میاں محمد نواز شریف پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔۔۔!
25 مئی 2018 2018-05-25

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے پچھلے کچھ عرصے سے اپنے بیانات اور تقاریر میں ریاست کے دائمی اداروں بالخصوص ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے حکومتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے اورمخصوص مقاصدحاصل کرنے کے لیے درونِ خانہ دباؤ ڈالنے کے معاملات کو زیرِ بحث لانے اور کسی حد تک اُن کو تنقید کا نشانہ بنانے کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے لگتا ہے اب اُس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی آ رہی ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے بقول اُن کی وزارتِ عظمیٰ سے محرومی، تاحیات نااہلی اور نیب مقدمات میں ملوث کرنے کے اسباب و علل اور در پردہ وجوہات کے ڈانڈے بھی ریاست کے دائمی اداروں کی طرف سے اُن کی بعض پالیسیوں ، فیصلوں اور اقدامات سے اختلافات کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف اب کھل کر ان معاملات کو میڈیا اور عوامی اجتماعات میں زیرِ بحث لانے لگے ہیں۔ تقریباً دوہفتے قبل قومی معاصر’’ ڈان‘‘ کے نمائندہ سرل المیڈا کو ملتان میں انہوں نے جو انٹر ویو دیا اُسے بھی اسی ذیل میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ سرل المیڈا جو اکتوبر 2016 میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بارے میں متنازعہ خبر جسے بعد میں ڈان لیکس کا نام دیا گیا تھا شائع کرنے کی وجہ سے قومی سلامتی کے اداروں کے نزدیک ایک طرح سے ناپسندیدہ یا ناقبول میڈیا پرسن کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے کو انٹر ویو دیتے ہوئے میاں محمد نواز شریف نے نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے بارے میں ایسی بات کہی جو قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور شخصیات کے نزدیک ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے قومی حلقوں کے نزدیک بھی قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے منافی تھی کہ اس کی وجہ سے ہمارے مخالفین بالخصوص ہمارے ازلی اور ابدی دشمن بھارت کو ایک بار پھر پاکستان کودہشت گردی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والاملک ثابت کرنے کے لیے منفی پراپیگنڈے کرنے کاموقع ملا۔ اسی بنا پر گزشتہ ہفتے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جہاں میاں محمد نواز شریف کے بیان (سرل المیڈا کو دئیے گئے انٹر ویو ) کو گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا گیا وہاں میاں صاحب کے اس انٹرویو پر اُن کی جماعت مسلم لیگ ن کے اندر بھی خاصی لے دے ہوئی ۔ مسلم لیگ ن قومی اسمبلی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بعض شرکاء نے میاں محمد نواز شریف کے اس انٹرویو اور ریاست کے دائمی اداروں کے بارے میں اُن کے اختیار کردہ مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ میاں محمد نواز شریف اپنے اختیار کردہ مؤقف اور اداروں کے بارے میں آئے روز دئیے جانے والے مخالفانہ بیانات سے اجتناب برتیں۔ ارکان نے میاں شہباز شریف سے تمام صورتحال میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ہماری آواز سُننی ہو گی۔ میاں محمد نواز شریف کے بیانیے نے اداروں میں تصادم کی فضا کو بڑھا دیا ہے جس سے ملک اور پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے اورالیکشن مہم کے لیے ماحول ہمارے لیے ساز گار نہیں رہا ہے۔ بعض مسلم لیگی ارکان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی متنازعہ صحافی کو نواز شریف سے ملوایا وہ غدار ہے ایسے شخص کی نشاندہی کر کے اُسے پارٹی سے باہر کیا جائے ۔ میاں شہباز شریف نے بھی ارکان کے رد عمل کے جواب میں میاں محمد نواز شریف کے انٹر ویو کروانے والے کو سب سے بڑا دشمن قرار دیا اور کہا کہ وہ میاں نواز شریف کو (اجلاس کے ) ارکان کے تحفظات بتا کر کے بیانیہ نرم کرنے کے لیے کہیں گے۔
ہفتہ قبل پچھلی جمعرات کو مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے انعقاد اور اُس میں بعض سینئیر پارٹی ارکان اور وفاقی وزراء کی طرف سے میاں محمد نواز شریف کے متنازعہ انٹر ویو کی مخالفت اور اُس سے اظہار بریت کے باوجود دیکھنا یہ ہے کہ کیا میاں محمد نواز شریف کے بیانیے میں کوئی تبدیلی آئی ہے کہ بدھ کو میاں محمد نواز شریف کے پنجاب ہاؤس اسلام آباد پریس کانفرنس میں پڑھے جانے والے بیان کو سامنے رکھا جائے تو کہنا پڑتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کچھ عرصہ قبل سے اختیار کردہ اپنی پالیسی اور بیانیے پر بدستور قائم ہی نہیں ہیں بلکہ اُنہوں نے چند دن قبل ایک اجلاس سے خطاب کے دوران جو یہ کہا تھا کہ بہت کچھ برداشت کر لیا مگر اب خاموش نہیں رہوں گا اس پر بھی مکمل طور پر کار بند ہو چکے ہیں ۔ گویا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نہ صرف اپنے بیانیے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ اپنے ادوارِ حکومت میں اپنی پالیسیوں کی وجہ سے بعض حکومتی اور ریاستی اداروں اور اُن کی ذمہ دار شخصیات کی طرف سے جس طرح کے دباؤ اور مشکل حالات و واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ اُن کو بھی پورے سیاق وسباق اور پس منظر اور پیش منظر کے ساتھ سامنے لانا چاہتے ہیں ۔ بدھ کو اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس کی پریس کانفرنس میں انہوں نے جو کچھ کہا اسے اس کا مظہر کہا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف مقدمات کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سر جھُکا کر نوکری کرنے سے انکار کر دیا۔ مشرف کے خلاف غداری کامقدمہ میرا جرم بنا ۔ میں نے اپنے گھر کی خبر لینے اور حالات ٹھیک کرنے پر اصرار کیا ، خارجہ پالیسی کو قومی مفاد کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ میرا وجود کچھ معاملات میں رکاوٹ بن رہا ہے اس لیے مجھے منصب اور پارٹی سے ہٹانا ، عمر بھر کے لیے نااہل قرار دے ڈالنا اور سیاست کے عمل سے خارج کر دینا ہی واحد حل سمجھا گیا۔
بدھ کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے جو مسودہ (بیان) پڑھ کر سنایا ، وہی مسودہ ہے جو انہوں نے احتساب عدالت میں اپنے تحریری بیان میں پیش کیا تھا۔ راقم کی انتہائی مصدقہ اطلاع کے مطابق میاں صاحب کا یہ بیان یا مسودہ پچھلے ہفتے جمعرات کو تیار ہو گیا تھا اور میاں صاحب اختتامِ ہفتہ (زیادہ امکان تھا کہ پچھلے جمعتہ المبارک یا ہفتہ کے روز) اسے میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر اسے مؤخر کر دیا گیا۔ خیر حقیقت کچھ بھی ہو یہ تحریری بیان خاصا طویل ہے جس میں اُنہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے ، اپنے خلاف قائم مقدمات، ریفرنسسز ، اپنی نااہلی اور پارٹی صدارت سے فراغت کے اسباب و محرکات اور پس منظر پر روشنی ڈالی ہے اور کہا ہے کہ ان سے میں ہی نہیں پوری قوم اچھی طرح آگاہ ہے اور مقدمات کا کھیل کھیلنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرے نامہ اعمال کے اصلی جرائم کیا ہیں۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے بیان میں جہاں مسلم لیگ ن کی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کرنے کا ذکر کیا ہے وہاں اس ضمن میں مقتدر اداروں کی طرف سے انہیں جس دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے اُس کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے بیان میں عمران خان اور طاہر القادری کے 2014 کے اسلام آباد دھرنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِدھر مشرف کے خلاف مقدمے میں تیزی آئی اُدھر اسلام آباد میں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کا منصوبہ بنا۔ عمران خان اور طاہر القادری کے منہ میں وزیرِ اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ ڈالا گیا اور چار ماہ تک اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔ عمران خان کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ بس ایمپائر کی انگلی اُٹھنے والی ہے ۔ ایمپائر کون تھا اور اُس کی پُشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی قوم اس کو اچھی طرح جانتی ہے ۔ میاں محمد نواز شریف نے بتایا کہ ان دھرنوں کے دوران ایک ایجنسی کے سربراہ کا پیغام مجھے پہنچایا گیا کہ میں مستعفی ہو جاؤں اور اگر یہ ممکن نہیں تو طویل رُخصت پر چلا جاؤں۔ اس پیغام سے بے حد دُکھ پہنچا مجھے رنج ہوا کہ پاکستان کس حال کو پہنچ گیا ہے ۔ عوام کی منتخب حکومت اور اُس کے وزیرِ اعظم کی پس اتنی توقیر رہ گئی ہے کہ اُس کے براہِ راست ماتحت ادارے کا ملازم اپنے وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونے یا طویل رخصت پر چلے جانے کا پیغام بھیج رہا ہے ۔
میاں محمد نواز شریف نے بیان میں اپنے خلاف دائر ریفرنسسز کے حوالے سے کہا کہ ان کی حقیقت اب تک کھل چکی ہو گی ۔ استغاثہ کا کوئی بھی گواہ میرے خلاف اپنے الزامات کا کوئی ادنیٰ سا ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کے استغاثہ کے گواہوں نے بھی عملاً میں مؤقف کی تائید کی ہے ۔ پانامہ پیپر میں کئی ممالک کے ہزاروں افراد کے نام آئے ۔ مجھے نہیں معلوم کے ساری دنیا میں اس بنیاد پر کتنے افراد کے خلاف مقدمے بنے اورکتنے افراد کو سزائیں ملیں ۔ پانامہ کے نام پر یہ سب کچھ صرف ایک ایسے شخص کے خلاف ہوا جس کا نام محمد نواز شریف ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے پریس کانفرنس میں پڑھے گئے اپنے بیان میں اور بھی بہت ساری باتوں کا ذکر کیا ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ براہ راست عوام کی عدالت میں پیش کرنے کا جو لائحہ عمل اپنائے ہوئے ہیں اُسے بدستور جاری ہی نہیں بلکہ زیادہ زور شور سے جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف کے اس اندازِ فکر اور لائحہ عمل کی جہاں عوامی سطح اور پارٹی کی صفوں میں اکثریت کی طرف سے پذیرائی ہو رہی ہے وہاں پارٹی کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کی مخالفت یا کم از کم اس کے بارے میں تحفظات کا اظہار بھی سامنے آ رہا ہے۔ یہ صورتحال کس حد تک مسلم لیگ ن کے مفاد میں ہے اور دو ماہ بعد ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن اس صورتحال کے ساتھ کیسے شریک ہوتی ہے اور اُسے کس حد تک کامیابی ملتی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت بشمول میاں محمد نواز شریف کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے اور یہ بھی دھیان میں رکھنا چاہیے کہ مئی 2013ء کے بعد پُلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی ہی نہیں بہہ چکا ہے بلکہ برسرِ زمین حقائق میں بھی بعض تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔


ای پیپر