مقبوضہ کشمیر : پاکستان کا کو رایشو
25 مئی 2018 2018-05-25

ہر کوئی مانا اور جانتا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا خطے میں کشمکش، تناؤ،تصادم اور کشیدگی کی فضا برقرار رہے گی۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی کسی بھی مذاکراتی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیا ۔ پاکستان کا مطالبہ رہا ہے کہ غاصب اور قابض بھارت کے جنگی جنونی حکمران کشمیر کے حریت پسند عوام کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دیں۔ اگر بھارت اب بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے تو پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے بھارت کے ساتھ ہر تجویز زیرغور لانے کیلئے تیار ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کا عزم ہے کہ وہ کشمیریوں کو جائز حق دلا کر رہیں گے، کشمیری شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ایک دنیا جانی ہے کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اٹوٹ رشتہ ہے جو دن بدن مضبوط ہورہا ہے۔ نیز کشمیر میں حریت پسندوں کی تحریک بھی عروج پر ہے ۔ ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کے لیے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عالمی برادری اور عالمی اداروں کو کشمیریوں کے زخم پر مرہم رکھنے سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے۔ منتخب حکمرانوں کا فرض اولیں تھا کہ وہ ہر عالمی پلیٹ فارموں پر ان کے حق میں آواز بلند کرتے اور عالمی اداروں کو مجبور کرتے کہ وہ کشمیر میں اقوم متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرانے کے لیے پاکستانی کوششوں میں تعاون کرتے ۔
یوں تو ہر سال پاکستان اور آزاد کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس عزم کی تجدید کی جاتی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جدوجہد میں برسرپیکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت بھرپور طریقے سے جاری رکھی جائے گی۔ملک کے طول و عرض میں یوم یکجہتی کشمیر مناکرپاکستا نی عالمی برادری کو پیغام د یتے ہیں کہ کشمیر ی حریت پسند آزادی کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں پوری پاکستا نی قوم غاصب بھارت کے خلاف کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔ ان کے نزدیک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادت، حریت پسند قیادت کو پابندسلاسل کرنے اور گھروں، مارکیٹوں و دیگر املاک کی تباہی کے باوجود کشمیری قوم کا بھارت کے خلاف تحریک جاری رکھنا قابل تحسین واضح پیغام ہے کہ وہ بھارت کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے سفارت خانوں میں بھی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کیا سیاسی قیادت کو یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جسے ازلی دشمن بھارت کے پنجے سے چھڑانے کے لیے اسے کشمیریوں کی سیاسی ، سفارتی اور عسکری حمایت مقبوضہ کشمیر کی ٓزادی تک جاری ر کھنا چاہیے۔ بزرگ کشمیری رہنما اور حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی گیلانی نے ا یک موقع پر کہا تھاکہ’ کشمیری عوام کو اپنی آزادی سے زیادہ پاکستان میں امن و استحکام کی فکر ہے کیونکہ جب تک پاکستان مضبوط نہیں ہوگا اس وقت تک وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی اپنا مناسب کردار ادا نہیں کر سکتا، مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے علاوہ کشمیر کا کوئی حل تسلیم نہیں کریں گے‘۔ جنوب مشرقی ایشیا کے بے لاگ دانشوروں کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ کشمیریوں نے آگ اور خون کے دریا عبور کر لیے آزادی کی منزل قریب ہے کشمیریوں کی آزادی کی اس منزل کو دنیا کی کوئی طاقت کھوٹا نہیں کر سکتی،کشمیریوں نے لاکھوں شہداء کی قربانی پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ آزادی سے کم کوئی حل قبول نہیں کریں گے۔ وہ اس امر پر اظہار طمانیت کر رہے ہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے کشمیریوں کی حمایت میں قرارداد منظور کی ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اصولی مؤقف پر ڈٹے رہنا اور کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھنا اہل پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ مریم ریڈلے نے درست کہا کہ’ اس وقت امت مسلمہ شدید مسائل سے دوچار ہے، بدقسمتی ہے کہ مصر اور مقبوضہ کشمیر سے اٹھنے والی بچوں و خواتین کی چیخیں اقوام متحدہ کے کانوں تک نہیں پہنچتیں‘۔اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داریاں اسی سنجیدگی سے ادا کرنا ہوں گی جس کا مظاہرہ اس نے ایسٹ تیمور اور ڈارفر کی آزادی کے لیے کیا تھا۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار دادیں اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت کی کارکردگی ناقص اور غیر معیاری رہی۔ اس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں کو پاکستان نواز حلقوں سے اپیل کرنا پڑ ی کہ وہ حکومت پاکستان سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دوران کشمیر اولین ترجیح کیوں نہیں ہوتا،ہماری قربانیاں محض اس لیے نہیں تھیں کہ پاکستان اور بھارت تجارتی معاملات حل کریں، صحیح طریقہ یہ ہے کہ بات چیت میں کشمیریوں کی مسلمہ قیادت کو بھی شامل کیا جائے‘۔ یہ امر بھی لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان کے دیرینہ حمایتی سید علی گیلانی بھی پاکستان کی کشمیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر کو چھوڑ کر فروعی معاملات پر بھارت کے ساتھ دوستی کرنے سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے خطے میں بدامنی پھیل سکتی ہے‘۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے کشمیر یوں کی تیسری نسل جدوجہد کررہی ہے اور بھارتی افواج کے ساتھ جدوجہد میں کشمیریوں نے جو جانی ومالی قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان حکمرانوں کو جن کی حکومت ایک ہفتے کے بعد ختم ہو رہی ہے اس امر کا ادراک ہوناچاہیے تھاکہ کشمیر جس طرح مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کا بنیادی مسئلہ ہے، اسی طرح پاکستان کا بھی کور ایشو ہے۔ یہ تلخ سچ پیش نظر رہے کہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریا بھارت کے قبضے میں ہیں اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہو ا تو پاکستان میں پانی کا قحط پڑ سکتا ہے۔بھارت آبی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کاپانی روک کر پاکستانی دریاؤں پر 42 ڈیم خلافِ معاہدہ بنارہاہے۔ اس جارحیت کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے۔ستم بالائے ستم یہ کہ ہندوستان کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری پر دیوار کی تعمیر کا عمل جاری ہے اور اس لائق نفریں عمل کا مقصد جموں کشمیر کو مستقل بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس حکومت سے پاکستان کے شہری حلقوں کا مطالبہ تھا کہ ورکنگ با ؤنڈری پر دیوار کی تعمیر کے خلاف وہ عالمی پلیٹ فارموں پر اپنا احتجاج ریکارڈ پر لائے، لیکن انہوں نے تمام عرصے اپوزیشن کی راہ مسدود کرنے کے سیاسی حربوں میں گزاردیا۔ عالمی اور سفارتی سطح پر بھارت سے نبرد آزما ہونے کے بجائے وہ عمران خان کی کی کردار کشی میں مصروف رہے۔ وہ بھول گئے کہ آزادی کشمیر ہی اصل میں تکمیل پاکستان ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر بھارتی حکمرانوں سے مذاکرات ضرور کئے جائیں لیکن واضح رہے کہ کشمیری عوام کی قیادت کو مذاکرات میں شامل کئے بغیر کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔


ای پیپر