رمضان المبارک اور خیبرپختونخوا
25 مئی 2018 2018-05-25

صوبے کے اندر رمضان المبارک میں 350عبادت گاہوں کو حساس قرار دیاگیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سفارشات کی روشنی میں 250 عبادت گاہوں کو حساس اور سو کے قریب عبادت گاہوں کو حساس ترین قرار دیا گیا حساس ترین عبادت گاہوں پرسکیورٹی بھی بڑھا دی گئی پشاور ،کوہاٹ،ہنگو،ڈیرہ ا سماعیل خان،ٹانک،بنوں،پارہ چنار، نوشہرہ، قرم ایجنسی سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں عبادت گاہوں کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے ۔دوسری طرف کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ مہنگا فروٹ بھی بازاروں میں دوکانوں کی زینت بنا ہوا ہے لوڈشیڈنگ سے عوام الگ پریشان ہیں۔ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اپنے ساتھ اللہ کی طرف سے رحمتیں لاتا ہے علماء اکرام کی زبانی عبادتوں کا ثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے اللہ کی رحمت کا مہینہ ہے بحیثیت مسلمان اگر ہم اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے بارے میں سوچیں تو سوچنے کا اندازہ ختم ہو جائے گا لیکن اللہ کی نعمتیں ختم نہیں ہونگی۔ رمضان المبارک جہاں اللہ کی رحمتیں وبرکتیں لاتا ہے وہاں انسانیت کو جینے کا اندازبھی سیکھاتا ہے اپنی خواہشات اور ضروریات میں فرق سکھاتا ہے انسانیت کی قدراور غریبوں کا احساس سکھاتا ہے سب سے بڑھ کر مسلمان کو حق پر کھڑا ہونے کی اور آزمائش پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتا ہے اور انسان کو بدل دیتا ہے۔عبادات قبول ہونے کی صورت میں اگلے جہان میں بھی جنت کو یقینی بناتاہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ مہینہ تو اپنے ساتھ رحمتیں لاتا ہے لیکن ہم اس مہینہ میں بھی اپنی اصلاح اور گناہوں پر ندامت کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی سے گناہ کرتے رہتے ہیں اور روزے دار کو رعایت دینے کے بجائے ہر طرف سے لوٹتے رہتے ہیں خیبر پختونخوا کی حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود بھی ہر سال کی طرح گراں فروش اور ذخیرہ اندوز رمضان المبارک سے قبل ہی یہ مکروہ دھندہ شروع کر کے عوام کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں پھلوں ،سبزیوں اور دوسری ضرورت کی اشیاء کو روز بروز مہنگا کیا جا رہا ہے گندم چینی اور آٹے کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے مختلف مشروبات بھی عوام کی بساط سے باہر ہو چکی ہے صوبے بھر میں کہیں پہ بھی سستا رمضان بازار کا انعقاد نہیں کیا گیا شہروں میں جہاں تک یوٹیلیٹی اسٹورز کی بات ہے تو یوٹیلیٹی اسٹورز پر عوام کی ضروریات کے مطابق اشیائے ضروریہ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جس کے باعث گھنٹوں طویل قطار میں کھڑے اکثر افراد کو خالی ہاتھ اگلے دن کی یقین دہانی پر گھر لوٹنا پڑتا ہے روزے کا دورانیہ زیادہ ہونے کی وجہ سے گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کو تنگ کیا ہوا ہے اس کے علاوہ حساس اداروں کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رمضان المبارک میں لوگ مسجدوں کا رخ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن رہتے ہیں رمضان المبارک کا مہینہ نہایت برکت والا ہے مگر اس بابرکت مہینے میں بھی ہمارا نفس گناہوں کے دلدل میں پھنس چکا ہے ہم اس مہینے کو سیزن قرار دیتے ہیں اللہ رب العزت کی عبادات سے غافل ہو کر پیسے اکھٹے کرنے میں لگ جاتے ہیں ان تمام حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کچھ اقدامات حکومت کی جانب سے ہوتے ہیں اور اخلاقی طور پر کچھ ہمارے اوپر بھی لاگو ہوتی ہیں نہ حکومت کی طرف سے کوئی خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں ۔صوبائی حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کے لیے پانچ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی گرانفروشوں اورملاوٹیوں کو گرفتا ر کر کے عید کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیایعنی عید کے بعد اس کو جرم تصور نہیں کیا جائے گالیکن اس کمیٹی کے کام کرنے کاطریقہ وضح نہیں کیاگیااس کے موثر بنانے اور عوامی شکایات پر ایکشن لیتے ہوئے کاروائی کو یقینی بنانے کا طریقہ کار بھی واضح ہونا چاہیے تھااس کے ساتھ ہی اس طرح کے کنٹرول روم ہر ڈسٹرکٹ کی سطح پربنانے چاہئیں اور ان کنٹرول رومز کو صوبے کی سطح پر خصوصی مراکز کے ساتھ منسلک کرے۔ اور سستے رمضان بازار کے مراکز قائم ہونے چاہیے اور اشیاء ضروریات کی قیمتوں پر خصوصی توجہ دے لوڈ شیڈنگ پر کمی کو یقینی کو بنائیں تاکہ لمبے دورانیہ اور گرمی میں روزوں میں عوام کو سہولیات فراہم ہو سکیں۔ اس کے علاوہ حساس علاقوں کی سیکورٹی کو بھی یقینی بنا ئیں تاکہ عوام بلاخوف و خطر مساجد میں عبادات کے لیے جائیں۔ساری دنیا کے مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے تہواروں کی آمد پر پورے جوش و جذبے کے ساتھ کھانے پینے اور دیگر استعما ل کی اشیاء کے سٹال جگہ جگہ ارزاں نرخوں پر سجا دیتے ہیں تا کہ کم آمدن والے زیادہ تعداد میں ان خوشیوں میں شریک ہو سکیں لیکن بدقسمتی سے رمضان المبارک کے اس مقدس برکتوں اور رحمتوں کے مہینے کو سیزن کا نام دے کر اپنی جیبوں کو بھرنے میں لگ جاتے ہیں صوبائی حکومت کے ساتھ عوام کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ قیمتوں کے اضافہ سے گریز کریں اور صوبائی حکومت ایسے اقدامات کو یقینی بنا ئے جس سے عوام کو سہولیات فراہم ہو سکیں۔ اور عوام بھی خوش اسلوبی کے ساتھ عبادات میں لگ کر ثواب سے مستفیز ہو سکے ۔


ای پیپر