پنجاب کے اچھے بُرے پولیس افسران !
25 May 2019 2019-05-25

پنجاب میں روزانہ تُھوک کے حساب سے ہونے والے تبادلوں میں کچھ کمی واقع ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ہم خوامخواہ یہ تصور کرنے لگے ہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ شاید کسی اہل شخص کومقرر کردیا گیا ہے، جو کچھ اہم فیصلے اب خود بھی کرلیا کرے گا، ورنہ موجودہ ”وزیر اعلیٰ“کی حالت یہ ہے کوئی اہم اور حساس فیصلہ جو چند سیکنڈ میں ہونا چاہیے اس کے لیے بھی وہ کئی کئی روز اپنا واٹس ایپ چیک کرتے رہتے ہیں کہ وزیراعظم کی طرف سے اس کی کوئی منظوری آئی ہے یا نہیں؟۔ ان کے اس رویے سے مختلف شعبوں میں خرابیاں اس مقام تک پہنچ گئی ہیں جہاں سے واپسی اب شاید ناممکن ہوگی۔ گزشتہ آٹھ نو ماہ میں پنجاب میں اتنا گند ڈال دیا گیا ہے وزیراعظم عمران خان یا اس ملک کی اصل قوتوں کی مرضی سے کسی اور وزیراعلیٰ پنجاب بنا بھی دیا جائے اگلے چارساڑھے چار برس اس بے چارے کو پچھلے آٹھ نوماہ کا گند صاف کرنے میں ہی لگ جائیں گے ....جہاں تک پنجاب میں تھوک کے حساب سے ہونے والے تبادلے اب ”تُھوک“ کے حساب سے ہونے لگے ہیں تو یہ اچھی بات ہے ، کیونکہ روزانہ بیسیوں افسروں کو تبدیل کرنے سے وہ مثبت نتائج حاصل نہیں ہورہے تھے جس کی سرکار توقع کررہی تھی۔ البتہ جس تبادلے کی اشد ضرورت ہے وہ ابھی تک نہیں ہوا اور اس کی وجہ سے لاہور پولیس مکمل طورپر ایک ”جرائم گاہ“ بن چکی ہے۔ کچھ لوگوں کو یقین تھا کہ پچھلے دنوں تبادلوں کی جو لہر آئی اس میں یہ ”عذاب “ بھی بہہ جائے گا۔ مگر سی سی پی او لاہور کا ” کلہ“ فی الحال مضبوط ہے ۔کیونکہ وہ نون لیگ کی باقیات میں سے ہے جس سے جان چھڑوانا کوئی آسان کام نہیں۔ گو کہ ڈی آئی جی آپریشن لاہور کے طورپر موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے ایک بہت ہی اعلیٰ اور نفیس افسر اشفاق احمد خان کا انتخاب کیا ہے، مگر جب تک ایک نکمے، مردم بیزار اور ظالم مسلم لیگی سی سی پی او لاہور کو تبدیل نہیں کیا جائے گا لاہور پولیس کے معاملات میں ایسی ہی بے برکتی رہے گی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلاہے سرکار اس مسلم لیگی پولیس افسر سے اب جان چھڑوانا چاہتی ہے مگر فی الحال کوئی پولیس افسر لاہور میں بطور سی سی پی اولگنے کے لیے تیار ہی نہیں ہورہا ۔ اس کی ایک وجہ بلکہ میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ یقیناً یہی ہوگی بی اے ناصر عرف بشیرے ناصر نے اس سیٹ یا اس عہدے کو اتنا بے وقار کردیا ہے اب کوئی اچھا پولیس افسر اس پر بیٹھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہورہا، اس ضمن میں ایک انتہائی نفیس اور ماتحت پرور پولیس افسر آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار کا نام لیا جارہاتھا ، مگر وزیراعظم عمران خان یہ سمجھتے ہیں وہ بطور آئی جی اسلام آباد بالکل ٹھیک کام کررہے ہیں۔ یہ بات سوفی صد درست بھی ہے۔ وہ پنجاب میں فیلڈ میں کئی اہم عہدوں پر تعینات رہے، بڑے سے بڑے حساس اور پیچیدہ معاملات کو بڑی دانشمندی اور دانشوری سے سلجھانے کی جتنی اہلیت اور صلاحیت اُن میں ہے بہت کم پولیس افسروں میں ہے۔ اس سے قبل وہ آئی جی موٹرویز بھی رہے۔ سو ان کے لیے ویسے ہی مناسب نہیں دوباربطور آئی جی کام کرنے کے بعد اب بطور سی سی پی او لاہور تعینات ہو جائیں ، یہ بات یقیناً ان کے عہدے اور شخصیت کے شایان شان نہیں لیکن ان جیسا کوئی افسر ہی لاہورکو دوبارہ ایک بڑی جرائم گاہ سے امن کا گہوارہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پر المیہ یہ ہے گریڈ اکیس کا کوئی پولیس افسر اس قابل نہیں سمجھا جارہا کہ اسے سی سی پی او لاہور تعینات کرکے ایک ظالم اور گندے پولیس افسر سے لاہور کی جان چھڑائی جائے۔ البتہ یہ ضرور ہے جس کا جانا ٹھہر گیا صبح گیا یا شام گیا ، .... یہ شام بلکہ ”شام غریباں“ اب رات میں تبدیل ہوگئی ہے اور حکومت اور پنجاب پولیس کی ساکھ کو اس سے مسلسل نقصان ہورہا ہے۔ یہ تو نئے آئی جی پنجاب جناب عارف نواز کو کریڈٹ جاتا ہے اِس ظالم اور مردم بیزار سی سی پی او لاہور کر انہوں نے تھوڑا ”ہلایا جُلایا“ ہے، ورنہ کچھ روز پہلے تک اس کی حالت یہ تھی کچھ دیر کے لیے وہ دفتر آتا تھا اور ایک آدھا جاسوسی ناول پڑھ کر واپس چلے جاتا تھا، اب پچھلے دنوں وہ کچھ ممبران اسمبلی سے بھی مِلا ہے اور آئی جی پنجاب کی ہدایت یہ مجبوراً عمل کرتے ہوئے کبھی کبھارعام لوگوں اور ماتحتوں سے بھی مل لیتا ہے، حالانکہ اس کی اہلیت اور صحت دونوں اسے اس ”کارِخیر“ کی اجازت نہیں دیتیں۔ سناہے اگلے روز اپنے دفتر میں دوعام لوگوں کو ملنے کے فوراً بعد اس کی حالت اتنی غیر ہوگئی یاوہ اتنی نقاہت محسوس کرنے

لگا کہ اسے باقاعدہ ”ڈرپ“ لگوانا پڑی، .... بہرحال ایک انتہائی اہل اور سنجیدہ شخصیت کے حامل آئی جی پنجاب جناب عارف نواز عرف بندہ نواز نے آتے ہی فیلڈ کے لیے کچھ اچھے پولیس افسروں کو تلاش کرنا شروع کردیا ہے، بلکہ چند اچھی تعیناتیاں اور تبدیلیاں، انہوں نے کی بھی ہیں۔ جس میں ایک تبدیلی ڈی پی او پاکپتن محترمہ ”بیماریہ محمود“ کی ہے، ایسی ظالم، نکمی اور دیگر حوالوں سے مشکوک کردار کی حامل خواتین پولیس افسروں کی فائل پر باقاعدہ نوٹ لکھ دیا جاناچاہیے یا ان کی اے سی آر میں لکھ دینا چاہیے”یہ کسی فیلڈ عہدے کے قابل نہیں ہیں“۔ ایک اور تقرری ایسی ہوئی ہے جو میرے خیال میں ایک انتہائی ماتحت پرورآئی جی پنجاب کیپٹن عارف نواز کو بادل نخواستہ ہی کرنا پڑی ہوگی۔ یہ کوئی رانا شعیب نامی پولیس افسر ہے جو اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کا سکیورٹی افسر تھا، اور ادھر اُدھرسے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہی اُس کی ”واحد اہلیت“ تھی جس کی بنیاد پر اسے اُس کی مرضی کے ضلع خوشاب میں بطور ڈی پی او تعینات کیا گیا، فطرت اور اہلیت کے اعتبار سے اسے ہم بی اے ناصر کا ”بغل بچہ“ بھی کہہ سکتے ہیں، سنا ہے یہ مردم بیزار پولیس افسر بھی بڑے فخر سے جابجا دعوے کرتا پھرتا ہے کہ وہ براہ راست وزیراعظم عمران خان کے حکم پر اپنی مرضی یا پسند کے ضلع میں تعینات ہوا ہے، فرض کرلیں یہ درست ہے تو بجائے اس کے اپنے اس دعوے کی لاج رکھتے ہوئے یاوزیراعظم عمران خان کی عزت ہی کا کچھ خیال کرتے ہوئے وہ عام لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، عام اطلاعات یہی آرہی ہیں اپنے دفتر کے دروازے عام لوگوں کے لیے اس نے مکمل طورپر بند کردیئے ہیں، حالانکہ رمضان میں دروازے بند رکھتے ہوئے شرم آنی چاہیے، ممکن ہے وہ روزے وغیرہ نہ رکھتا ہو، کیونکہ جوشخص لوگوں کے دل نہیں رکھتا وہ روزے رکھے نہ رکھے کیافرق پڑتا ہے ؟۔ وزیراعظم عمران خان سے گزارش ہے اگر یہ درست ہے کہ وہ ان کی براہ راست سفارش پر ڈی پی او تعینات ہوا ہے تو ایسے افسروں کی سفارش کرکے اپنے گناہوں میں مزید اضافہ نہ کریں۔ اس سے ان کی حکومت اور حکمرانی بھی مزید بدنام ہوتی ہے۔ میں اس ضمن میں ذاتی طورپر بھی ان سے گزارش کروں گا، کیونکہ خوشاب سے اب پولیس کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں نہیں آرہیں۔ آئی جی صاحب کو ایسے افسروں پر خصوصی نظر رکھنی پڑے گی ورنہ ہم سمجھیں گے آئی جی پنجاب کی سیٹ خالی پڑی ہے !!


ای پیپر