے مولانا فضل الرحمٰن کو اسلام آباد کی بجائے اسلام پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا۔ بہرحال یہ طے کہ بلاول زرداری کی افطاری کوئی نہ کوئی ’’کھڑاک‘‘ تو ضرور کرے گی۔ اگر دمادم مست قلندر اپنی رفعتوں کو چھونے لگا تو پھر قوم ’’میرے عزیز ہم وطنو! ‘‘ سننے کے لیے تیار رہے۔

تحریکِ انصاف کے اندر افراتفری کا عالم تو پہلے ہی تھا اور اُکھاڑ پچھاڑ بھی جاری لیکن بلاول کی افطاری نے اُس کی بے چینی کو کئی گُنا بڑھا دیا۔ تحریکیے کہتے ہیں کہ ابھی صرف 10 ماہ ہی تو ہوئے ہیں، اتنی قلیل مدت میں کیا خاک نتائج برآمد ہوںگے۔ بجا! مگر کیا ڈی چوک اسلام آباد کا 126 روزہ دھرنا یاد نہیں؟۔ نوازلیگ کو بھی اقتدار میں آئے ابھی ایک سال ہی تو ہوا تھاجب کپتان امپائر کی انگلی کھڑی ہونے کے شوق میں اپنے ’’کزن‘‘ کے ہمراہ ڈی چوک پہنچے ۔ پھر وہاں جو کچھ ہوا، وہ سب تاریخ ہے۔ قوم کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں کہ وہ کپتان کے سول نافرمانی کے اعلان کو بھول جائے، پارلیمنٹ کا گیٹ توڑنے کو فراموش کر دے اور پی ٹی وی پر قبضے کو اپنے حافظے سے مٹا دے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے عظیم دوست چین کے صدر کا پاکستان کا دَورہ شیڈول تھا جسے اِسی دھرنے کی وجہ سے مؤخر کرنا پڑا۔ جب دورہ مؤخر ہوا توکپتان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا ’’او جھوٹو! چین کا صدر تو آ ہی نہیں رہا تھا‘‘۔ کپتان کے اِس اعلان کی تردید چینی سفارت خانے کی طرف سے آئی تو قوم کو پتہ چلا کی چین کے صدر واقعی پاکستان تشریف لا رہے تھے لیکن اسلام آباد کے حالات کے پیشِ نظر یہ دورہ مؤخر کرنا پڑا۔ تب کسی تحریکیے کو ملک وقوم کے مفاد کا خیال کیوں نہیں آیا؟۔

رہی بات صرف 10 ماہ کی تو عرض ہے کہ 100 دنوں میں قوم کی تقدیر بدلنے کا اعلان پیپلزپارٹی نے کیا، نہ نوازلیگ نے، یہ اعلان خود عمران خاں نے کیا۔ جب اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا اتنے دنوں میں کایا کلپ ہو سکتی ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا ’’ 100 دن تو کیا، میں 50 دنوں میں کرکے دکھا سکتا ہوں‘‘۔ لگ بھگ 300 دن گزر چکے لیکن ہوا یہ کہ قوم کو مہنگائی کے ’’سونامی‘‘ میں ڈبو دیا گیا۔ جس ملک میں لیموں 450 روپے کلو اور سوائے آلوؤں کے ہر سبزی ڈیڑھ سے 200 روپے کلو فروخت ہو رہی ہو، وہاں کیا مجبورومقہور یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ اُن کے ساتھ ’’ہَتھ‘‘ ہو گیا ہے۔ قوم کو دکھائے گئے سہانے سپنے ریزہ ریزہ کرنے والی تحریکِ انصاف نہیں تو اور کون ہے؟۔ ڈالر کو 155 روپے تک کس نے پہنچایا؟۔ پٹرولیم مصنوعات سمیت ہر شے کی قیمتواں کو آسمانوں تک پہنچانے والا کون ہے؟۔ کہاں ہیں بیرونی ممالک میں پڑے ہوئے وہ 200 ارب ڈالر جنہیں واپس لانے کے دعوے کیے گئے۔ کپتان نے کہا کہ پاکستان سے ہر سال 12 ارب ڈالر چوری ہوتے ہیں۔ اب تو اُن کی حکومت ہے، کیا اُنہوں نے 10 ماہ میںیہ چوری روک 10 ارب ڈالر اکٹھے کر لیے؟۔ کیا چور چور اور ڈاکو ڈاکو کی صدائیں بلند کرنے والوں نے چوروں اور ڈاکوؤں کو نشانِ عبرت بنا دیا؟۔ کپتان اگر اپنے دائیں بائیں نگاہ دوڑائیں تو اُنہیں اپنی ہی جماعت میں کئی چور اور ڈاکو سینہ تانے کھڑے نظر آجائیں گے۔

ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا اعلان بھی کپتان ہی نے کیا تھا۔ اب 10 ماہ گزر چکے لیکن کسی گھر کا نام ونشان تک نہیں۔ البتہ یہ سہانے سپنے اب بھی اخباری اشتہارات میں دکھائے جا رہے ہیں۔ ایک اخباری اشتہار نظر سے گزرا جس میں لیّہ اور بھکر جیسی جگہوں پر 5 مرلے کے گھر کی قیمت 41 لاکھ25 ہزار بتائی گئی تھی اور 10 فیصد ایڈوانس۔ گویا پہلے لگ بھگ سَوا چار لاکھ ادا کرو، پھر گھر بُک ہوگاجس کا قبضہ 2 سے 3 سال بعد دیا جائے گا۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا نانِ جویں کے محتاج یہ گھر خریدنے کی سَکت رکھتے ہیں؟۔ اِس سے کہیں بہتر اور کہیں سستی سکیم تو پرویزالٰہی نے گورنمنٹ ملازمین کے لیے نکالی تھی، پھر آپ نے کون سا معرکہ سَر کر لیا؟۔ اب حکمرانوں کے پاس 51 ماہ باقی بچے ہیں۔ سوال یہ بھی کہ کیا حکمران ہر ماہ ایک لاکھ گھر بنانے اور 2 لاکھ ملازمتیں دینے کی پوزیشن میں ہیں؟۔ جنہوں نے ناک سے لکیریں نکال کر آئی ایم ایف سے 39 ماہ میں 6 ارب ڈالر قرضہ حاصل کرنے کی تگ ودَو کی ہو، اُن سے گھروں اور ملازمتوں کی توقع عبث۔ جب یہ عالم ہو تو کہنا ہی پڑتا ہے کہ

وہاں فلک پہ ستاروں نے کیا ابھرنا ہے

ہر اِک آنکھ جہاں آنسوؤں کا جھرنا ہے


ای پیپر