کیا قومی اداروں کی مخالفت ہی جمہوریت ہے؟

25 مئی 2018

حافظ شفیق الرحمن

یہ دنیا ایک ایسا متنوع باغ اور بوقلموں گلشن ہے جہاں خیاباں خیاباں، روش روش، شجر شجر، شاخ شاخ اور ڈال ڈال مختلف پھول کھلے ہیں۔ ہر پھول کارنگ اور خوشبو دوسرے سے مختلف ہے۔ مقام حیرت ہے کہ ایک ہی پانی ایک ہی مٹی ایک ہی ہوا اور ایک ہی پھول کے وصال و امتزاج سے رنگ رنگ پھول اور پھل جنم لیتے ہیں۔ استاد ابراہیم ذوق کے ایک شعر کے بارے خطیب العصر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ وہ استاد کی مغفرت اور بخشش کا ضامن ہے۔ شعر ملاحظہ کیجئے۔
گل ہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن
ذوق اس جہاں کو زیب ہے اختلاف ہے
اختلافِ فکر و نظر ہو یا اختلافِ رنگ و نسل یہ اولاد آدم کی انفرادیت کے مظہر ہیں۔ دنیا میں کئی براعظم پائے جاتے ہیں ہر برلاعظم میں درجنوں ممالک ہیں ہر ملک میں بیسیوں مقتدر طبقات ہیں۔ ہر مقتدر طبقے کے اپنے اپنے رجحانات، نظریات، تصورات، تعصبات، خیالات، محسوسات اورترجیحات ہیں۔ ان کے پیش نظر وہ اپنے اپنے ممالک کو ایک خاص زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ زاویہ نظر بدل جائے تو منظر بدل جایا کرتا ہے۔ شاعر جسے محراب کہتا ہے عام آدمی اسے ابرو کہتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف مقتدر طبقات اس زاویہ نظر کی روشنی میں اپنے اپنے ممالک کو ایک خاص شکل اور روپ میں دیکھتے ہیں۔ وطن سے محبت کرنے والے مقتدر طبقات کے نزدیک ان کا ملک ایک عمارت کی طرح ہوتا ہے اور اس عمارت کی تعمیر، تزئین اور تحفظ کے لئے ہمہ وقت ایک معمار کی طرح سرگرم عمل رہتے ہیں۔ بعض ممالک کے مقتدر طبقات اپنی جنم بھومی کو ایک تصویر تصور کرتے ہیں۔ ایک ماہر اور مشاق مصور کی طرح وہ اس تصویر کے خد و خال، زلف و عارض، نین نقش اور رنگ و روپ کو سنوارنے، نکھارنے ، ابھارنے اور اجالنے کے لیے اپنے تخیلات و تصورات کی رعنائیاں اور جذبات و محسوسات کی زیبائیاں مختص کئے ہوتے ہیں۔یہ مقتدر طبقات جو اپنے ملک کو ایک عمارت اور تصویر کے روپ میں دیکھتے ہیں یقیناً محب وطن ہوتے ہیں۔ حب الوطنی ان کی شریانوں میں لہو، سینے میں دھڑکن، ہاتھوں میں ولولہ کار، ذہنوں میں رعنائی افکار اور پاؤں میں جرات رفتار بن کر تعمیر وطن اور تزئین وطن کی نقش گری اور منصوبہ بندی میں مگن رہتی ہے۔ اس کے برعکس وہ سیاسی حکمران جو محب وطن نہیں ہوتے اپنے ممالک کے وسائل و ذرائع کو شیر خوار یتیم کا مال سمجھ کر ڈکارنے اور ہڑپ کرنے کی پلاننگ میں ہلکان ہوتے رہتے ہیں ۔اس قسم کے مقتدر طبقات شمشان گھاٹوں پر منڈلانے والی منحوس و مکروہ گدھوں کی مانند ہوتے ہیں۔ یہ مردار خور سیاسی حکمران قومی سرمایہ کو بے بسی کے صحرا میں پڑی لاوارث نعش تصور کر کے اسے بھنبھوڑنے اورنوچنے ہی کو زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔بدقسمتی سے وطن عزیز کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے مقتدر سیاسی طبقات گرگسی مزاج و سرشت کے حامل ہیں۔70سالہ تاریخ کا ایک ایک ورق گواہ ہے کہ ان ڈریکولوں کو جب بھی موقع ملا انہوں نے اپنے ذوقِ خوں آشامی کی تسکین کے لیے اپنے خونخوار نکیلے دانت وطن عزیز کی شہ رگ پرنکوس دینے میں ایک لمحہ کا توقف بھی گوار انہ کیا ۔ وطن عزیز کے سیاسی حکمران طبقات کا ’’ماٹو‘‘ ہر دور میں ’’کھاؤ پیو اور موج اڑاؤ‘‘ رہا ہے۔ یہ جنم جنم کے بھوکے اور قرن قرن کے پیاسے وطن عزیز کو طرح طرح کے ماکولات و مشروبات سے سجا ایک وسیع و عریض دسترخوان تصور کر تے رہے۔ انہوں نے اس دسترخوان پر ٹوٹ پڑنے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ان خوش خوراکوں اور کھابہ خوروں کو جب بھی ایوانِ اقتدار میں داخل ہونے کا موقع ملا مار دھاڑ، لوٹ کھسوٹ اور سلب و نہب کو انہوں نے اپنا شیوہ و شعار بنایا۔ وہ اس ملک کے وسائل و ذرائع اور سرمایہ جات و اثاثہ جات کو حلوائی کی دکان سمجھ کر اپنے ’’اب و جد کی فاتحہ‘‘ پڑھتے رہے۔
آیئے ان کے ذوقِ خوش خوراکی کی چند حکایات ایک بالغ نظر، نابغہ اور عبقری جہاں گشت سیاح اور بے مثال ادیب جناب مختار مسعود کی زبانی سنتے ہیں۔ ’’ایک متمول دوست نے کھانے کے لیے بلایا۔ کھانا چنا گیا۔ اس نے کہا پلاؤ کے سلسلہ میں آپ کی خصوصی توجہ چاہتا ہوں۔ بتایئے! کیسا ہے؟ میں نے پلاؤ کھانے کے لیے پرائم منسٹر ہاؤس کے ماہر باورچی کو بلایا ہے۔ بھلا میں کونسا ایسا ذائقہ شناس تھا کہ کوئی ماہرانہ رائے دیتا۔ میزبان کا دل رکھنے کو کہہ دیا کہ واقعی بہت اچھا ہے۔ دعوت کے بعد اس باورچی کوداد و تحسین وصول کرنے کے لیے مہمانوں سے متعارف کرایا گیا۔ باتوں باتوں میں وزیراعظم ہاؤس کے کچن کا ذکر آیا اس نے کہا چار ہیڈ کک ہیں۔ میں ان میں سے ایک ہوں ہم سب کو اپنی اپنی تخصیص ہے۔ میں م مغلئی کھانوں کا ماہر ہوں۔ ہمارے ساتھ کچن میں 32افراد کا عملہ ہے، اس کے علاوہ چار ڈاکٹر ہیں۔24 گھنٹے کوئی نہ کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر رہتا ہے۔ نہ جانے صاحب رات کے کونسے پہر کھانے کے لیے کچھ مانگ لیں۔ ڈاکٹر پہلے چکھتا ہے پھر کھانا صاحب کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ صاحب جن برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں انہیں اچھی طرح دھونے اور جراثیم سے پاک کرنے کے بعد سیلوفین کی مہربند لفافوں میں رکھا جاتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ریکارڈ کے مطابق ہمارے ایک لاکھ جنگی قیدیوں کو وطن واپس آئے ہوئے چار چھ ماہ سے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔۔۔وقت دیکھتے ہی دیکھتے کتنا بدل گیا ہے۔ جوناخوب تھا وہ خوب ٹھہرا، خوب متروک ہوگیا۔ احتیاط اور دور اندیشی کو دیس نکالا ملا، بصیرت اور دردمندی نے ہجرت کرنے میں عافیت سمجھی۔ رشوت نے ہنر کا درجہ حاصل کرلیا، ہنر وروں میں بڑے بڑوں کے نام آتے ہیں۔ اب ایسے زمانے میں کون کس کو یاد دلائے کہ کبھی وزیراعظم کے یہاں صرف ایک سرکاری باورچی ہوتا تھا اور خاتون اول مہمانوں کے لیے خود روٹیاں پکاتی تھیں۔ آج کل ان دو بڑے گھروں میں جو اسلام آباد میں پہاڑی پر بنے ہوئے ہیں کم و بیش چار سو خدمتگار ان کی ناز برداری میں لگے ہوئے ہیں، جو اپنے آپ کو ملک و قوم اور عوام کا خادم کہتے ہیں۔۔۔ ہمارے وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہنری کسنجر کو کھانے پر بلایا ان کی خواہش تھی کہ فہرست خوراک میں کم از کم ایک لاجواب اور عجیب و غریب کھانا شامل ہوناچاہئے۔ ایک ایسی ڈش جو نادر، طرفہ، کمیاب، بیگانہ اور لذیذ ہو۔ مہمان بھی کیا یاد کرے کس میزبان سے پالا پڑا تھا۔ بازار سے پتہ چلا کہ مرغ زریں مل سکتا ہے لیکن بہت مہنگا، میزبان نے اسے قابل التفات نہ سمجھا اور فیصلہ صادر کیا کہ مینو میں بھنا ہوا کالاتیتر شامل کیا جائے۔ پاکستان سے کالے تیتر منگانے کے لیے حکم نامہ جاری ہوا۔ پھر یہ سوال اٹھا کہ اگر تیتر پاکستان سے آ رہے ہیں تو کیوں نہ پکانے والا بھی وہاں سے منگایا جائے۔ اس سوال کا جواب وہی تھا جو ہونا چاہئے تھا۔ کالے تیتر اور مہارتِ خصوصی کا باورچی دونوں ہوائی جہاز سے سات سمندر پار اس شہر میں پہنچے جو دنیا کے سب سے طاقتور، ترقی یافتہ اور دو لت مند ملک کا دارالسلطنت ہے۔ ایک ایسا ملک جس کے باشندے طاقت، ترقی اور دولت کے باوجود کمال لاپروائی سے جین اور جوگر پہنتے اور بڑے شوق سے فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں۔ پاکستانی سفیر کے گھر دعوت ہوئی۔ عینی گواہ کا بیان ہے کہ ہنری کسنجر نے اس بات پر قتعاط کوئی توجہ نہ دی کہ فہرست خوراک میں کیا رقم ہے۔ درسترخوان پر سلسلہ وار کون سی ڈش آئی او کون سی سمیٹی گئی۔ کالے تیتر کی باری ترتیب کے مطابق آئی اور گزر گئی۔ مہمان خصوصی کی بے توجہی اور بے تعلقی میں کوئی فرق نہ آیا اس کی ساری توجہ گفتگو پر رہی وہ اس دعوے کی صداقت کا اندازہ لگانا چاہتا تھا’ اگر ضرورت پڑی تو اہل پاکستان گھاس کھا کر گزارا کر لیں گے مگر ایٹم بم بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے‘۔
صاحبو ! یہ تو ذکر تھا ذوالقار علی بھٹو کے دور کا۔۔۔ 1985ء کے بعد نازنینِ اقتدار کی زلفوں سے کھیلنے والے رنگیلا شاہی مزاج کے حاملسیاسی حکمرانوں نے قومی خزانے کو اس بیدردی سے لوٹا جس طرح ہلاکو خان نے بغداد کو اور نادر شاہ درانی نے دہلی کو تاخت و تاراج کیا تھا۔ وہ قومی خزانے کو مال غنیمت سمجھتے رہے۔ ملک اور اس کے عوام غریب ترین اور اس کے جمہوری اور منتخب حکمران امیر ترین ہوتے رہے ۔ میاں محمد نواز شریف اس ضمن میں آصف زرداری کی طرح وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہیں۔ اب وہ اقتدار میں نہیں رہے تو انہیں محسوس ہو رہا ہے جیسے انہیں قومی خزانے کے شاہی دسترخوان سے زبردستی اُٹھا دیا گیا ہے۔ سابق نا اہل وزیراعظم میاں نوا زشریف نے جب مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تو انہوں نے ووٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کا بول بالا کرنے، عام آدمی کا معیارِ زندگی بلند کرنے، پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے ، کشکول توڑنے، وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنے، بدعنوانی کی بساط لپیٹنے، قانون کی حکمرانی قائم کرنے، عدلیہ کے احترام کو بحال کرنے اور قومی لٹیروں سے لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کو اپنا نصب العین بنائیں گے۔ ٹی وی کی نقرئی سکرین پر جب بھی ڈلکیں مارتا ہوا ان کا طلائی چہرہ جگمگاتا تو فاقوں کے مارے زرد رُوعوام کی جمالیاتی حسوں کو کیونکر تسکین پہنچتی۔ ان کے عہد اقتدار میں عام آدمی کا کاروبار چوپٹ ہو گیا لیکن نا اہل وزیراعظم اور ان کے خاندان اور حواریوں کی تجوریوں کا حجم بڑھتا رہا۔ سیکڑوں کارخانوں کے پہیوں کی گردش جام ہو گئی لیکن ان کی صنعتی ایمپائر لمحہ بہ لمحہ وسعت پذیر ہوتی رہی۔ زر مبادلہ کے ذخائر کا کچومر نکل گیا لیکن 1985ء سے جولائی 1998ء تک اُن کے آنگن میں زر و سیم کی ایسی بارش ہوتی رہی کہ ان کے بیٹے کم سنی ہی لندن کے بزنس ٹائیکونز اور آف شور کمپنیوں کے مالک بن گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ہاتھ کونسا قارون کا خزانہ لگا ۔ کیا نواز شریف کا قلمی محاسبہ ، کالمی محاکمہ اور صحافتی احتساب محض اس لیے موقوف کر دیا جائے کہ موصوف اپنی ناپسندیدہ اور قبیح ریاست مخالف حرکات و سکنات کی وجہ سے ایوان اقتدار سے نکال باہر کیے گئے ہیں اور ان دنوں تسبیحِ روز و شب کے دانے شمار کرنے میں مصروف ہیں۔

مزیدخبریں