رمضان: گیارہ ارب کی لاپتا سبسڈی
25 مئی 2018 2018-05-25

قدرت اللہ شہاب نے اپنی مشہور کتاب شہاب نامہ میں ایک واقعہ رقم کیا ہے کہ جب وہ ڈپٹی کمشنر جھنگ تعینات تھے تو ان کے دفتر میں ایک ضیف العمر بیوہ خاتون اپنا مسئلہ لے کر آئی کہ وہ زرعی زمین کا انتقال کرانا چاہتی ہے مگر پٹواری بھاری رشوت طلب کرتا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ انہوں نے سائلہ کو اپنی جیپ میں ساتھ بٹھایا اور اس کے گاؤں روانہ ہو گئے جو ان کے آفس سے 60 میل دور تھا وہاں جا کر انہوں نے پٹواری کو حاضر کر لیا اور رشوت مانگنے کی وجہ پوچھی پٹواری بھاگ کر اندر گیا وہاں سے قرآن اٹھا لایا اور سر پر رکھ کر اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے اس مائی سے کوئی رشوت طلب نہیں کی گاؤں کے لوگ جمع تھے کسی نے ڈپٹی کمشنر کو کہا کے پٹواری نے کپڑے میں لپیٹی جو کتاب سر پر رکھی ہے اسے کھولا جائے جب کھول کر دیکھا گیا تو اس میں قرآن مجید کی بجائے پٹوار خانے کا رجسٹر رکھا تھا۔
گزشتہ سال ہمیں اپنی کچھ پراپرٹی کے ریکارڈ کے سلسلے میں علاقہ پٹواری کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ رمضان کا مہینہ تھا پٹواری کے ماتحتوں نے بتایا کہ وہ عید کے بعد مل سکتے ہیں کیونکہ حکومت پنجاب نے رمضان بازاروں کی مانیٹرنگ کے لیے پٹواری صاحب کو وہاں تعینات کیا ہے۔ ہمارا کام ضروری تھا ہم نے سوچا رمضان بازار جا کر وہاں پٹواری سے بات کر لیتے ہیں چنانچہ پٹواری کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم رمضان بازار پہنچ گئے جہاں کا سارا نظام پٹوار خانے کے بل بوتے پر رواں دواں تھا۔ فلور ملوں سے جو آٹا کے ٹرک آتے تھے ان کا حساب کتاب اور ان کی فروخت کا سارا دارو مدار کپڑے میں لپٹے اُس رجسٹر میں درج تھا جو بوقت ضرورت جھوٹی قسم اٹھانے کے لیے قرآن مجید کا کام دیتا ہے۔ ککڑیوں کی حفاظت گیدڑ کو رکھوالی سپرد کرنے کا جو محاورہ ہم بچپن سے سن رہے تھے اس کا عملی مفہوم ہمیں رمضان بازار میں سمجھ آیا کہ اربوں روپے کی سالانہ سبسڈی کے باوجود اشیائے خورو نوش سستی ہونے کی بجائے مہنگی ہو رہی ہیں تو وہ پیسہ کہاں جاتا ہے؟
پنجاب حکومت نے گزشتہ سال رمضان میں 19 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا جس کی میڈیا میں بڑی مشہوری تھی اس میں چینل اور اخبارات کی پبلسٹی کی مد میں کروڑوں روپے ادا کیے گئے وہ اسی فنڈ سے تھے شہر میں جگہ جگہ جو بڑے بڑے فلیکس اور بل بورڈ کادم اعلیٰ کی تصویر کے ساتھ جلوہ افروز تھے وہ بھی اسی فنڈ سے تھے اور صوبائی وزیر خوراک سرکاری ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر صوبے کے 36 اضلاع کے 318 رمضان بازاروں اور ماڈل بازاروں کا دورہ کرتے تھے اس کا خرچہ اور پروٹوکول کا خرچہ بھی رمضان سبسڈی ادا ہوتا تھا۔ خلق خدا چیختی چلاتہ رہ گئی کہ رمضان بازاروں کی قیمتیں عام مارکیٹ سے زیادہ اور اشیائے خوراک کی کوالٹی نہایت گھٹیا اور مضر صحت ہے لیکن خادم اعلیٰ کے ساؤنڈ پروف دفاتر میں اس کی بازگشت نہ پہنچ سکی۔
اس سال پنجاب حکومت نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود حالیہ رمضان میں سبسڈی پیکیج میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ اسے گیارہ ارب کر دیا ہے لیکن زمینی صورت حال پہلے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن ہے۔ اس رمضان کا آغاز ہوا تو برائلر چکن اور سیب کی قیمتوں نے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی یقینی ان دونوں کی قیمت ملکی تاریخ میں پہلی بار 300 روپے فی کلو کا پہاڑ جیسا سنگ میل عبور کر گئی باقی اشیاء کا بھی یہی حال ہے لیکن اس دفعہ کا رمضان گزشتہ سال سے مختلف ہے کیونکہ نہ تو ٹی وی اور اخبارات میں سبسڈی پیکیج کے اشتہارات ہیں اور نہ ہی خادم اعلیٰ کی تصاویر۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس پیکیج کے بارے میں عوام کو آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ پٹواریوں اور دیگر سرکاری کارندوں کو پہنچ رہا ہے ان کے لیے واردات کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ سب سے زیادہ سبسڈی آٹے پر ہوتی ہے جو 20 سے 25 روپے فی کلو ہے۔ اس سبسڈی کا بڑا حصہ اہل کاروں کی ملی بھگت سے خورد برد ہوتا ہے اور یہ رقم خود رو چشموں کی طرح اپنا راستہ بناتی ہوئی جہاں سے چلتی ہے واپس وہیں پہنچ جاتی ہے اور عوام ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ گزشتہ سال سے اشیائے خورو نوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں سے نپٹنے کے لیے عوام نے سوشل میڈیا کی مدد سے ایک نیا حربہ شروع کر دکھا ہے کہ مہنگی اشیاء کا بائیکاٹ کرو۔ یہ گزشتہ سال بھی ہوا تھا اور اس سال بھی ہو اہے اس کو کچھ نہ کچھ کامیابی بھی ملی ہے لیکن اس کا فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ کیا حکومت اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ منافع مافیا کو کنٹرول نہیں کر سکتی اور حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عوام اپنے مسائل اپنی مدد آپ کے تحت بائیکاٹ کو ہتھیار بنا کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اگر یہ سوچ جاری رہی تو اگلے مرحلے میں عوام خود ہی پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنا کر گراں فروشوں کو سزا دینا نہ شروع کر دیں۔ اس سارے معاملے میں حکومت کہاں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت انتظامی فرائض کے علاوہ سب کچھ کر رہی ہے اعلیٰ عدالتوں عوامی جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں حکومت کا بول بالا نظر آتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کنزیومر اعدالتیں کام کر رہی ہیں جس کا ڈھانچہ ضلعی سطح پر مرتب کیا گیا ہے لیکن یہ ایک مضحکہ خیز امر ہے کہ ان عدالتوں کے مینڈیٹ سے مہنگائی کا عنصر باہر رکھا گیا ہے یہ ہماری بیوروکریسی کی سازش ہے۔ کنزیومر عدالتیں صارفین کو ناقص مال کی فراہمی پر شنوائی کرتی ہیں جس کے تحت مدعی کو باقاعدہ درکواست دینی پڑتی ہے اور خریداری کا ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے یہ نہ تو چھاپہ مار سکتی ہیں اور نہ ہی از خود نوٹس لے سکتی ہیں۔ سول سروس کے ڈی ایم جی گروپ نے مہنگائی اور اوور پرائنس کا معاملہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے تا کہ اس پر کھل کر سودے بازی ہو سکے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ پٹرول 2 روپے مہنگا ہو تو بین الاضلاعی کرایہ 25 روپے بڑھ جاتا ہے یہ سارا اس منتھلی کا کمال ہے جو ٹرانسپورٹر حضرات بڑی ایمانداری سے متعلقہ افسران تک اس طرح پہنچاتے ہیں کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے۔ بیورو کریسی بہتر طرز حکمرانی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس وقت تربوز کی قیمت 25-20 روپے کلو ہے۔ اگر آپ ایمانداری کے ساتھ تربوز کے مارکیٹ Chain کا مطالبہ کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس 25 روپے میں کاشتکار کو 5-6 روپے ملتے ہیں باقی رقم مڈل مین ٹرانسپورٹر، آرھتی اور منڈی مافیا کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ ہر چیز کا یہی حال ہے۔ جتنی مہنگائی اس وقت ملک میں چل رہی ہے یہ ساری کی ساری مصنوعی طور پر پیدا کی گئی ہے۔ محض اس وجہ سے کیونکہ سیاسی قیادت اسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے اور اس کی چشم پوشی ضلعی انتظامیہ کے لیے اپنا حصہ وصول کرنا کا موقع دیتی ہے جس کے بعد منڈی مافیا کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں رہنے والا ہر شخص ظالم بھی آپ غریب ریڑھی فروش کی مثال لے لیں جس پر پورے معاشرتی نظام نے ظلم کر کر کے اس کی یہ حالت کر دی ہے لیکن جب وہ صبح ریڑھی بھر کر منڈی سے نکلتا ہے تو وہ 10 روپے کی چیز 20 روپے سے کم فروخت پر کسی طرح آمادہ نہیں وہ ڈبل منافع چاہتا ہے اور منہ مانگی قیمت وصول کرتا ہے۔ مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا گردشی شکر ہے جس میں سب پس رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کو زخم لگا رہا ہے۔
دنیا بھر میں کرسمس کے موقع پر پھول اور چاکلیٹ سستے ہو جاتے ہین تا کہ غریب لوگوں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کیا جا سکے لیکن مسلمان ممالک میں یہ کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ ہم اس نبی صلعم کے ماننے والے ہیں جو اپنا افطار کا کھانا اٹھا کر فقیر کو دے دیتے تھے اور خود نمک سے روزہ افطار کر لیتے تھے۔ روزہ صبر اور تکلیف کو اپنی رضا سے برداشت کرنے کا نام ہے۔ ہمارے علماء و مشائخ اور نعت خواں جو رمضان کے مہینے کو کمائی کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں وہ عام آدمی کو رمضان کے اصل مفہوم کی ترجمانی سے قاصر ہیں۔ اقبالؒ نے کہا تھ اکہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ اس پر آشوب ماحول میں امید کا دامنا ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ڈی پی ایس سکول چکوال کی ساتویں جماعت کی ایک ہونہار طالبہ علینہ احسان نے ایک نعت لکھی ہے اس میں وزن اور ردیف و قافیہ سے قطع نظر غور ، فکر اور عشق رسول کی گہرائی آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے گی کہ اتنی چھوٹی عمر اور اتنی بڑی بات ماشاء اللہ ۔
پیارا نبیؐ ہے میرا۔۔۔سہارا نبیؐ ہے میرا
آپؐ ہی نے ہمارے دلوں میں اسلام کا دیا جلایا
آپؐ ہی نے ہمیں مضمون اخوت کا پڑھایا
پیارا نبیؐ ہے میرا۔۔۔سہارا نبیؐ ہے میرا
کی ہے سب کی مدد میرے نبیؐ نے
بتایا ہے سب کو پیغام حق میرے نبیؐ نے
پھر دنیا میں بج اٹھا اسلام کا نقارہ
پھر چمکا لوگوں کے مقدر کا ستارہ
پیارا نبی ہے میر۔۔۔اسہارا نبی ہے میرا
(علیہ احسان)


ای پیپر