خدا کی مرضی اور انسان
25 مئی 2018 2018-05-25

یہ 11جنوری 1993ء کی ایک خاموش صبح تھی ، ایک طرف شدید سردی تھی تو دوسری جانب آتش دان میں لکڑی سے شعلے نکل رہے تھے جو ٹھنڈے ماحول کو گرمانے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے ، آتش دان کے قریب ایک بستر تھا جس کے سامنے بالکونی تھی اور اس کے ساتھ ایک لابی۔۔ بستر اور اسپتال کا یہ کمرہ خصوصی نوعیت کاتھا اورنیویارک اسپتال کی اس منزل پر واقع ایڈز(AIDS)سے متاثرہ مریضوں کیلئے مختص وارڈ کے اس کمرے میں ایک اننچاس سالہ افریقی سیاہ فام بستر مرگ پر لیٹے اپنی گزری زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا ، یادوں کے جھروکے کھڑکی سے آنیوالی ٹھندی ہوا کے ساتھ ماحول کو اور بھی رنجیدہ کر رہے تھے ۔۔ اتنے میں دروازے پر آہٹ ہوئی اور ایک اُدھیڑ عمر نرس ہاتھ میں ڈاک کے کچھ لفافے تھامے سیاہ فام مریض کے پاس آئی اور لفافے اس کے ہاتھ میں تھمانے کے بعد لابی سے ہوتے ہوئے دوسری جانب چلی گئی ، مریض نے ایک نظر ان لفافوں پر دوڑائی ، تھوڑا توقف کیا اور ان میں سے ایک لفافے کوکھولنے کی جسارت کرڈالی ، لفافے میں سے ایک خط نکلا اور خط میں کچھ ایسے الفاظ تحریر تھے ۔۔
’آرتھر (Aurthor)۔۔تم اسپتال میں بستر مرگ پر پڑے ہو اور ایک ایسی بیماری سے نبرد آزما ہو جس کے ہونے میں تمہارا کوئی دوش نہیں ، ہم نے سن رکھا ہے کہ مرنے والا خدا کے اور بھی قریب ہو جاتا ہے اور خدا ایسے شخص کی بہت سنتا ہے ۔۔ تم اپنے خدا سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ دنیا میں اربوں انسانوں کی آبادی میں اس نے ایڈز کی بیماری کے لئے تمہارا انتخاب ہی کیوں کیا ‘۔۔
مریض نے خط پڑھا ، کچھ لمحے ساکت بیٹھا رہا ، پھرایک ٹھنڈی آہ بھری اور اپنے بستر کے قریب رکھی میز پر موجود اپنی تصویر کو بغور دیکھنے لگا ۔۔ یہ اس سیاہ فام امریکی مریض کی جوانی کی تصویر تھی ۔۔ خواتین وحضرات !بستر مرگ پر زندگی کی آخری سانسیں لیتا یہ کوئی عام یا معمولی شخص نہیں تھا۔۔ اس شخص کاپورانام آرتھر رابرٹ ایش جونئیر(Aurthor Robert Ashe Jr.)تھا، آرتھروہ واحد افریقی امریکی ٹینس پلئیر تھاجس نے امریکی ٹینس میں کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کی تھی ۔ آرتھر رابرٹ ایش جونئیر10جولائی1943ء کو ورجینیا کے علاقے رچمنڈ (Richmond)میں آرتھر ایش سینئیر کے آنگن میں پیدا ہوا ،رچمنڈ میں سیاہ فاموں کے لئے بنائے گئے سب سے بڑے کھیلوں کے میدان کے قریب رہائش کی وجہ سے آرتھر کی توجہ ٹینس کی طرف جانے لگی ، محض سات سال کی عمر میں رچمنڈ کے اس وقت کے سب سے بہترین سیاہ فام ٹینس پلئیر ران چئیریٹی(Ron Charity) کی بطور انسٹرکٹر خدمات حاصل ہونے کی وجہ سے آرتھر کو ٹینس کے بہترین اسٹروکس کھیلنے کا موقع ملا ، اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ آرتھر کی کھیل میں مصروفیات بڑھتی گئیں ، اسکول میں سیاہ فام ٹینس کھلاڑی کی حیثیت سے متعدد فتوحات کے بعد آرتھر کی اگلی منزل قومی سطح پر کھیلنا تھا ۔۔ اپنی کامیابیوں کو مضبوط ہاتھوں میں دیکھنے کے لئے آرتھر کیلئے مضبوط سہاراڈھونڈنا ناگزیر تھا اور اسی سوچ کے تحت اس نے امریکی فوج میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ شمولیت اختیا کر لی ۔۔ ۔1963ٗ ء میںآرتھر U.S Davis Cup میں ٹیم کے لئے منتخب ہونے والا پہلا سیاہ فام بن گیا ، 1965ء میںآرتھر کا شمار امریکہ کے تیسرے بہترین ٹینس پلئیر کے طور پر ہونے لگا ۔۔ روز بروز بڑھتی مصروفیات کی وجہ سے آرتھر نے1969ء میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی پانے کے بعدامریکی فوج کو خیرباد کہہ دیا ۔۔ قصہ مختصر وقت گزرتا گیا اور آرتھر کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتا گیا ، آرتھرتاریخ میں وہ واحد سیاہ فام افریقی امریکی کھلاڑی ہے جسے مردوں کے ومبلڈن، یو ایس اوپن اور آسٹیریلوی اوپن سنگل ٹائٹل جیتنے کا اعزاز حاصل ہے ، اسے ہیری ہاپمین (Harry Hopman) کی جانب سے 1968ء میں دنیا کے نمبر ون (World No.1) ٹینس کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور بعد ازاں 1975ء میں ورلڈ ٹینس میگزین نے بھی آرتھر کو ورلڈ نمبر ون کا درجہ دیا ۔ آرتھر کی ان کامیابیوں کی وجہ سے اس کی شہرت کے ساتھ ساتھ مرتبے میں بھی اضافہ ہوا اوروہ جہاں جاتا لوگ دیوانہ واراس پر گرنے لگ جاتے ۔۔ شہرت بڑھتی گئی تو آرتھر کی صحت گرتی گئی ۔۔دل کا عارضہ خاندان میں موروثی ہونے کی وجہ سے آرتھرکوشدید پریشانی لاحق رہتی تھی اورشاید یہی پریشانی تھی جس کی وجہ سے جولائی 1979ء میں محض چھتیس سال کی عمر میں اسے پہلا ہارٹ اٹیک ہوا ،دل کے بائی پاس کے بعد آرتھر کی طبیعت سنبھل تو گئی لیکن تیز دوڑنے پر اسے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا ، اس لئے ڈاکٹرز سے دوبارہ مشورے کے بعد آرتھر کو ایک بار پھر سرجری کی اذیت سے گزرنا پڑا ۔۔ دوسری سرجری میں خون کے نمونوں کے ٹیسٹ کے دوران ڈاکٹرز کو اس وقت حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب انہیں معلوم ہوا کہ آرتھر اس وقت کے سب سے خطرناک مرض ایڈز یعنی ایچ آئی وی (HIV)میں مبتلا ہے ۔ ڈاکٹرز نے آرتھر کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ۔۔ آرتھر کو معلوم تھا کہ اس کے پاس وقت بہت کم ہے ۔۔ اس لئے اس نے ٹینس سے ریٹائیرمنٹ لے لی اور امریکی محکمہ صحت اور دیگر نجی اداروں کے ساتھ ایڈز سے آگہی اور بچاو کی تدابیر سے متعلق مہمات پر نکل کھڑا ہوا۔6 فروری 1993ء کو آرتھر لاکھوں مداحوں کو رنج و الم میں مبتلا کر تے ہوئے چل بسا ۔ قصہ مختصر بات وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے شروع کی تھی ۔۔ مرنے سے محض چند ہفتے قبل انچاس برس کے آرتھر نے ایک مداح کی دل چیر دینے والی تحریر کا جواب کچھ یوں دیا ۔۔
’ آپ مجھ سے پوچھتے ہو کہ میں اپنے خدا سے شکوہ کروں کہ ایڈز مجھے ہی کیوں ہوا اور صرف میں ہی کیوں ؟ کیا تمہیں پتہ ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی میں سے لگ بھگ پانچ کروڑ بچے کسی نہ کسی لیول پر ٹینس کھیلنے کا شوق رکھتے ہیں ، ان میں سے پچاس لاکھ بچے ٹینس کھیلنا سیکھتے ہیں ، کل پانچ لاکھ کے قریب پیشہ ورانہ طور پرکھیلنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں ، پچاس ہزار کھلاڑی کسی حد تک نام کمانے میں کامیاب ہوتے ہیں ، ان میں سے پانچ ہزار کھلاڑی کوئی نہ کوئی اعزاز پاتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں ، ان پانچ ہزار میں سے کل پچاس کھلاڑی گرتے پڑتے ومبلڈن تک پہنچتے ہیں ، ومبلڈن جو ٹینس کے کھلاڑیوں کا خواب ہوتا ہے ، چار خوش قسمت کھلاڑی اس کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور ان چار میں سے دو فائنل کھیلتے ہیں اور ان میں سے ایک وہ خوش قسمت ہوتا ہے جو اس بام عروج کو پہنچتا ہے ۔ تم جانتے ہو کہ میں وہ خوش قسمت ترین شخص ہوں جو اس منصب کو پہنچا جسے پانچ کروڑ لوگوں میں سے خدا نے چنا ۔ میں نے جب ومبلڈن فائنل جیت کر کپ ہاتھ میں تھا ما اور اسے چوما تھا تو اس وقت میں نے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ اے خدا ! صرف میں ہی کیوں ؟ تو اب کیسے یہ سوال کروں کہ اس بیماری کے لئے میں ہی کیوں ؟‘۔
خواتین وحضرات ! آج ہم میں سے اکثر خدا کے حضور یہ شکوہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ اے اللہ ، مال نہیں دیا تو میں ہی کیوں؟ اولاد نہیں دی تو میں ہی کیوں ؟ اچھی گاڑی نہیں دی تو میں ہی کیوں ؟ ، اچھا بنگلہ نہیں دیا تو میں ہی کیوں ؟ اچھا روزگار نہیں دیا تو میں ہی کیوں ؟ کوئی بیماری دی تو میں ہی کیوں ؟ غم کی پٹاری دی تو میں ہی کیوں ۔۔ غرض یہ میں ہی کیوں کا شکوہ نہ رکتا ہے نہ تھمتا ہے اور ہم شکوہ کرتے چلے جاتے ہیں ۔۔ یہ شکوہ ہم میں بحیثیت قوم بدرجہ اتم موجو د ہے تو ہمارے حکمران ہم سے الگ کیسے سوچ سکتے ہیں ،ہمارے سابق وزیر اعظم کو ہی دیکھ لیجئے ، جب وقت کا الٹا پہیہ چلا اور پانا ما کے ہنگامے نے عدالت کے ذریعے انہیں باہر کر دیا تو کہتے پھر رہے ہیں ، لوگو ! میں ہی کیوں ، مجھے کیوں نکالا ۔۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جس خدا نے اکیس کروڑ عوام میں سے ایک ہی شخص کو منتخب کر کے تین بار وزارت عظمی کے منصب پر بٹھایا تھا تب پوچھنا تھا کہ اے خدا میرے اندر ایسی کیاخوبیاں تھیں کہ تو نے تین بار وزیر اعظم بنا دیا ۔۔۔ اس وقت تو یہ سوال کرنے کی آپ میں جرات نہیں تھی تو اب کیوں نوحہ کناں ہیں ۔۔ بات صرف اخلاقیات کی ہے اور اخلاقیات میں اقوام مغرب ہم سے کہیں زیادہ آگے ہیں ورنہ بات بات پہ شکوہ کرنے والے صرف ۔۔انااللہ علی قل شئی قدیر ۔۔ یعنی بیشک اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتاہے ۔ ۔ کا مفہوم سمجھ لیں تو ان کے سارے گلے شکوے ناں دور ہو جائیں۔


ای پیپر