’’قطرہ قطرہ زندگی ‘‘کی تقریب رونمائی کی شاندار تقریب
25 May 2019 2019-05-25

ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدلنے والے علی الہجویر ؒ کا شہر لاہور جو کسی دور میں علم و عمل کا گہوارہ تھا اور جو کتاب دوستی اور کتاب بینی کی وجہ سے پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتا تھا وہاں آہستہ آہستہ اپنوں کی بے اعتنائی اوراس کلچر کی سرپرستی نہ کرنے کی وجہ سے یہ کلچر ماند پڑنا شروع ہو گیا اور یوں محبتیں تقسیم کرنے والا شہر دشمنی، حسد اور دہشت گردی جیسی لعنتوں کا شکار ہو گیا ۔ وہ لاہور جو کسی دور میں پھولوں اور پرندوں کا شہر ہوتا تھا اب وہاں بارود اور دشمنی کے بھپکے اٹھتے ہیں اور جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے شہر لاہور کو اس کے اصل سے محروم کر دیا ۔ بھلا ہو قاسم علی فائونڈیشن کا جن کے منتظمین نے شہر لاہور کے پرانے حُسن کو دوبارہ واپس لانے کی کوشش کی ہے اور جس کے لئے وہ علمی و ادبی محافل منعقد کرانے کے ساتھ اچھی کتابوں کو بھی پروموٹ کر رہے ہیں ۔

حالیہ دنوں میں چیف ٹریفک افسر لاہور کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی کتاب ’’ قطرہ قطرہ زندگی ‘‘ کی خوبصورت اور شاندار تقریب رونمائی کا اہتمام بھی قاسم علی شاہ فائونڈیشن نے کر رکھا تھا ۔ لیاقت علی ملک کی سب سے بڑی لیاقت یہ ہے کہ انہوں نے شہر لاہور کی صدیوں پرانی بے ہنگم ٹریفک کو اپنی کمال مہارت کا استعمال کرتے ہوئے منظم بنا دیا ہے ۔ یہ بھی ان کی لیاقت ہے کہ وہ بڑی سے بڑی بات چھوٹے سے فقرے میں کر دینے کے ماہر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام کتابوں میں ایک ایک فقرہ اپنے اندر سمندر جیسی گہرائی لئے ہوئے، انسان کو عمل کے رستے کا مسافر بنانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ ملک صاحب ایک مشفق اور خوبصورت انسان اور اپنے ماتحتوں سے باپ کی طرح محبت رکھنے والے پولیس افسر ہونے کے ساتھ بیک وقت کئی خوبیوں کے مالک ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ کبھی وہ رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں شہر کے مختلف مقامات پر اپنی جیب سے مخلوق خدا میں افطاری تقسیم کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی عام دنوں میں لنگر بانٹتے دکھائی دیتے ہیں ۔

قارئین کرام !اس خوبصورت تقریب کے مہمانان گرامی بھی خوبصورت لوگ تھے جن میں قاسم علی شاہ ،پروفیسر توفیق بٹ ، عباس تابش اور طارق بلوچ صحرائی تھے۔ تقریب کے دولہا صاحب کتاب کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک تھے ۔ ہر ایکق صاحب فکر نے’’ قطرہ قطرہ زندگی ‘‘ کے بارے فکر انگیز اور شاندار گفتگو فر مائی ۔ قاسم علی شاہ کا کہنا تھا کہ جیسے کسی جگہ سے مریض کو شفا حاصل ہو جاتی ہے ویسے ہی لیاقت علی ملک کی تحریروں میں شفا پائی جاتی ہے ۔ قطرہ قطرہ زندگی کا کمال یہ ہے کہ آپ اسے جہاں مرضی سے پڑھنا شروع کریں ، وہاں سے لطف آنا شروع ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے کلام کو، ان کے لکھے اوربولنے کوزندگی عطا فر مائے۔ پروفیسر توفیق بٹ صاحب نے گفتگو فر ماتے ہوئے کہا کہ لیاقت علی ملک ،خلق خدا کو ریلیف بھی دے رہے ہیں اور کتابیں بھی لکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا قرض اپنی زندگی میں اتار دیا ہے ۔ عباس تابش صاحب کا فر مانا تھا کہ لیاقت علی ملک نثر نہ لکھتے تو مر گئے ہوتے ، انہوں نے نثر کو شاعری بنا دیا ۔ ان کی نثر کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ بنائی گئی نہیں ہے بلکہ یہ عطا ہے ۔ طارق بلوچ صحرائی فر ماتے ہیں ہم نے نفرت میں زندگی گذاری ہے اور ہم دہشت گردی کی آگ میں جلے ہیں ۔ ہمارے بچوں نے اتنے پھول نہیں دیکھے جتنے جنازے دیکھے ہیں ۔ لہذا محبتوں کو تقسیم کرنے کے لئے ادب کو پروموٹ کریں اور لیاقت علی ملک کی تحریریں اس قابل ہیں کہ ان کے ذریعے ممکنہ کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

صاحب کتاب کی گفتگونے اپنی تحریروں کی طرح یہاں بیٹھے ہر شخص کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ آدھی رات کو سنائی دینے والی سسکی انسان کو انسان سے بھلا نہ ملائے ، لیکن رحمٰن سے ضرور ملا دیتی ہے ۔ یہ وہ میرا پہلا فقرہ تھا جسے پڑھ کر آپا بانو قدسیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور کہا کہ جو کچھ ہے لکھ ڈالو، میں نے کبھی بھی آج تک سوچ کے نہیں لکھادل میں جو آیا قرطاس ابیض پر منتقل ہو گیا۔محبت جہاں سے ملے ، اسے گلے سے لگالیں۔ زندگی میں خوشیاں ضرب کرنی چاہیں اور دکھوں کو تقسیم کر دینا چاہئے۔ قطرہ قطرہ زندگی میں کچھ نیا نہیں ، کہیں نفس امارہ کی باتیں ہیں اور کہیں نفس مطمئنہ کی ، کہیں کہیں نفس لوامہ اور ملحمہ آجائے گا اور کہیں دور سے نفس سوی سر اٹھاتا نظر آئے گا ۔ پتہ نہیں یہ حقیقت ہے ۔ فسانہ ہے۔ داستان ہے ۔ قصہ ہے ۔ یاکوئی نا مکمل بے ترتیب کہانی ۔ بس طبیعت کی روانی میں جو کچھ سمجھ آیا لکھا اور جو اس نے لکھوایا وہ لکھ ڈالا ۔ حرف ملامت اور حرف ندامت کے بعد اب حرف سلامت حاضر ہے ۔

قارئین محترم !’’ قطرہ قطرہ زندگی ‘‘ کا اسلوب بھی آسمانی ہے ۔ شکر اور کفر دونوں کے رستے کا بتلاتے ہوئے ، پہچان کراتے ہوئے اور پھر انجام بتاتے ہوئے ۔ لیاقت علی ملک کے اندر بھی بیک وقت صوفی، درویش اور عارف کی روح ہے جو انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ یوں یہ اپنے اندر کا خزانہ باہر نکالتے ہوئے ہم تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر ہم جیسوں کو سوال کا جواب تلاش کر نے کی تگ ودو میں لگا کر بے چین کر جاتے ہیں ۔ لیکن جب سوال کا جواب مل جاتا ہے تو پھر انسان کے ہاتھوں وہ متاع قیمتی آجاتی ہے جس کا تقاضا ہم سے ہمارا پالنہار کرتا ہے ۔ بلا شبہ کیپٹن لیاقت علی ملک کی کتاب’’ قطرہ قطرہ زندگی ‘‘ کو پڑھنے کے بعد انسان کسی اور دنیا کا مسا فر بن جاتا ہے ۔


ای پیپر