ووٹرز کا لہو گر مانے کے لئے نفرت درکار ہے
25 مئی 2018 2018-05-25

روزنامہ عبرت لکھتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی علیحدہ صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت ڈالنے کے جملے کے بعد ایم کیو ایم ( پاکستان) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے ایم کیو ایم کے اراکین کو جواب دیا ۔ اور کہا کہ جن لوگوں نے کھلے دل کے ساتھ آپ لوگوں کا استقبال کیا آپ نے ان کی تذلیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں الگ صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر ہم لعنت بھیجتے ہیں۔ اس بات کو بنیاد بنا کر ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنسیں کی اور قومی اسمبلی میں بھی شور مچایا۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ علحدہ صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے والوں کو برابر کا سندھی نہیں مانا گیا، اور نہ ہی انہیں حقوق دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چیلینج نہ کیا جائے کہ ہم جنوبی سندھ کا الگ صوبہ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے اس جملے پر معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم رہنماؤں کے درمیان شروع ہونے والی الفاظ کی جنگ پر لوگوں کو اس وجہ سے بھی حیرانی نہیں کہ اب انتخابات سر پر ہیں۔ دونوں پارٹیوں کو اپنے ووٹرز کا لہو گرم کرنے کے لئے اس طرح کے ایشو درکار ہیں تاکہ ووٹرز کو خوف میں مبتلا کر کے اپنی جیت کو یقینی بنایا جائے۔ پیپلزپارٹی نے کم، لیکن ایم کیو ایم نے ہمیشہ اس طرح کے جھگڑوں کا فائدہ حاصل کیا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خوف کا فائدہ ہمیشہ حاصل نہیں ہوتا۔ ایک روز اس کا بھی خاتمہ ہونا ہے ۔ گزشتہ برسوں کے اقدامات کے بعد یہ امید ہو چلی تھی کہ اب ایم کیو ایم عوام کے مسائل کو بنیاد بنا کر اپنا سیاسی سفر جاری رکھے گی۔ ماضی کی کوتاہیوں کے ازالے کے طور پر لسانی نفرتوں سے ہمیشہ کے لئے دستبردار ہو جائے گی۔ شاید یہ ممکن نہیں رہا کہ جو ہاتھ لوٹ مار اور قتل کے عادی ہوں ، وہ خیر کی دعا کے لئے آسمان کی طرف اٹھیں۔ یہی المیہ ایم کیو ایم کے لوگوں کا ہے ۔ سید خورشید احمد شاہ نے بہت ہی بروقت اور مثبت بات کہی کہ ہم اردو بولنے والوں کو سندھی سمجھتے ہیں، ہم ان کے خلاف نہیں بات کر سکتے۔ باقی جو سندھ یا ملک کو توڑنے کی بات کرے گا وہ لعنتی ہوگا۔
تقسیم کے بعد انڈیا سے آنے والوں کو مہاجر کہا جاتا تھا۔ جو لگ بھگ ملک کے ہر حصے میں جاکر آباد ہوئے۔ لیکن اکثریت نے سندھ اور پنجاب میں رہائش اختیار کی۔ انڈیا سے پنجاب میں آکر بسنے والوں نے خود کو پنجابی کہلانا شروع کیا، لیکن سندھ میں آکر بسنے والے آج تک خود کو مہاجر سمجھتے ہیں اور کہلاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تقسیم کے بعد یہاں منتقل ہونے والوں کی اکثریت اب اس مٹی میں مدفون ہے ۔ جو ابھی تک بقید حیات ہیں، وہ سندھ کے لوگوں کی مہمان نوازی اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی تعریف کرتے ہیں۔ نہ صرف اتنا بلکہ انہوں نے اپنی پہچان کو اس طرح ضم کردیا کہ اب یہ شناخت کرنا مشکل ہوگا کہ وہ انڈیا سے آکر یہاں بسنے والے ہیں یا پرانے سندھی ہیں۔ ان کی اولاد سندھ میں پیدا ہوئی، پروان چڑھی، دریائے سندھ کا پانی پیا، سندھ کے کھیتوں کا اناج کھایا، پھر بھی مہاجر کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس طرح سے دنیا کے دیگر ممالک سے آکر یہاں بسنے والے سندھی ہو گئے، اسی طرح یہ یہ برادران بھی خود کو سندھی سمجھتے، سندھی کہلاتے ۔ لیکن ایک نام نہاد احساس برتری نے انہیں ایسا کرنے سے روکے رکھا۔ ضیاء کے مارشلائی دور نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے سندھ میں جاری ہلچل کے آگے پل باندھنے کے لئے لسانیت کو ہوا دی۔ اس لسانیت کی آگ تاحال کسی نہ کسی شکل میں جلتی رہتی ہے ۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اس نفرتوں کی آگ نے پہلے ہی ہم سے بہت کچھ چھینا ہے ۔ یہ نفرتیں سندھ اور اس کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کو دوبارہ ابھار کر لوگوں کی زندگی زہر کرنا کسی طور پر بھی دانشمندی نہیں ۔
سندھ میں تعلیم کی بربادی کی ’’سرکاری تصویر کشی‘‘ کے عنوان سے روز نامہ کاوش لکھتا ہے کہ گزشتہ دس سال سے مسلسل پیپلزپارٹی کی حکومت رہی ہے ۔ اس دس سالہ دور میں تمام شعبوں اور خاص طور پر تعلیم کو کھڈے لائن لگایا گیا۔ صوبے کے اندر سرکاری شعبے میں تعلیم پہلے ہی تباہ و برباد تھی، حکمرانی کے حالیہ عشرے میں یہ تباہی عروج کو پہنچ گئی۔ لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ احسن کارکردگی کے دعویٰ میں کوئی وقفہ دینے کو تیار نہیں۔ عام خلق کو کیا مجال کہ وہ اس ’’ اعلیٰ کارکردگی‘‘ پر انگلی اٹھانے کی گستاخی کرکے جمہوریت کے خلاف سازش کی مرتکب ہو؟ یہ حکومتی ادارے ہیں جو وقفے وقفے سے منتظمین کی پیش کردہ طلسمی تصویر کے بجائے حقیقی روپ ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ محکمہ تعلیم کے مانیٹرگ سیل نے جاری کی ہے ۔ سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کو پیش کی گئی یہ رپورٹ منتظمین کے خلاف کسی چارج شیٹ سے کم نہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 48677 سکولوں میں سے 12594 سکول ( یعنی 26 فیصد ) بند ہیں ۔ کل ایک لاکھ چالیس ہزار اساتذہ میں سے 23 ہزار اساتذہ غیر حاضر ہیں ، 1928 مستقل غیر حاضر ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزیر تعلیم مہتاب ڈہر نے سندھ اسمبلی میں اعتراف کیا ہے کہ 14 ہزار سکول ، جو کہ کل تعدا کا تقریبا تیس فیصد ہے ، واش روم سے محروم ہیں۔ محکمہ تعلیم کی کارکردگی کی رپورٹ سندھ حکومت کی گڈ گورننس کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔
سندھ میں تعلیم کی روزبروز پستی کی اصل وجہ انتظامی ہے ۔ انتظامی طور پر کرپشن کے لئے سازگار ماحول بنایا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دس سالہ دور حکومت کے اختتام پر بھی 12 ہزار سکول بند ہیں۔ یہ سکول کھلوانے میں ناکامی، نااہلی کی ناقابل تردید مثال ہے ۔ چھبیس فیصد سکول بند ہونا عوامی مینڈیٹ کی توہیں نہیں؟ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے ۔ ایمرجنسی میں یہ صورت حال ہے ، اس سے منتظمین کی تعلیم کے بارے میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ سکول تاحال بھوتاروں کے کھاد، زرعی ادویات یا اناج کے گودام بنے ہوئے ہیں۔ گھوسٹ ٹیچر محکمے افسران کو ماہانہ رقم کی ادائیگی کے عوض سکولوں سے برسوں سے غائب ہیں۔ لیکن وہ تنخواہ بھی وصول کر رہے ہیں اور ملازمت بھی برقرار ہے ۔ صوبے سکول یا بند ہیں یا جو کھلے ہوئے ہیں وہاں اساتذہ بچوں کو پڑھانے کے لئے تیار نہیں۔ حکمرانوں کی اس کارکردگی کو سندھ کی آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی۔


ای پیپر