Photo Credit Social Media

شعیب اختر کو پاکستانی فاسٹ با ئو لرز کی فٹنس پر تشویش
25 مئی 2018 (22:49) 2018-05-25

کراچی:سابق قومی فاسٹ بالر شعیب اختر نے پاکستانی پیسرز کی فٹنس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین شرٹس پلیئرز بہت زیادہ ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیل رہے ہیں جبکہ ان میں سے ہی کچھ پیسرز کو پچاس اوورز کی کرکٹ بھی کھیلنا پڑتی ہے اور کام کے اس بوجھ کی وجہ سے ان کی فٹنس متاثر ہو رہی ہے۔ شعیب اختر کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ ایک دن کا نہیں بلکہ پانچ روز کا کھیل ہے جہاں ایک دن میں تین سے چارسپیل کرنا ہوتے ہیں لہذا طویل فارمیٹ کیلئے بہترین فٹنس درکار ہوتی ہے جو موجودہ قومی فاسٹ بالرز میں دکھائی نہیں دیتی اور اکثر انجریز کے خوف سے بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایک دن میں کسی بھی پیسر کی فٹنس کا اندازہ نہیں ہوتا لیکن پانچ روزہ مقابلے میں ہر ایک کی خامیاں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں کیونکہ آئرلینڈ کیخلاف ٹیسٹ میچ کے دوران محمد عامر لنگڑاتے نظر آئے جبکہ حسن علی بھی لارڈزٹیسٹ سے قبل سو فیصد فٹ نہیں تھے اور یہ کافی خوش آئند بات ہے کہ انگلینڈ کیخلاف پاکستانی پیس اٹیک کارگر ثابت ہوا لیکن سچائی یہی ہے کہ پاکستان ٹیم کیلئے یہ ایک کڑا وقت ہے اور امید ہی کی جا سکتی ہے کہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔

راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا تھا کہ حالیہ دورہ پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے بھی ایک امتحان ثابت ہوگا کیونکہ اظہرعلی اور اسد شفیق کے علاوہ کوئی اور بیٹسمین نظر نہیں آتا ہے جو ان کنڈیشنز میں انگلش بالرز کا جم کر مقابلہ کر سکے لیکن امید ہے کہ پاکستانی ٹیم میزبانوں کو سخت فائٹ دے گی۔یاد رہے کہ پاکستانی فاسٹ بالر عمومی طور پر ایک ٹیسٹ سیریز بھی مکمل فٹنس کے ساتھ نہیں کھیل پاتے جس کی بڑ ی وجہ کھلاڑیوں کا مصروف انٹر نیشنل اور ڈومیسٹک شیڈول ہے۔


ای پیپر