فالتو کی باتیں۔۔
25 May 2019 2019-05-25

دوستو، ہوتا کچھ ہے ، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ جن باتوں سے آپ کو دلچسپی نہیں ہوتی اور سامنے والا پھر بھی اپنی باتیں سناتا چلا جائے تو آپ کا پارہ کسی لمحے اتنا ہائی ہوجاتا ہے کہ آپ غصے میں آجاتے ہیں اور اسے ڈانٹ کرچپ بھی کرادیتے ہیں ساتھ ہی حکم لگاتے ہیں کہ۔۔ فالتو کی باتیں بند کرو اپنی۔۔ چلیں پھر آج سنڈے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ سے کچھ ایسی باتیں کرتے ہیں۔۔ لیکن ہمارا دعویٰ ہے کہ آپ ان باتوں میں لازمی دلچسپی لیں گے اور بالکل بھی ڈانٹ کریہ نہیں کہیں گے کہ۔۔ فالتو کی باتیں بندکرو اپنی۔۔

لوجی سب سے پہلے ایک مزے دار واقعہ سن لیجئے۔۔ایک مراثی ٹرین کے ڈبے میں چڑھا،اپنی سیٹ پرپہنچا تو دیکھا کہ پورے ڈبے میں کوئی بارات ہے اور بارات بھی وہیں جارہی ہے جہاں مراثی کا سفر تمام ہونا تھا۔۔ مراثی خوش ہوا کہ چلو پورے راستے دل لگارہے گا۔۔جب ٹرین چلی تو بارات والوں نے ایک دیگ کھولی اور سب کو چاول تقسیم کئے لیکن مراثی کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔۔وہ صبر کر گیا کہ شاید دیکھا نہیں ہوگا۔۔ابھی چاول ختم بھی نہیں ہوئے تھے تو بارات والوں نے دوسری دیگ کھولی اور سب کو چکن روسٹ تقسیم کیا۔۔اور مراثی کو پھر سے کچھ نہیں دیا۔اسے غصہ تو بہت آیا کہ اگر اس کو بھی کچھ دے دیتے تو کون سی قیامت آ جانی تھی۔۔لیکن برداشت کر گیا۔بارات والوں نے اب ایک دیگ اور کھولی اور سب کو کھیر دی اور مراثی کو پھر کچھ نہیں دیا۔۔اب اس سے رہا نہ گیا کھڑا ہو کر زور زور سے بددعائیں دینے لگا کہ ۔۔۔اللہ کرے اس ڈبے پر بجلی گرے اور سارے مر جائیں ۔۔ بارات میں سے ایک بندہ پوچھنے لگا کہ اگر سارے مریں گے تو تم کیسے بچو گے۔؟مراثی نے برجستہ کہا۔۔جیویں چاولاں توں، مرغی توں تے کھیر توں بچ گیاں۔۔۔ٹرین سے ہی یاد آیا۔۔ایک بار ہم لاہور سے کراچی جارہے تھے۔۔ہمارے ساتھ والا مسافر کہنے لگا۔۔یہ واٹس ایپ انسان کو بہت آگے لے جائے گا۔۔ہم نے حیرت سے پوچھا ، وہ کیسے؟؟ وہ مسافر کہنے لگا۔۔اب مجھے ہی دیکھ لیجئے، دو اسٹیشن پیچھے اترنا تھا۔واٹس ایپ کے چکر میں آگے نکل آیا۔۔

ایک بادشاہ کی سخاوت کے چرچے دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔۔ایک دن ایک شخص بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے بادشاہ میں آپ کی سخاوت اور دریا دلی کے چرچے سن کر بہت دور سے دربار میں آیا ہوں کہ آپ کی سخاوت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔۔بادشاہ خوش ہوا اور بولا کہ اے پردیسی مانگ کیا مانگتا ہے۔۔اس شخص نے عرض کی کہ بادشاہ سلامت میرا یہ کشکول بھر دیں۔۔بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار۔قیمتی ہیروں کی انگوٹھیاں کشکول میں ڈال دیں لیکن وہ نہ بھر سکا۔بادشاہ نے اشرفیوں کا تھیلا منگوایا۔مگر کشکول پھر بھی نہ بھرا۔۔اب بادشاہ کی عزت اور وقار کا تقاضا تھا کہ وہ ہر صورت کشکول کو بھر دے۔۔بادشاہ نے اپنا سارا خزانہ کشکول میں ڈلوا دیا مگر وہ کشکول خالی ہی رہا۔۔آخر سوالی نے اپنا کشکول جھولے میں ڈالا اور دربار سے رخصت ہونے لگا۔۔بادشاہ نے شرمندگی سے اس شخص سے پوچھا کہ آخر یہ کشکول کس’’ مہان ہستی ‘‘کا ہے۔۔اس شخص نے جواب دیا۔۔بادشاہ سلامت،میں پاکستان سے آیا ہوں اور یہ کشکول’’ تبدیلی سرکار‘‘ کا ہے۔۔۔پچھلے دنوں سمندر سے تیل نکلنے یا نہ نکلنے کا بہت شور رہا۔۔ سوشل میڈیا سے لے کر برقی اور ورقی میڈیا تک سب پر تیل ہی ڈسکس ہورہا تھا۔۔ باباجی نے یہ ساری صورتحال بغور دیکھی پھر فرمانے لگے۔۔ سمندر میں تیل تو موجود تھا لیکن مچھلیوں نے سر پر لگا کر ختم کرڈالا۔۔ایک دل جلے پٹواری نے سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ ڈالی کہ۔۔۔سمندر سے تیل نہ ملنے کے بعد یوتھیوں کا ساحل سمندر پر دھرنا۔۔گوسمندرگو کے نعرے۔۔سمندر کی نیب میں پیشی، نوٹس جاری کردیا گیا۔۔بحیرہ عرب کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے پر غور شروع ہوگیا۔۔کپتان نے سمندر کو کسی بھی قسم کا این آر او دینے سے انکار کردیا۔۔باباجی نے کل ہی ہم سے کہا تھا کہ۔۔پرانے زمانے میں لوگ ڈی چوک پر ناچ کر مہنگائی کم کروا لیا کرتے تھے ،لیکن اب نہ وہ خوراکیں رہی نہ وہ جذبے۔۔۔

باباجی کا رنگ قدرتی طور پر کچھ دبا،دبا سا ہے، لوگ انہیں ’’چٹا بلیک‘‘ کہتے ہیں لیکن باباجی کا بقلم خود فرمانا ہے کہ وہ ’’ڈارک براؤن‘‘ ہیں۔۔ ایک دن محفل سجی تھی، وہ اپنی حسین یادوں سے میں سے ایک یاد کھرچ، کھرچ کر سننے والوں کی خدمت میں پیش کررہے تھے۔۔بتانے لگے۔۔ایک روز میں نے قدرے پریشان ہوکر اپنی زوجہ ماجدہ سے کہا۔۔اے زوجہ ماجدہ دیکھوتوسخت دھوپ کی وجہ سے میرا رنگ کتنا کالاہوگیا ہے۔۔ جس پرموصوفہ نے ترنت جواب دیا۔۔ تسی پہلے کیہڑے کوئی کشمیری بٹ سو۔۔۔ باباجی جب موڈ میں ہوتے ہیں تو پھر محفل میں ہر طرف قہقہے ہی بکھیر دیتے ہیں۔۔ ایک روز گانوں کا پوسٹ مارٹم کررہے تھے۔۔کہنے لگے۔۔وہ گانا سنا ہے۔۔لٹ الجھی سلجھا جارے بالم، میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے۔۔ دیکھوپہلے زمانے کی ہیروئین کتنی سست اور کاہل ہوتی تھیں۔۔اپنے ایک پرانے عشق کا قصہ چھیڑتے ہوئے باباجی نے بتایا کہ۔۔وہ میرے کالج کے زمانے کی دوست تھی ، بیس سال بعد ایک شاپنگ مال میں ملاقات ہوئی تو بتانے لگی کہ ۔۔میں نے ماسٹر زکرلیا تھا۔۔میں نے بھی ڈبڈباتی آنکھوں سے کہا۔۔تمہارے چلے جانے کے بعد میں نے بھی استانی کرلی تھی۔۔

چلیں اب رمضان المبارک کے حوالے سے کچھ باتیں بھی ہوجائیں تاکہ پڑھنے والوں کو کم سے کم یہ علم تو ہوسکے کہ یہ کالم تازہ تازہ لکھا گیا ہے۔۔رمضان المبارک کادوسرا عشرہ کل یعنی پیر کو ختم ہورہا ہے۔۔اب آپ کو ایسے لوگ بھی یہ کہتے نظر آئیں گے کہ دیکھو بیس روزے گزرجائے پتہ بھی نہیں چلا۔۔جو بے چارے سحری کرکے سوتے ہیں اور افطار کے سائرن کی آواز پر بستر سے نکلتے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست نے ایف بی آر کو مشورہ دیا ہے کہ ۔۔اگر کسی کو آج کل ایک کلو لیموں خریدتے ہوئے دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ وہی امیر ہے،پکڑ لیں اسے گُدی اور لگائیں اس پر ٹیکس۔۔باباجی نے کل ہمیں بڑا دردناک سے واٹس ایپ میسیج کیا، وہ لکھتے ہیں کہ۔۔تم سے افطاری کے تقاضے نہ نبھائے جاتے ۔۔ورنہ ہم کو بھی حسرت تھی کہ بلائے جاتے۔۔اگلا واٹس ایپ اچانک ہمارے پیارے دوست کا آگیا۔۔ وہ لکھ رہے تھے کہ ۔۔روزہ دار کے سامنے کھانا پینا گْناہ ہے تو کیا کنواروں کے سامنے بیگم لے کر گھومنا گناہ نہیں ؟ ۔۔کل دو مچھر آپس میں گفتگوکررہے تھے، ایک کہہ رہا تھا، آج کل جس بندے کا خون چوسو روح افزا کا ٹیسٹ ہی آتا ہے، دوسرے نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا، ٹھیک کہتے ہویار،مجھے تو شوگر ہی ہوگئی۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔تین لوگ جب آپ سے بات کر رہے ہوں تو ان کی بات مت روکیں ۔۔والدین, بچہ اور دکھی انسان کیونکہ ان کی زبان نہیں ان کا دل بولتا ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر